آپ سلیم شیرازی سے ملے؟ ـ مالک اشتر

سلیم شیرازی صاحب کو سب سے پہلے کہاں دیکھا تھا ٹھیک ٹھیک یاد نہیں۔ دوردرشن کے نیوز روم میں؟ دفتر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے؟ کینٹین میں چائے نوشی کی کسی مجلس کی صدارت فرماتے ہوئے؟ یا پھر ہاتھ میں فائل دبائے سر جھکائے تیز قدموں سے کہیں بڑھتے ہوئے؟ کوشش کے باوجود یاد نہیں آتا۔ اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ جب کبھی ملے چہرے پر شوخی اور مسکراہٹ کا وہ امتزاج پایا گیا کہ اداس ملاقاتی کی طبیعت بھی شگفتہ ہو جائے۔
مجھے نہیں پتہ کہ آپ سلیم شیرازی صاحب کی شخصیت کے کس پہلو سے کتنے متعارف ہیں البتہ میں تین سلیم شیرازی سے ملا ہوں۔ صحافی سلیم شیرازی، شاعر سلیم شیرازی اور زندہ دل سلیم شیرازی۔ آپ بطور صحافی، شاعر یا دوست ان سے اختلاف ضرور کر سکتے ہیں لیکن ان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان تین میں سب سے پہلے میری ملاقات شاعر سلیم شیرازی سے ہوئی۔ زی سلام چینل نیا نیا شروع ہوا تھا اور اس پر شعری نشستیں تواتر سے نشر ہوا کرتی تھیں۔ چینل والوں نے اس پروگرام کا جو پرومو تیار کیا اس میں سلیم شیرازی صاحب کا شعر پڑھتے ہوئے عکس بھی شامل تھا۔ وہ شعر تھا:
یہ صبر کی دولت اسے ورثے میں ملی ہے
بچہ میرا فاقوں کی شکایت نہیں کرتا
شعر و شاعری میں میری دلچسپی پرانی تھی اور اچھے لگنے والے شعر ایک ہی بار سن کر یاد ہو جانا عادت رہی ہے۔ یہ شعر پسند آیا اور ذہن پر چپک گیا، ساتھ ہی شعر پڑھتے ہوئے سلیم شیرازی صاحب کا چہرہ اور نام بھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان سے پہلی دوسری ہی ملاقات میں مذکورہ شعر کا ذکر کیا اور پوری غزل سنانے کی فرمائش کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک کتنی ہی بار ان کی شاعری سننے کا موقع ملا ہے۔ دہلی کی نئی شعری نسل کے بہت سے نمائندہ لوگ ان کی عزت ہی نہیں کرتے بلکہ میں نے انہیں اسٹیج سے اس بات کا اعتراف کرتے دیکھا ہے کہ انہوں نے شیرازی صاحب سے شعر گوئی کی باریکیاں سیکھی سمجھی ہیں۔
میں سلیم شیرازی صاحب کی شاعری سے تو متعارف ہو چکا تھا لیکن یہ مجھ پر نہیں کھلا تھا کہ دہلی کی شعری روایت میں ان کو کیا درجہ حاصل ہے۔ یہ بات اس رات کھلی جب دہلی اردو اکیڈمی کے ایک مشاعرے میں سلیم شیرازی صاحب کو سننے کا موقع ملا۔ اگر حافظہ دھوکہ نہیں دے رہا تو نئے پرانے چراغ کا شعری سیشن تھا جس کی نظامت اقبال اشہر کر رہے تھے۔ سلیم شیرازی جیسے بزرگ سے لیکر اظہر نواز جیسے نوجوان شعرا تک سب اپنا کلام سنا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے جانے پہچانے شعرا اپنے اشعار پر سلیم شیرازی صاحب سے خاص توجہ کی درخواست کر رہے تھے۔ شیرازی صاحب مشاعروں کی روایتی بزرگانہ شفقت سے داد دیتے رہے۔ اس دن کئی شعرا نے اسٹیج سے ہی کہا کہ انہوں نے جب شعر گوئی کی ابتدا کی تو سلیم شیرازی صاحب سے ہی اصلاح لی۔
سلیم شیرازی کی شعری زبان اور ادائیگی دونوں پر کلاسیکی رنگ خوب دیکھا جا سکتا ہے۔ اکثر مشاعروں میں دیکھا گیا کہ سامعین نے ان سے ترنم میں شعر پڑھنے کی فرمائش کی۔ ان کا ترنم خمار کے ترنم کی روایت کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ شیرازی صاحب کی شاعری میں غزلیات اور مناقب دونوں کی برابر نمائندگی ہے۔ اپنی جمالیاتی طبیعت اور دہلی و لکھنؤ کی غزلیہ روایت کے پروردہ ہونے کی وجہ سے وہ رومانی مباحث بڑے سلیقے سے باندھتے ہیں:
ممکن ہو تو رسماً ہی اک بار صدا دیجے
مجھ کو میرے ہونے کا احساس کرا دیجے
سلیم شیرازی کی غزل صرف رومانی تجربات و حوادث کا اظہار نہیں بلکہ المیوں کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کا عمل بھی ہے۔ وہ سیدھے سپاٹ لہجے میں ان مضامین کی قافیہ بندی کرکے سماعتوں کی عدالت کے سپرد کر دیتے ہیں کہ ہر ایک حسب توفیق تفہیم کرتا رہے:
اے پنچھیوں تم ہی کوئی صورت نکالنا
صیاد بھول جائے اگر جال ڈالنا
سلیم شیرازی کی شاعری نے اپنے مذہبی پس منظر اور اودھ کی عقیدتی تہذیب کا اثر یوں قبول کیا کہ بڑے جذباتی حمد و نعت، مناقب و سلام اور قطعات کا ظہور ہوا۔ سلیم شیرازی کی نعت گوئی میں یہ انفرادیت بھی رہی کہ وہ خراج عقیدت کے ساتھ ساتھ نعت کو مناجات کا رنگ بھی دیا کرتے ہیں:
تاریکی ابر یاس و الم اے ہادئ دیں کم ہو جائے
گر چشم کرم میری بھی طرف سرکار دو عالم ہو جائے
سلیم شیرازی کو قریب سے جاننے والوں کو پتہ ہے کہ معرکہ کربلا سے ان کی عقیدت ایک الگ ہی سطح پر ہے۔ واقعات کربلا کا تذکرہ کرتے ہوئے عام گفتگو میں بھی آبدیدہ ہو جانا اس سانحہ سے ان کی جذباتی وابستگی کو ظاہر کر دیتا ہے۔ ان کے سلام اور مناقب اسی کیفیت میں ڈوبے معلوم ہوتے ہیں:
کربلا میں صبر نے جوہر وہ دکھلائے کہ بس
حق کو مظلومی کے تیور اس قدر بھائے کہ بس
شاعر سلیم شیرازی سے ملنے کے بعد میری ملاقات صحافی سلیم شیرازی سے ہوئی۔ آل انڈیا ریڈیو، دوردرشن اور پریس انفارمیشن بیورو میں شیرازی صاحب نے ایک عمر گزاری ہے۔ دورزرشن نیوز میں میرا تقرر ہوا تو ان سے صحافتی تعلق پیدا ہوا۔ شیرازی صاحب زبان کے معاملے میں بڑے سخت گیر ہیں۔ ان کے خیال میں دہلی کی اردو صحافت میں جو زبان رواج پا رہی ہے اس پر ہندی کا کچھ زیادہ ہی اثر ہے۔ اس لئے وہ خبروں میں اردو کو کماحقہ برتنے کے قائل ہیں۔ حالانکہ اس معاملے میں میرا موقف ذرا مختلف رہا ہے۔ میرے خیال میں اردو میڈیا کی زبان کو ایک حد تک ہی گاڑھا رکھنا چاہئے۔ اس بات کو یقینا نہیں بھولنا چاہئے کہ زبان بازاری نہ ہو جائے اور اردو کا رنگ ہی نہ جاتا رہے لیکن یہ بھی مناسب نہیں ہوگا کہ خالص زبان کی چاہ میں اشرافیہ اور سماج کے مخصوص طبقے کے لئے ہی قابل فہم اردو پر اصرار کیا جائے۔ تصنیف و تالیف اور شعر و ادب میں اس زبان کا استعمال ہونے میں مضائقہ نہیں لیکن میڈیا جیسے عام لوگوں سے متعلق ادارے میں زبان کو ایک حد تک ہی رگڑا جا سکتا ہے۔
خیر شیرازی صاحب کی صحافتی زندگی میں جو بھی سرگرمیاں رہیں اس میں انہوں نے لکھنؤ کی تہذیبی زبان کا ہمیشہ خیال رکھنے کی کوشش کی۔ وہ کئی اردو روزناموں سے وابستہ رہے اور ہندی روزنامے ویر ارجن میں بھی کام کیا۔ شعرگوئی کے ساتھ ساتھ نثر پر بھی شیرازی صاحب کی اچھی دسترس رہی ہے۔ امیر مہدی صاحب کے ساتھ مل کر انہوں نے زہرا بیگم نامی ناول تیار کیا ہے جو ان کی نثر نگاری کا اچھا تعارف ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کے تہذیبی زوال کا نثری نوحہ کہا جا سکتا ہے۔
شیرازی صاحب کی شخصیت کا سب سے مقبول پہلو ان کی شگفتہ طبیعت اور دوستی ہے۔ عمر کے اتنے پڑاؤ پار کرنے کے باوجود نوجوانوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وہ کئی دہائیاں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ کوئی لطیفہ، کوئی مذاق یا کوئی پھڑکتا ہوا شعر اچھال کر محفل کو ہلکا پھلکا کرنا انہیں خوب آتا ہے۔ ہم جیسے نوجوان جن سے ان کی ذرا زیادہ بے تکلفی ہے ان کے لئے شیرازی صاحب کے پاس کچھ ایسے جملے لطیفے بھی ہوتے ہیں جو آواز ذرا دھیمی کرکے کہے جائیں۔
شیرازی صاحب دہلی میں لکھنؤ کے تہذیبی سفیر کی طرح ہیں۔ وہ آپ کو کسی محفل میں اچکن اور ٹوپی لگائے مسند پر بیٹھے مل جائیں گے، کسی چائے خانے کو قہقہوں سے گلزار کرتے نظر آ جائیں گے، نیشنل میڈیا سینٹر یا براڈکاسٹنگ ہاؤس آتے جاتے دکھائی دے جائیں گے یا پھر شائد کسی مجلس میں سلام پڑھتے ہوئے پائے جائیں گے۔ ان کے قریب ترین رفقا عقائد کے اعتبار سے مختلف ہوں گے لیکن دل سے ان کے عاشق ملیں گے۔ جامعہ نگر، نظام الدین اور فصیل بند شہر جیسی اردو بستیوں میں لکھنوی قدروں کا یہ امانت دار اپنی وضعداری کے سبب الگ پہچانا جاتا ہے۔