آپ سب کا شکریہ – ڈاکٹر محمد راتب النابلسی

مترجم : توقیر بھملہ

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ دنیا کے مہنگے ترین اور بہترین ہوٹلوں میں گئے مگر وہاں جا کر سوشل میڈیا پر یہ نہیں لکھا ” فلاں مہنگے ترین ہوٹل جس کا کمرہ کم از کم چھ ماہ پہلے بک کروانا پڑتا ہے، وہاں میں زندگی کے مزے لوٹ رہا ہوں”۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ دنیا بھر کی سیاحت کرتے ہیں مگر سوشل میڈیا یہ نہیں لکھتے کہ "میں فلاں ہوائی اڈے پر فلاں ملک جانے کے لیے وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھا ہوں” انہیں اپنے ساتھ جڑے دوستوں کے جذبات و احساسات کا خیال ہوتا ہے۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ دوسروں کو دکھائے اور بتائے بغیر اپنی بیوی سے سچی محبت رکھتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنی بیوی کی تصاویر لگا کر یہ نہیں کہتے کہ میں اس لڑکی کا دیوانہ ہوں ۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ آئے روز اپنے گھر میں مزے مزے کے کھانے پکاتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو بلا کر ان کی دعوت کرتے ہیں مگر اس دعوت کا چرچا سوشل میڈیا پر نہیں کرتے۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ روزمرہ زندگی میں کسی مذہبی، سماجی عالی مرتبت شخص سے ملتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس سے کوئی خطا سرزد ہورہی ہے، وہ اس خطا پر اسے نصیحت کرتے ہیں اور وہ شخص اس نصیحت سے شرمندگی محسوس کرتا ہے اور سدھر جاتا ہے۔ اور پھر وہ اس شخص کی غلطی اور اپنی نصیحت کو سوشل میڈیا پر ڈال کر واہ واہ نہیں کرواتے۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ اکثر اوقات گھر کی بجائے باہر مشہور و معروف ہوٹلوں میں عالیشان کھانے کھاتے ہیں مگر انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی میز کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈال کر خود کو ارب پتی ظاہر نہیں کرتے۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ روزانہ کی بنیاد پر غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، لیکن مساکین کو دی گئی خیرات، زکوۃ اور بھیک کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر ڈال کر نیکی کا چرچا نہیں کرتے۔

میں اس لڑکی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جسے؛اس کا شوہر یا منگیتر کوئی تحفہ دیتا ہے اور وہ اپنی کنواری سہیلیوں کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے اس تحفے کو شاعری کا تڑکا لگا شیخی بگھارنے کی خاطر سوشل میڈیا کی زینت نہیں بناتی۔

میں ان تمام امیر خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛ سوشل میڈیا پر اپنے کپڑوں کے برانڈ کے متعلق شیخیاں نہیں بگھارتے، اور دوسروں کے عام سے لباس پر لفظوں سے یا نظروں سے تنقید نہیں کرتے۔

میں ان تمام مسلمان مومنین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو؛
تنہائی میں جائے نماز پر سجدوں میں گر کر چپکے سے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جملہ عبادات کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہوئے عبادت کا اجر وثواب اپنے رب سے پانے کے امیدوار ہیں۔ نا کہ سوشل میڈیا پر دعائیہ پوسٹ لگا کر رب کو یاد کرنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔

میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ؛جنہوں نے اپنی زندگی سے صحیح معنوں میں لطف اٹھایا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو دکھانے کی پروا کیے بغیر اپنی نجی زندگی کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے اپنی حیات کے ہر لمحے سے خوشی کشید کی۔

ہمارے گھروں اور ہماری ذاتی زندگیوں کے یہ دکھاوے ہماری ذہنی پستی و افلاس اور ہمارے سماج کی تنزلی ہے۔ جہاں ہم نے "ذہنی عریانیت” کو سوشل لائف کا نام دے رکھا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*