آپ مولانا آزادنہیں، گوڈسے کاحوالہ دیجیے، پروفیسرعرفان حبیب نے گورنرعارف محمدخان کوآئینہ دکھایا

کیرالہ: کنوریونیورسٹی میں منعقدہ انڈین ہسٹری کانگریس کے 80ویں سیشن کے افتتاح میں اس وقت ہنگامہ کھڑاہوگیا جب کیرالہ کے گورنرعارف محمدخان کی تقریرکے دوران کچھ ڈیلیگیٹس احتجاج کرنے لگےـ دراصل گورنرموصوف اپنی تقریرکے دوران مجاہدین آزادی گاندھی ومولاناآزادوغیرہ کاحوالہ دے کربی جے پی حکومت کے ذریعے پاس کردہ نئے شہریت ترمیمی قانون کودرست ٹھہرارہے تھے، تبھی مجلس سے کئی لوگ کھڑے ہوکران کے خلاف احتجاج کرنے لگے اورسٹیج پرموجودمعروف مؤرخ پروفیسرعرفان حبیب نے کھڑے ہوکرعارف محمدخان سے کہاکہ آپ مولاناآزادکی جگہ گوڈسے کاحوالہ دیجیےـ گورنرکیرالہ نے بعد میں متعددٹوئٹس کرکے پروفیسرعرفان حبیب کے اس اقدام کوغیرجمہوری قراردیااورلکھاہے کہ انھوں نے مجھے اپنی رائے کے اظہارکے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی ـ جبکہ متعددذرائع سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ عارف محمدخان اپنی تقریرمیں پروگرام کے موضوع سے بالکل غیرمتعلق باتیں کررہے تھے اورانھوں نے مولاناآزادوگاندھی وغیرہ کوبھی بے موقع کوٹ کیاتھاجس کی وجہ سے حاضرین میں بے چینی پیداہوگئی اورپروفیسرعرفان حبیب نے اسٹیج سے ہی ان کی مخالفت کی، جبکہ سامعین کی ایک بڑی تعداداحتجاج کرتے ہوئے مجمع سے باہرنکل گئی ـ