آؤ آن لائن اردو سیکھیں! ڈاکٹر زمرد مغل

 

اردو پہ ستم کبھی اپنوں نے کیا اور کبھی غیروں نے، یہ بھی ایسی سخت جان ہے کہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ اپنی موجودگی کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے کروا رہی ہےـ اب اس ڈیجیٹل دنیا میں یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ اس زبان کے بغیر ایک بڑی آبادی کو اپنے اظہار کے لیے کوئی متبادل نہیں چاہیے۔ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اب اردو نہ تو دربار کی زبان ہے (آپ جانتے ہیں کہ دربار سے میری مراد کیا ہے)اور نہ ہی مدرسوں کی۔ بہت سے فیک ادیب و شاعر اور اردو کے ادارے بھی بے نقاب ہوئے ہیں،اردو کے نام پر بڑی بڑی عمارتیں جس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھیں اب وہ عمارتیں یا ادارےاپنی اہمیت اور شناخت کھو چکی ہیں، اس عہد نے انہیں irrelevant کردیا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ اردو پڑھی نہیں جاتی سنی نہیں جاتی بولی نہیں جاتی سمجھی نہیں جاتی۔میرا ماننا ہے کہ اردو اس وقت اپنے بہترین دور سے گزر رہی ہے اچھا ادب بھی تخلیق ہورہا ہے اور زبان سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔میں نے تقریباً چار سال ریختہ میں کام کیاـ ریختہ ویب سائٹ سے لے کر جشن ریختہ تک کئی ہزار لوگ اسی زبان کی وجہ سے ہمارے ساتھ جڑے۔انجمن ترقی اردو ہند میں دو سال کام کیا، اردو کے کئی اداروں سے میرا تعلق رہا ہے، میں نے محسوس کیا کہ کس قدر لوگ اردو کو سمجھنا چاہتے ہیں اور سیکھنا چاہتے ہیں اور کئی تو ایسے بھی ہیں جو یونیورسٹی میں اردو پڑھنے پڑھانے والوں سے زیادہ باخبر ہیں ـ کوئی ڈاکٹر ہے کوئی انجینیر کوئی کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے، تو کسی نے اپنے طور پر اردو کے پیج اور ویب سائٹ بنا رکھی ہیں اور بہت ہی عمدہ اور معیاری کام ہورہا ہے۔دراصل مسئلہ اردو کا نہیں ہے بلکہ اردو کے ان اداروں اور جامعات کا ہے اور شعبۂ اردو سے جڑے ہوئے ان مافیاؤں کا ہے جو اردو کے شعبوں کو انڈر ورلڈ کی طرح مشکوک اور پراسرار طاقتوں کے زیر اثر چلا رہے ہیں۔
ایک اچھے ادیب کی ذمے داری یہ بھی ہے کہ اس کے سامنے خراب ادیب نہ پنپے،ادب کو داغدار کرنے میں نااہلوں کی چیخ و پکار کے ساتھ ساتھ جینوئن ادیبوں کی خاموشی بھی اس کی ذمے دار ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ بہت ہی معمولی لکھنے والوں کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں، اس کے قاری زیادہ ہیں، اچھے ادب کو پڑھنے والوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے؟ایک وجہ جو میری سمجھ میں آئی کہ اچھا ادب لکھا تو گیا مگر اس کو اس طرح پروموٹ نہیں کیا گیا،جس کا کہ وہ حق رکھتا تھا ـ ہمارے بزرگوں سے یہ سوال تو ہونا چاہیے کہ آپ کے ہاں اچھا ادب لکھا گیا تو پھر اس کے سامنے کیسے خراب ادب جو سرے سے ادب ہی نہیں تھا،وہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا ـ مشاعرے کی حد تک بات سمجھ میں آتی ہے،مگر افسوس تب ہوتا ہے جب لوگ حسن کوزہ گر اور ایک لڑکا کے بارے میں یہ تک نہیں بتا سکتے کہ یہ کس کی نظمیں ہیں۔میرے خیال سے اچھے ادب کو پروموٹ نہ کرنا اچھے ادب کو پیدا نہ کرنے سے بھی بڑا جرم ہے،اچھے ادب کو پیدا کر کے اسے رسوا ہونے کے لئے چھوڑ دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ہمارے اہم نقاد ساری زندگی اوسط درجے کے ادب کو پرموٹ کرتے رہے۔نااہلوں نے جو کیا سو کیا، مگر ہمارے دانشوروں سے بھی کچھ کم کوتاہیاں نہیں ہوئی ہیں۔

مفاد پرست پستہ قد عناصر کا بول بالا پہلے بھی رہا ہوگا، مگر جینوئن لکھنے والوں نے ہمیشہ خراب لکھنے والوں کو Discourageکیا ہے۔علاقائیت کا آسیب اردو کی رگوں میں سرایت کرچکا ہے۔مشاعرے بازبھانڈ دندناتے پھررہے ہیں، اردو کے اچھے اور بڑے ادیبوں کو ذلیل و خوار کیا جارہا ہے۔اپنے اپنے خطے کے لوگ جو پستہ قد بھی ہیں ، نوازے جارہے ہیں۔اردو ختم کرنے کی خبروں کی سازش کا نعرہ بلند کرنے والے لوگ ہی اردو کا گلا گھونٹنے میں مصروف ہیں۔ان کی کم ظرفی نے اردو کو مسلمانوں کی زبان بنا دیا تھا اب وہی کم ظرفی اردو کو ایک خاص خطے کے ایک خاص طبقے کی زبان بنانا چاہتی ہے۔
اب صورت حال اس قدر سنگین ہوگئی ہے کہ ذات پات کو مذہبی فرقہ پرستی کی طرح برتا جارہا ہےـ علاقائیت کی تباہی اور بربادی کی داستان اس سے زیادہ بھیانک ہے۔ملک پرستی کی وبا، مذہب کی چار دیواری کو پھلانگ کر اردو کے آنگن میں فتنہ برپا کررہی ہے۔اپنی ذات، اپنا خطہ، اپنا ملک، اپنے لوگ۔دو کوڑی کا ادب تخلیق کرنے والوں پر انعام و اکرام کی بارش ہورہی ہے۔یہ سلسلہ دوسرے مذہب کے لکھنے والوں کے ساتھ زیادتی سے شروع ہوا تھا۔آہستہ آہستہ اس نے ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے بیچ بھی تفریق کرنی شروع کی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ اردو کا دائرہ سمٹتا ہوا کہاں آن پہنچا ہے۔اس وقت ہندوستان میں ہمارے بزرگ لکھنے والے جنہوں نے کچھ اچھا ادب بھی تخلیق کیا ہے، انہی نے خراب لوگوں کو پروموٹ کرنا شروع کردیا ہے جس سے ظاہر ہے نقصان ادب کا ہی ہونا ہے۔مسلمانوں نے جو حشر مذہب کا کیا تھا اس زبان کے ساتھ ان کا رویہ بھی ویسا ہی ہے۔یونیورسٹیز کی سطح پر تعلیم کے نام پر طالب علموں کو اپنے گروہ میں شامل کیا جاتا ہے۔اگر یہی صورت حال رہی تو وہ دن دور نہیں جب پی۔ایچ۔ڈی میں داخلہ بھی فوج میں بھرتی کی طرح ہوا کرے گا کہ کون جسمانی طور پر کتنا تندرست ہے۔اردو والے اردو کے وجود کے تعلق سے فکر مند رہتے ہیں، اردو کے خلاف ہورہی سازشوں کا پردہ فاش کرنے کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیتے رہتے ہیں۔اردو کی مٹھاس پر گھنٹوں لکچرز دیتے رہتے ہیں۔مشاعرے کے پنڈالوں میں راتیں گزار دیتے ہیں۔اپنی اپنی ذات برادری والوں پر یا پھر ان پر سیمینار بھی منعقد کراتے رہتے ہیں جن سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور جب ان سب باتوں کے باوجود اردو کی گاڑی حرکت میں نہیں آپاتی تو اردو کا رونا رونا شروع کردیتے ہیں ۔اچھے اور بڑے ادب کو صرف اس لیے نظر انداز کرنا کہ کمترادب کا خالق میرا چچا بھی لگتا یا میرے مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہے یا مجھے پروفیسر بھی بنوا سکتا یا مجھے ایوارڈ بھی دلوا سکتا اور پھر ٹٹ پونجیوں کے سہارے ترقی کی منزلیں طے کرنے کے خواب دیکھنا کم ظرفی کی دلیل ہوا کرتی ہے۔باقی سب چیزیں تبھی ہوسکتی ہیں جب ہمارے پاس اچھا اور بڑا تخلیق کار ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ذہین قاری بھی ہو۔تمام مخالفین کی حرکات و سکنات کا جواب بھی یہی ہے اور تمام مخلصین کے لیے کامیابی کا نسخہ بھی یہی ہے۔ اردو بازار سے ہم نے اردو کتابوں کی آن لائن فراہمی کا جو سلسلہ شروع کیا تھا،اسے اب ایک سال ہونے والا ہے اس ایک سال میں کئی ہزار کتابیں اردو قارئین تک پہنچانے کا فریضہ ہم نے بحسن و خوبی ادا کیاـ اردو کتابوں کے قارئین کے آرڈر ایسی ایسی جگہوں سے آئے ،جن کے نام سے بھی ہم واقف نہیں تھے،اردو پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی ہندوستان میں ہےـ اچھی بات یہ ہے کہ اردو کے قارئین کی بڑی تعداد کا تعلق کسی ادارے یا اردو کے کسی شعبے سے نہیں ہے۔ وہ دوست جو اردو لکھنا پڑھنا چاہتے ہیں، اردو بازار پر اس اتوار سے ان کے لیےاردو آن لائن کورس شروع کیا جارہا ہےـ امید ہے اردو سے محبت کرنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*