آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا ـ مولانا شاداب تقی قاسمی کریم نگری

 

گزشتہ سال علماء دین کے انتقال کی پے در پے خبریں ملت ِاسلامیہ کے لئےانتہائی غم اور تکلیف کا باعث رہیں،سال ۲۰۲۰ ءمیں ہم نے اپنے ان محسن علماء کو کھودیا کہ جن میں سے ہر کوئی اپنی جگہ ایک بزم ایک انجمن تھا،جن کے دم سے ایک جہاں آباد تھا،جن کے علم سے ایک عالم فیض یاب ہورہا تھا،ان ہی باکمال شخصیات میں ایک عبقری شخصیت حضرت مولانا ابن الحسن عباسیؒ کی بھی تھی ،کہ جن کے وجودکے تصور سے قلب کو سکون واطمینان نصیب ہوتا تھا،جن کی نگارشات سے علم و عمل میں اضافہ ہوتا تھا،جن کے البیلے اور اچھوتے طرز تحریر سے ادب کا ایک باب عیاں ہوتا تھا،جن کے کہنہ مشق قلم سے نکلنے والے جواہر پاروں کا ہر کوئی مشتاق ہوتا تھا،ایسی عظیم المرتبت ہستی بھی سانحات کے سال ۲۰۲۰ ءکی نذر ہوگئی۔

بلاشبہ مولانا ابن الحسن عباسی ؒ جیسی شخصیت صدیوں میں جنم لیتی ہیں اور اپنی مختصر زندگی میں ایسے ایسےعظیم کارنامے انجام دے جاتی ہیں کہ ہر کوئی عش عش کرتےرہتے ہیں ۔مولانا عباسیؒ کا شمار برصغیر کے مستند ،علمی اور تحقیقی مزاج کے حامل علماء میں ہوتا ہے،کہ جنہوں نے ایک عرصہ تک اپنے منفرد اندا تحریر کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا،ہر طرف سے داد تحسین حاصل کی اوربھر پور محبتوں کو سمیٹا۔

مولانا ابن الحسن عباسیؒ ایک ایسا نام ہے کہ جس سے شائد ہی کوئی طالبِ علم وادب واقف نہ ہو،ہر کوئی ان کی تحریروں کا اسیر ،ان کے جادو بیاں قلم کا گرویدہ ،ان کی سحر انگیز نگارشات کا عاشق نظر آئے گا۔

راقم کا مولانا عباسیؒ سے کتابی تعلق تھا ،سرحد کے اُس پار ہونے کی وجہ سے زندگی میں کبھی ملاقات کا شرف تو حاصل نہیں ہوا ،لیکن غائبانہ تعارف و استفادہ کا بھر پور موقع میسر آیا ،غالبامیرا سوم عربی کا سال تھا جب سب سے پہلے میرے ہاتھ ایک کتاب لگی ،جس کا نام ’’متاعِ وقت اور کاروانِ علم‘‘ تھا ،جب مصنف کے نام کی طرف نظر دوڑایا تو اس پر مولانا ابن الحسن عباسی ؒ لکھا تھا ،پھر کتاب کھولا ،پڑھنا شروع کیا تو بس پڑھتا ہی چلا گیا ،ایسا محسوس ہورہا تھا کہ یہ کتاب نہیں بلکہ کتب خانہ ہے کہ جس میں ایسی نادر ونایاب چیزوں کو جمع کردیا گیا ہیں،جو کئی کتابوں کے مطالعہ سے بھی مشکل سے حاصل ہوتیں،بس اسی وقت سے مولاناعباسیؒ کے نام سے عشق کی حد تک محبت ہوگئی ،جہاں کہیں مولانا عباسیؒ کے نام سے منسوب کوئی کتاب، رسالہ ،یا تحریر ہاتھ لگتی ،تواس کو بڑی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا ،اس کو اول تاآخر پڑھتا اور اس کےعناوین ،مضامین اور تعبیرات کو ذہن میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتا۔

ادھر چند سالوں سے سوشل میڈیا کے توسط سے مولانا عباسیؒ سے گہرا تعلق ہوگیا تھا، قبل از وقت ان کی گراں قدر تحریروں اور قیمتی آراء سے استفادہ کا موقع مل جاتا تھا ،بالخصوص جب بھی فیس بک کھولتا اور سامنے ہی مولانا کی کوئی تازہ تحریر پاتا تو جھوم جاتا اور مکمل پڑھے بغیر آگے نہیں بڑھتا،لیکن ہائے افسوس !آسمان علم کا نیر تاباں ہم سے اتنی جلدی رخصت ہوگیا۔

مولانا عباسیؒ کے گہر بار قلم سے وقتا وفوقتا ،حالات اور مواقع کی مناسبت سے کئی کتابیں منظرِ عام پر آئیں اور عوام وخواص میں یکساں مقبول ہوئیں،درس نظامی میں پڑھائی جانے والی کئی ایسی کتابیں ہیں کہ جس کی مولانا عباسیؒ نے شروحات لکھیں،جن میں مقامات حریری کی شرح’’ درس مقامات‘‘اور عمومی مضامین پر لکھی جانے والی کتابوں میں کتابوں کی درس گاہ میں ،التجائےمسافر،کرنیں،مدارس ماضی ،حال ،مستقبل ،متاعِ وقت اور کاروانِ علم،داستاں کہتے کہتے جیسی شاہکار کتابیں قابل ذکر ہیں۔

مولانا عباسیؒ کا ایک اور عظیم کارنامہ جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا ،وہ آپ کی ادارت میں شائع ہونے والا ماہنامہ النخیل کا’’یاد گار زمانہ شخصیات کااحوال مطالعہ‘‘نمبر ہے کہ جس میں اسّی سے زائد اہل علم کے مطالعہ کی داستان کو محفوظ کیا گیا ہے ،جو ہر طالب علم کے لئے مشعل راہ اورہر کتاب دوست کے لیے راہ نماہے۔لیکن یہ بات سن کر بہت قلق ہواکہ اتنی محنت اور جد وجہد کے بعد تیار کیا گیا مطالعہ نمبر کتابی شکل میں آپ اپنی زندگی میں دیکھ تک نہیں سکے۔

مولانا عباسیؒ کی ولادت ۱۹۷۲ء میں ہوئی۔آپ کا اصل نام مسعود عباسی تھا ،قلمی نام ابن الحسن تھا۔۱۹۹۳ءمیںدارالعلوم کراچی سے فراغت حاصل کی ،فراغت کے بعد سے۲۰۱۰ء تک جامعہ فاروقیہ کراچی میں درس دیا،۲۰۱۰ءسے تادم حیات جامعہ تراث الاسلام کے بانی وشیخ الحدیث رہےاور ۱۴؍ڈسمبر ۲۰۲۰ء کو داعیِ اجل کو لبیک کہا۔

 

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا