آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا … ڈاکٹر صفدر

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا … ڈاکٹر صفدر

کوثر حیات ، اورنگ آباد
Email : khwaja.kauser@gmail.com

شعر و ادب کی فضاء ڈاکٹر صفدر صاحب کے فوتگی کی خبر سن کر سوگوار ہو اٹھی ۔ڈاکٹر صفدر کے انتقال کے سانحہ نے اردو ادب میں بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے ۔ ودربھ میں بڑے بڑے مشاہیر ادب گزرے ہیں ۔ ودربھ کے ضلع امراوتی میں واقع زمانے قدیم سے تہذیبی ،ثقافتی ، ملی ادبی اور تعلیمی لحاظ سے شہر اچل پور اپنی خصوصی شناخت رکھتا ہے ۔ ڈاکٹر صفدر کی پیدائش امراوتی کے اسی شہر اچل پور میں یکم جولائی 1946ء کو ہوئی ۔ آپ کا تعلیمی سفر ناگپور یونیورسٹی میں انجام پایا ۔ جہاں آپ نے ایم اے ، بی ایڈ اور پی ایچ ڈی مکمل کی ۔ ڈاکٹر صفدر جدید شاعر ، نقاد، محقق ، طنز و مزاح نگار و انشائیہ نگار تھے ۔
ڈاکٹر صفدر نے علاقہ برار میں شاعری میں جدید یت کی داغ بیل ڈالی اور نئے تنقیدی زاویہ پیش کئے ۔ آپ نے اردو ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں جس کی مثال آپ کی و ہ تصانیف ہے جو ادب میں اعلی درجہ کا مقام رکھتی ہیں۔ جن میں شاعری و شیوہ پیغمبری ، جدید شعری تنقید ، قل قل آب وضو، لفظوں پہ رم، بے آمیز، آئینہ خنداـں(یہ آپ کی آخری تصنیف)۔ آپ کی یہ تصانیف اہل ادب کے لیے ادبی خزانے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ حال ہی میں جسے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔ یحییٰ نشیط صاحب آپ کے بارے میں رقمطراز ہے ؎
’’صفدر کا تغزل ،فکر کی گہرائی اور تخیلات کی بلندی کا نقطہ ارتکاز ہے ۔ اس میں معنویت کا جہاں آباد ہے داخلی کیفیات کے اظہار نے ان کی غزل میں بلا کا تاثر پیدا کردیا ہے ۔ صفدر کی غزلوں میں ان کا باطن بولتا ہے جو خارجی حالات اور حادثات کے رد عمل کی صورت میں تشکیل پاکر شعر کی صورت میں قلم سے ٹپک کر صفحہ قرطاس پر نمودار ہوتا ہے ۔ ‘‘
آپ نے بطور پرنسپل اردو ہائی اسکول وروڈ ضلع امراوتی میں خدمات انجام دی۔ ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ آکاشوانی ناگپور کے اردو پروگرام میں متحرک مشاعروں اور مباحثوں میں شرکت کرتے ، اپنے مضامین پیش کرتے ۔ آپ کا لکھا کلام، تنقیدی مضامین ونثری تخلیقات بر صغیر کے موخر ادبی رسائل جیسے شب خون، کتاب ، آہنگ ، شگوفہ ،تحریک، جواز ، سہ ماہی توازن، افکار، اوراق، ماہنامہ پیکرمیں تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ صحافت میں بھی آپ نے اپنی علمی بصیرت و ذوق فہمی کے جوہر دکھائے ہیں ۔آپ ’صدائے ودربھ ‘ کے مدیر بھی رہے۔ جس میں آپ کا خصوصی کالم ’نیم کا رس ‘ قارئین کی دلچسپی و توجہ کا مرکز تھا ۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ صفدر سے میرے ادبی مراسم چار دہائی سے زیادہ مدت پر پھیلے ہیں۔ میں انہیں ہندوستان کے اہم نقاد وں میں شمار کرتا ہوں ۔‘‘
آپ کی قابل قدر اور فراموش نہ کرنے والی خدمات میں آپ کا ایک لمبے عرصہ سے بال بھارتی اردو (مہاراشٹر) کی لسانی کمیٹی کے اہم رکن رہنا ہے ۔ آپ درسی کتابوں کی تدوئین و ترتیب میں اہم کردار ادا کرتے تھے ۔ راقم کی ان سے ملاقات تین سال قبل بال بھارتی میں ایک ورکشاپ کے دوران ہوئی تھی ۔جیسے ہی ڈاکٹر صفدر صاحب نے سنا میرا تعلق اچل پور علاقہ برار سے ہے، اٹھ کر آئے اور بہت دیر تک تفصیلی بات کی ۔ مجھے قطعی ایسا نہیں لگا آپ سے میری پہلی ملاقات ہے ۔ آپ انتہائی نرم خو و خوش مزاج تھے۔ آپ اپنا ہر لفظ مسکراہٹ و شفقت کے ساتھ ادا کرتے ۔ آپ کی بات با معنی اور دل و ذہن پر دیر پا اثر ڈالنے والی ہوتی ۔آج بھی ان کا مشفقانہ رویہ میرے ذہن پر ثبت ہے ۔ بے شک آپ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔
آپ کی ادب میں بے لوث اور کارآمد ادبی خدمات کے باعث آپ کو متعدد انعامات و اعزازات سے نوازا گیا ۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی کی جانب سے دو ایوارڈ تفویض ہوئے ۔کلچرل اکادمی گیا (بہار) کا علی حیدر ملک ایوارڈ ، مثالی مدرس کا ریاستی ایوارڈ ، امریتا پریتم لٹریری ایوارڈ، ناقد برار ایوارڈ،عصمت جاوید ایوارڈ قابل ذکر ہے ۔ڈاکٹر صفدر نے اپنے تنقیدی افکار و نظریات ، انشایہ نگاری ، طنز و مزاح کے مضامین سے کئی دہائیوں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ اپنا گرویدہ کردیا ۔ ڈاکٹر صفدر صاحب کاکیا گیا ادبی و تخلیقی سرمایہ میں اضافہ ہر دور میں قابل ذکر رہے گا ۔