عالمی یوم خواتین اور اسلام –  شمیم اکرم رحمانی 

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ 

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں 

اقبال

کل 8/مارچ کو عالمی یوم خواتین تھا لوگ مختلف پروگراموں ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے واسطے سے اپنے اپنے انداز میں عورتوں کی تعریفیں کررہےتھے مردوں کو عورتوں کی اہمیت کااحساس دلارہےتھے اور سمجھاناچاہتے تھے کہ مردوخواتین بالکل برابر ہیں دونوں کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے اسی دوران شام سے کچھ پہلے ایک صاحب نے فون کیا اور حقوق نسواں کے تعلق سے اسلام کا نقطہ نظرجاننا چاہا تھوڑی دیر گفتگو ہوئی میں انہیں جو کچھ سمجھانا چاہتا تھا سمجھایا اور وہ صاحب سمجھ چکے اسلئے اجازت لیکر میں نے فون کاٹ دیا اور بات ختم ہوگئ لیکن پھر خیال آیا کہ اس موضوع پر چند سطریں بھی سیاہ کردوں تاکہ ذہن کی باتیں کسی حد تک کا غذ پر محفوظ ہوجائے چنانچہ عورتوں کی اہمیت اور معاشرے میں اس کے مقام کے حوالے سے میں نے مزید غور کرناشروع کیا تھوڑی دیر میں ہی بہت سی آیات و روایات ذہن میں آئیں جس کی وجہ سے یہ نتیجہ اخذکرنا بڑا آسان ہوگیا کہ اسلام نے معاشرے میں عورتوں کو چودہ سو سال پہلے جو مقام عطاکیاہے آج کی ترقی یافتہ دنیا لاکھ کوششوں کے باوجود وہ مقام دینے میں مکمل ناکام ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ جس دور میں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کارواج ہو ستی کے نام پر عورتوں کو نذر آتش کئے جانے کی رسم جاری ہو اور عورتوں کے انسان ہونے پرشبہ کیاجارہاہواس دور میں کوئی مذہب عورتوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسے میراث میں باضابطہ حصہ دار بنائے اس کے قدموں میں جنت ہونے کی بشارت سنائے یااسی کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت پر جنت کے وعدے کرے لیکن مذہب اسلام نے یہ سب کچھ کیا اور ان سب کے علاوہ عورتوں کے متعلق ان تمام حقوق کی نشاندہی کی جو کی جاسکتی تھی تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے تاہم تفصیلات سے ان لوگوں کو ضرور آشنا ہوناچاہئیے جوعورتوں کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر وقتا فوقتاً طنز کستے رہتےہیں اور دنیا کویہ باور کرانے کی کوششیں کرتےرہتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کوچہاردیواری میں قید کررکھاہے عجیب بات یہ ہے کہ اسلام پر عورتوں کے استحصال کاالزام عائد کرنے والے لوگ عورتوں کے گھر میں کام کاج کرنے کوتو دقیانوسیت خیال کرتے ہیں لیکن گھرسے باہرکام کرنے کوآزادی نسواں سمجھتے ہیں ان کے مطابق گھر میں کھانابنانا دقیانوسیت ہے لیکن ہوٹل میں کھانابناناآزادی ہے اپنے شوہرکےلئے گھرمیں زیب و زینت اختیار کرناقدامت پسندی ہے لیکن ایر ہوسٹس بن کر ہوسناک طبیعتوں کو خوش کرناآزادی نسواں ہے گھر میں بچوں کی پرورش و پرداخت کرنا رجعت پسندی ہے لیکن دوسروں کے بچوں کی پرورش کرنا آزادی نسواں ہے اگر ایساہے تو بقول حضرت اقبال مرحوم عورتیں خودہی فیصلہ کرسکتی ہیں کہ آرائش میں کونسی چیز اپنی بیش بہا قیمت رکھتی ہے آزادی بے پردگی یا زمرد کا گلوبند

 

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں معذور ہیں مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ

آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند

 

اقبال

 

میرے خیال میں عورتوں کے حوالے سے اسلام اور مغرب کے کشمکش کاماحصل اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ اسلام نے عورتوں کے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی فطرت اور جسمانی ساخت کی پوری رعایت کرتے ہوئے انہیں ہر طرح کی عزت و رفعت عطاکی ہے جبکہ مغرب نے بہت بعد میں عورتوں کے محض انسان ہونے کی رعایت کی ہے جسمانی ساخت اور فطرت سے یکسر روگردانی کرتے ہوئے انہیں مردوں کےشانہ بشانہ کھڑے کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے عورتیں مصنوعی مردوں کے قالب میں ڈھل کر مرد کے سامنے کھڑی ہوگئیں اور مرد و خواتین آپس میں ایک دوسرے کے فریق بن گئے جس کالازمی اثر فیملی سسٹم پرپڑناتھا سو پڑا اوروہ تباہ و برباد ہوگیا جبکہ اسلام نے عورتوں کے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ فطرت اور جسمانی ساخت کی رعایت کرتے ہوئے انہیں

مرد کا ایک حصہ قرار دیا ہے سورۃ نساء کی پہلی ایت میں اس کی طرف واضح اشارہ موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں عورتیں مردوں کے بالمقابل نہیں ہیں بلکہ مردوں کاایک حصہ ہیں اور ظاہر ہے کہ انسان اپنے حصے کے بالمقابل کھڑاہونے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑا ہوتاہے اور اس سے اس قدر محبت کرتاہے کہ اس کی ہرتکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے پر مجبور ہوتاہے عورتوں اور مردوں کے درمیان اسلامی اصول نے جو ہم آہنگی پیداکی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ اس پریشان کن دور میں بھی مسلمانوں کا فیملی سسٹم مغربی فیملی سسٹم کے بالمقابل نہ صرف بہتر ہے بلکہ خود اہل مغرب کےلئے قابل رشک بناہواہے

یہ سچ ہے کہ اسلام نے عام حالتوں میں عورتوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے تاہم یہ تاکید باعث تحقیر نہیں ہے بلکہ باعث تکریم ہے بالفاظ دیگر یہ تاکید عورتوں کو گھروں کی ملکہ بنانے کی غرض سے کی گئ ہے جس کاایک بڑا فائدہ یہ ہے عورتیں ہوسناک طبیعتوں اور راہ کے ظلم زیادتیوں سے محفوظ رہتی ہیں اسی لئے جب عورتوں کا گھر میں ملکہ بن زندگی گزارنادشوار ہو تو اسلام نے بوقت ضرورت تلاش رزق کی کی غرض سے پردے کے ساتھ انہیں گھر سے باہر نکلنے کی بھی اجازت دی ہے خود قرآن مجیدمیں حضرت مریم کا واقعہ موجود ہے جس میں انہیں کھجور کے تنے کو ہلاکررزق حاصل کرنے کاحکم دیاگیاہے عورتوں کے ناقص العقل ہونے کا بھی وہ مطلب نہیں ہے جولوگ سمجھتے ہیں اور جسے غلط طریقے سے پیش کرکے اسلام سے بدظن کرنے کی کوششیں کرتے ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ حدیث میں عورتوں کو ناقص العقل کہاگیاہے لیکن یہ بھی عورتوں کا استخفاف نہیں ہے بلکہ عورتوں کے ساتھ رعایت و شفقت ہے تاکہ عدالتی کارروائیوں میں عورتوں کوگھسیٹنا آسان نہ ہوجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر عورتیں عدالتوں میں گواہی دینے جائیں بھی تو دو عورتیں جائیں تا کہ ایک اگر کچھ بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عورتیں غلط گواہی دینے کی بنیاد پر ان وعیدوں میں شامل ہونے سے بھی بچ سکیں گی جن کا تذکرہ مختلف روایات میں آیاہے اگر نقص عقل کا وہی مفہومِ ہوتا جولوگ سمجھتے ہیں تو اسی حدیث میں عورتوں کی عقل کے سلسلے میں یہ بات کیوں کرکہی جاتی کہ عورتیں بہت سےہوشیارمرد کی عقل کو گم کردیتی ہیں اسلئے کہ ناقص العقل کسی عقلمند کی عقل کو کیسے گم کرسکتی ہے؟

مجھے یہ کہنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے کہ عورتوں کے حوالے سے اسلام پر قدامت پسندی کے الزامات کی بنیاد بھی بدفہمیاں اور غلط فہمیاں ہیں یا سوچی سمجھی سازشیں اسلئے اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے حوالے سے اسلام کی حقانیت کو سامنے لانے کی کوششیں کریں اوردنیاکو یہ بتائیں کہ عالمی یوم خواتین منانے سے عورتوں کے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ عورتوں کے خلاف جرائم کے بڑھتے گراف کو روکنے کی صحیح تدبیریں کرنی ہونگی ان کے سروں سے معاشی تگ و دو کے بار کو اتارناہوگا ان کی مارکیٹنگ پرروک لگانی ہوگی ورنہ انصاف پسند اشخاص یہ سمجھنے پر مجبور ہونگے کہ دنیا عورتوں کی آزادی کے نام پر عورتوں تک پہونچنے کی آزادی چاہتی یے!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*