عالمی تنظیم برائے فضلائے ازہر کے زیر اہتمام آن لائن دعوتی وعلمی ٹریننگ جاری

 

ہندوستان کے مختلف علاقوں سے 62خطبا و علما کر رہے ہیں استفادہ

 

نئی دہلی،عطاء الرحمن ( خصوصی رپورٹ)عالمی تنظیم برائے فضلائے ازہر انڈیا کے زیر اہتمام فارغین جامعہ ازہر کی نمائند ہ تنظیم، عالمی تنظیم برائے فضلائے ازہر قاہر ہ مصر کے مرکزی دفتر سے شیخ الازھر پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب کی ایماء پر کورونا وائرس میں لاک ڈاؤن کے دوران فاصلاتی تعلیم کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن علمی ودعوتی ٹریننگ کورس جاری ہے،جسمیں ملک ہندوستان کے مختلف علاقوں سے 63/ علماء و خطباء حضرات شرکت کرکے استفادہ کر رہے، یہ سلسلہ جولائی کے آخر تک چلے گا

اس ٹریننگ میں جامعہ ازھر کے بلند پایہ علمی شخصیتوں اور شیوخ کے محاضرات ہو رہے ہیں جن میں سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر ابراہیم صلاح الھدھد، ڈین فیکلٹی آف اصول الدین ڈاکٹر عبد الفتاح عواری، شیخ عمر عبد الفتاح، شیخ محمد نجدی،شیخ جمال فاروق وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ،اس ٹریننگ کورس میں اب تک 10/ سے زائد متعدد موضوعات پر وقیع محاضرات ہوئے، جسمیں ازہر کی شاندار تاریخ اور اسکے امتیازات، قرآن و حدیث، عصر حاضر میں فقہ وفتاوى کے طریقۂ کار ، عربی زبان کی تدریس کا طریقۂ کار،دہشت گردی و تکفیری نظریات ،انتہاپسندی کے اسباب اور انکا حل، زہد و تصوف سمیت دیگر موضوعات پر وقیع اور قیمتی محاضرات سے بہرہ ورکرایا جا چکا ہے، خاص یہ بات ھیکہ اور ہر لکچر کے بعد سوال وجواب کا بھی موقع ملتا ہےـ

محاضرات میں علمی اختلاف کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ادب و احترام پر کافی زور دیتے ہوئے اسلام کی عبقریت اور اسکے معتدل پیغام کو دنیا کے سامنے معتدل اور عصری اسلوب میں پیش کرنے کا پیغام دیا۔

علمائے ازہر کو اللہ تعالٰی نے گفتگو کا شاندار سلیقہ اور قوت استدلال سے نوازا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ہر فکر اور ہر بات کو منوانے کا ہنر رکھتے ہیں،

 

عالمی تنظیم برائے فضلائے ازہر انڈیا کے نائب جنرل سکریٹری اورٹریننگ کوآرڈینیٹر مولانا فضل الرحمن ندوی ازہری نے یو این اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹریننگ ہندوستان

کے طول وعرض میں ازہر کے پیغام وسطیت کو فروغ دینے کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا

انھوں نے بتایا کہ ٹریننگ کے اختتام پر مشارکین کو عالمی تنظیم برائے فضلائے ازہر قاہر ہ کی جانب سے توصیفی سند سے بھی نوازا جائیگا۔

اس موقع پر عالمی تنظیم برائے فضلاء ازہر انڈیا کے صدر ڈاکٹر محمد مبین سلیم ازہری پروفسیر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کہاکہ علوم شرعیہ وعربیہ میں گہری واقفیت اور علوم کی حقیقی معرفت سے ہی ہم تشدد فکری اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرسکتے ہیں ،اور اس سلسلے میں ازہر کا کردار بہت نمایاں ہےـ

قاضی کڑپہ آندھرا پردیش کے عبد الجبار طیب ندوی محاضرہ میں شریک ہیں انھوں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ میں سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جامعہ ازہر کے شیوخ سے استفادہ کا موقع ملا ،اور عالمی تنظیم برائے فضلاء ازہر انڈیا کے ذمہ داران کا بھی ،اور درحقیقت شیوخ کے محاضروں میں شرکت سے لگتا ہیکہ علم وتحقیق کا دریا رواں ہے اور آپ اس سے سیراب ہوتے چلے جائیں ،اللہ ازہر کو آباد رکھے ،اس ٹریننگ میں شرکت سے علم وفکر کے نئے نئے انداز اور گہرائی وگیرائی سے واقفیت کا موقع مل رہا ہے ۔

بلھرہ بارہ بنکی کے عطاء الرحمن ندوی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ازہر عالم اسلام کی عظیم درسگاہ ہے جو دینی و دنیاوی، قدیم و جدید کا سنگم ہے، نیز متعدد شعبوں میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے ، اور بالخصوص معتدل فكر اور وسطيت کا حامی ہے، فاصلاتی تعلیم کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جامعہ ازہر کے چیدہ علماء کرام اور شیوخ سے استفادہ کرنے کا موقع مل رہا ہے یہ باعث مسرت ہے اللہ خیر کا ذریعہ بنائے

حسان اختر ندوی مظاہری نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے

جامعہ ازہر کی جانب سے اس ترقی یافتہ دور میں دنیا بھر کے علمائے کرام اور فضلائے عظام کو ازہر کے منہج وخصوصیات اور اسلام کی عادلانہ اورمنصفانہ تعلیمات سے روشناس کرانے کی ایک نئی پہل ہوئی ہے،الحمد للہ علمائے ہند کے لئے ماہ جون وجولائی میں منعقد کئے جانے والے تدریبی دورہ میں شرکت کا موقع ملا ہے، اللہ تعالٰی ہماری اس شرکت کو حصول خیر کا ذریعہ بنائے

محمد الیاس فیضی،زمانیہ بروآر مدھوبنی بہار کے اعجاز احمد ندوی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا جامعہ ازہر کا نظام تعلیم و تربیت بہت عمدہ ہے جو تشدد سے بالا تر ہے، ملک ہندوستان میں جسطرح علماء آپس میں اختلاف کرتے ہیں اور ایک دوسرے کیخلاف فتویٰ لگادیتے ہیں،انہیں وہاں کے شیوخ سے سیکھنا چاہیے اور وہاں کے منھج کو اختیار کرنا چاہئیے

اعظم گڑھ یوپی کے محمد سالم قاسمی اپنے تاثرات میں کہتے ہیں کہ جامعہ ازہر کی جانب سے تدریب ٹریننگ کورس میں شرکت کا موقع مل رہا ہے، محاضر کی زبان عمدہ، فصیح اور بلیغ ہونے کے ساتھ ساتھ قریب الفہم، کلام جامع اور مانع، مناقشات اور سوالات کے تسلی بخش اور کافی اور شافی جوابات ہوتے ہیں، غرض ہماری خواہش تو یہی ہے کہ ہمیں شیوخ ازہر سے یوں ہی استفادے کا موقع ملتا رہے اور ہم ان کے علوم کے بہتے ہوئے دریا میں سے سے کچھ گوہر نایاب سمیٹنے کی کوشش کرتے رہیں۔