عالمی ادارۂ صحت کی غذائیت تحریک اور ہندوستان-ڈاکٹر مشتاق احمد

پرنسپل، سی ایم کالج، دربھنگہ(بہار)
موبائل:9431414586
اس وقت پوری دنیا کورونا جیسی مہلک وبا کی شکار ہے اور لمحہ بہ لمحہ اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور مثاثرین کی تعداد بھی بے تحاشا بڑھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں دیگر انسانی مسائل وقتی طورپر پسِ پردہ چلے گئے ہیں۔لیکن عالمی ادارۂ صحت کورونا مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کے تئیں بھی عوام الناس کو آگاہ کر رہا ہے۔عالمی ادارۂ صحت اسی کڑی میں یکم ستمبر سے سات ستمبر تک ”ہفتۂ ناقص غذائیت“ منا رہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا میں ناقص غذائیت اور عدم تغذیہ کی وجہ سے انسانی معاشرے میں جو ہیجان واضطراب پیدا ہوا ہے اس کے حل کے لئے بھی کوشش ہونی چاہئے۔ اس بار ہفتہ ناقص غذائیت یا عدم تغذیہ کا تھیم یہ ہے کہ ”اِ ٹ رائٹ بائٹ بائی بائٹ“ یعنی ہر لقمہ میں غذائیت رکھی گئی ہے۔واضح ہو کہ ہر سال عالمی ادارہئ صحت پوری دنیا میں نومولود بچے سے لے کر ۲۳/ مہینے تک کے بچے کی جسمانی صحت کی رپورٹ شائع کرتا ہے اور دنیا کو یہ آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے سماج میں غریبی اور امیری کے درمیان روز بروز فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ خصوصی طورپر صحت کے اعتبار سے نو مولود بچے کمزور ہوتے ہیں اور انہیں متوازن غذا نہیں ملنے کی وجہ سے وہ ناقص غذائیت کے شکار ہو جاتے ہیں۔گذشتہ سال ”ورلڈ ہنگر انڈیکس“ کی رپورٹ آئی تھی اور اس میں دنیا کے ۱۱۷/ ممالک کا جائزہ پیش کیا گیا تھا جہاں دو سال تک کے بچے عدم تغذیہ کے شکار ہیں اور معقول غذا نہیں ملنے کی وجہ سے ان کی موت بھی ہو رہی ہے۔ ان۱۱۷/ ممالک میں اپنے وطنِ عزیز ہندوستان۱۰۲/ویں نمبر پر تھا۔ اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک میں غذائیت کے تعلق سے ہم کتنے سنجیدہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۰۹ فی صد بچے پیدائش کے وقت عالمی ادارہ صحت کے طے شدہ وزن سے کم وزن کے پیدا ہو رہے ہیں اور اس کے بعد انہیں جس طرح کی غذا ملنی چاہئے وہ نہیں مل پاتی نتیجہ ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طورپر پستی کے شکار رہتے ہیں۔ادارہ عالمی صحت کی شاخ ”دی اسٹیٹ آف دی ورلڈس چلڈرن“ کی رپورٹ ۹۱۰۲ء کے مطابق دنیا میں پانچ سال کی عمر کے بچوں میں تین میں سے ایک ناقص غذائیت کے شکار ہوتے ہیں اور ان کا وزن بھی کم ہوتا ہے نتیجہ ہے کہ وہ طرح طرح کی بیماریوں کے شکار بھی ہو جاتے ہیں۔پوری دنیا میں اس طرح کے بیس کروڑ سے زائد بچے زندگی اور موت کے درمیان جی رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہر ایک دوسرا بچہ عدم تغذیہ کا شکار ہے۔گذشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے لگ بھگ نو لاکھ بچے ناقص غذائیت کی وجہ سے موت کے شکار ہوگئے اور اس میں ہندوستان میں افریقی ملکوں سے بھی زیادہ متاثرین ہیں۔اب سوال اٹھتا ہے کہ حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود زمینی سطح پر کوئی تبدیلی کیوں واقع نہیں ہو رہی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کاغذی خانہ پُری میں مصروف ہیں اور حالت دن بہ دن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ نو عمر ہندوستان میں ہے لیکن صحت کے اعتبار سے وہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے کمزور ثابت ہورہے ہیں اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرینِ تغذیہ کا کہنا یہ ہے کہ بچوں کی غذا میں کم سے کم تیس فی صد پروٹین کا ہونا لازمی ہے اور اسے پینے کے لئے صاف پانی ملنا چاہئے۔ پانی کی بھی مقدار طے ہے کہ وہ دن بھر میں کم سے کم پانچ لیٹر پانی کا استعمال کرے۔ ظاہر ہے کہ بالغ کے لئے بھی پانچ لیٹر پانی پینے کی قید ہے۔ روز مرہ کے کھانوں میں بھی پروٹین سے بھرپورغذا کو ضروری قرار دیا گیا ہے جس میں دال،پنیر، مچھلی، انڈا، چنا وغیرہ شامل ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ ملک کی آدھی آبادی کو آج بھی روٹی مسئلہ درپیش ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں زراعتی انقلاب آیا ہے اور اشیائے خوردنی کی بہتات کا دعویٰ بھی کیا جا تا ہے لیکن اس کے باوجود ہندوستان کے سینکڑو ں گاؤں میں خطِ افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی۔جب کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی) کی رپورٹ میں ہر سال یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ لاکھوں ٹن گیہوں اور چاول چوہے کی خوراک بن گئے اور کھلے آسمان میں گیہوں رکھے جانے کی وجہ سے بھی لاکھوں ٹن برباد ہوئے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ جس ملک میں غریبوں کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی ہو وہاں اب تک یہ نظم یقینی نہیں ہو سکا کہ برباد ہونے والے اناج کی بوریوں کو محفوظ مقام یا ضرورت مندوں تک پہنچایا جا سکے۔اس تلخ سچائی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آزادی کے سات دہائی گذر جانے کے بعد بھی ملک میں فاقہ کشی کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ ہمارے سماج میں خطِ امیری اور خطِ غریبی دونوں میں اضافہ ہو رہاہے جو امیر ہیں وہ روز ان کی امیری کا درجہ بلند ہو رہاہے اور جو غریب ہیں وہ روز بروز پستی کے شکار ہور ہے ہیں۔ایک وہ طبقہ ہے جو اپنے کتوں کو دودھ اور کیک کھلا رہے ہیں اور ایک وہ طبقہ ہے جن کے بچے کو صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔چند برسوں قبل اڑیسہ سے ایک خبر آئی تھی کہ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والے مٹی کے کلہڑ میں چائے لوگوں کو پلاتے ہیں اور جب چائے پینے والے اس کلہڑ کو پھینک دیتے ہیں تو وہا ں آس پاس کی آبادی اس مٹی کے کلہڑ کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اوراسے باریک بنا کر کھاتے ہیں کہ اس پکی ہوئی مٹی کے اندر مٹھاس پیدا ہو جاتی ہے۔ غریبی کے مسئلے پر تحریر وتقریر کرنے والوں کی عزت افزائی بھی ہو رہی ہے کہ افلاس وغربت پر کتاب لکھنے والوں کو نوبل انعام تک مل چکا ہے لیکن دنیا میں آج بھی ۱۱۷/ ممالک ایسے ہیں جہاں لاکھوں بچے عدم تغذیہ کے شکار ہو جاتے ہیں۔
بہر کیف!اس وقت پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کے اعلامیہ کی روشنی میں ہفتہ غذائیت منایا جارہا ہے اور ناقص غذائیت پر قابو پانے کے لئے طرح طرح کے اقدام اٹھانے کی وکالت کی جا رہی ہے۔ اپنے وطن عزیز ہندوستان میں بھی اس مسئلہ پر سرکاری بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے بھی یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ بچوں کی صحت کے لئے طرح طرح کے طبی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس ملک میں ناقص غذائیت کی وجہ سے کمزور ولاغر بچے ہوں گے وہ ملک مستقبل میں انسانی وسائل کے شعبے میں اپنی شناخت مستحکم نہیں کر سکتا۔ ہندوستان انسانی وسائل کے معاملے میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے اس لئے ہندوستان میں اس مسئلے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ مستقبل کا ہندوستان ان ہی بچوں پر منحصر ہے۔ہمارے ملک میں اب اشیائے خوردنی چاول، گیہوں اور دال کی کمی نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو آبادی کے تناسب میں اشیائے خوردنی کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے لال کارڈ کے ذریعہ یہ سہولت فراہم کی ہے لیکن ناقص نظام ہونے کی وجہ سے اس کا خاطر خواہ فائدہ غریبوں کو نہیں مل رہاہے ساتھ ہی ساتھ غذائیت کے لئے لازمی اشیا بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ ہی غذا میں پروٹین کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ بغیر پروٹین کی غذا بچوں کے اندر توانائی پیدا نہیں کرتی جس کی اس کو ضرورت ہے۔ اس لئے اس مسئلے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ناقص غذائیت انسانی معاشرے کے لئے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔