آجکل، عینی آپا اور محبوب الرحمن فاروقی

حقانی القاسمی

Cel: 9891726444
Email.: haqqanialqasmi@gmail.com
ماہنامہ آجکل سے میرے رشتے کی کہانی بہت پرانی ہے۔ شاید تین دہائی قبل کی بات ہے۔ میں بہت چھوٹا تھا مگر اس عمر میں جذبہ تھا، جنون تھا، آسمان سے تارے توڑنے کی خواہش تھی۔ پکی روشنائی میں اپنا نام دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ میں نے بغیر سوچے سمجھے آجکل کے مدیر کے نام ایک ٹوٹا پھوٹا سا خط بھیج دیا۔ خلاف توقع خط کا بہت مثبت جواب ملا۔ مدیر محترم نے لکھا تھا کہ آپ کی تحریر معیاری ہوگی تو رسالے میں ضرور شائع کی جائے گی۔ ایک بڑے رسالے کے ایڈیٹر کے اس خط کے خمار میں ہفتوں کھویا رہا۔ میں اس وقت معیاری کے مفہوم سے بھی قطعی ناآشنا تھا۔ غزلیں اور نظمیں بھی میری فہم سے بالا تر تھیں۔ میں اِدھر ادھر کے جملے جوڑکر ’مضمون بنانے‘ کی مشق کرتا رہتا تھا۔ چوری کے جملے جوڑنے کی کوشش سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ کچھ الفاظ، محاورے، فقرے میرے ذہن کا حصہ بنتے گئے اور پھر انہی لفظوں کی مدد سے میں مراسلے، مکتوبات لکھنے لگا، جن میں سے بعض چھپے بھی اور کچھ ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگئے۔ اسی زمانے میں ’مکتوبی ادیب‘ کی ایک اصطلاح بھی چل پڑی تھی۔ خطوط کی اشاعت سے میرا حوصلہ بڑھا، خود اعتمادی پیدا ہوئی، اخبارات اور رسائل میں میری ٹوٹی پھوٹی تحریریں چھپنے لگیں اور اس عرصہ میں ماہنامہ آجکل کے مطلوبہ معیار کی تلاش بھی جاری رہی۔
میں مسلسل کوشاں رہا، بالآخر ایک دن معیار کی وہ منزل مل ہی گئی — مگر آجکل کے معیار تک پہنچنے میں مجھے تقریباً 16 یا 17سال لگ گئے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ پیدائشی معیاری ہوتے ہیں اور کسی رسالے میں مضمون شائع نہ ہونے کی صورت میں وہ رسالہ ہی غیرمعیاری ہوجاتا ہے۔
ماہنامہ آجکل میں جب میرا مضمون شائع ہوا تو میں ایم اے کرچکا تھا اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تحقیق کا طالب علم تھا۔ فلسطین کی مزاحمتی شاعری پر کام کررہا تھا۔ میرے موضوع تحقیق میں محمود درویش، ابراہیم طوقان، فدوی طوقان اور سلمیٰ الخضرا الجیوسی جیسے نمائندہ شعراء شامل تھے۔ میں نے ’فدوی طوقان کی شعری دنیا‘ کے عنوان سے مضمون لکھا اور آجکل کو اس امید کے ساتھ بھیج دیا کہ یہ اس کے مطلوبہ معیار پر ضرور اترے گا۔ ادارہ آجکل کی طرف سے مثبت جواب ملا۔ خوشی ہوئی کہ پہلی بار ایک موقر اور معتبر مجلہ میں اشاعت کے لئے میرا مضمون منظور کرلیاگیا ہے۔ اشاعت میں قدرے تاخیر ہورہی تھی سو میں علی گڑھ سے کڑی دھوپ کا سفر طے کرکے آجکل کے دفتر پہنچا جہاں آجکل کے مدیر محترم محبوب الرحمن فاروقی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ پتہ چلا کہ مضمون زیر ترتیب شمارے میں شامل ہے۔ کچھ دنوں بعد ہی آجکل کا وہ شمارہ مجھے مل گیا۔ اپنی تصویر کے ساتھ مضمون دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ہفتہ بھر میں صرف اپنا ہی مضمون دیکھتا رہا۔ دوسرے مشمولات کی طرف میرا دھیان ہی نہیں گیا— ایک خواب تھا جو پورا ہوا، ایک آرزو تھی جو تکمیل کو پہنچی۔ میرے خط اور مضمون کے درمیان ایک لمبا فاصلہ تھا، جب میں نے خط لکھا تھا تو آجکل کے مدیر راج نارائن راز تھے اور جب مضمون چھپا تو آجکل کی ادارت کے منصب پر محبوب الرحمن فاروقی فائز تھے۔
یہی مضمون آجکل کے دفتر سے میری وابستگی کا ایک مضبوط وسیلہ بنا۔ ہوا یوں کہ میں علی گڑھ سے دلی آیا تو روزگار کی تلاش میں اردو دفتروں کے چکر لگاتا رہا۔ ملازمت کی کوئی مستقل صورت تو نہیں نکلی، البتہ ایک اخبار ’سچ بالکل سچ‘ اندر لوک میں عارضی پناہ مل گئی۔ پھر کچھ دنوں بعد م افضل ایم پی راجیہ سبھا کے ہفت روزہ اخبار نو سے جڑگیا۔ اس کا دفتر 96ساؤتھ ایونیو میں تھا۔ رہائش کا بھی وہیں انتظام تھا۔ مگر مجھے وہاں بڑی اجنبیت اور وحشت سی محسوس ہوتی تھی۔ سردیوں کی کئی راتیں اخبار کے پلندے اوڑھ کر کاٹنی پڑی تھیں — میں نے اپنے ایک دوست کے کہنے پر اپنی رہائش بدل دی، لکشمی نگر کے علاقہ میں رہنے لگا۔ وہاں شفٹ ہوئے مجھے دوچار ہی دن ہوئے تھے — میں ایک دن ذرا تاخیر سے اخبار نو کے دفتر پہنچا تو پتہ چلا کہ اخبار نو سے میری خدمات معطل کردی گئی ہیں۔ میں ایک بار پھر بے روزگار ہوگیا۔
مجھے تھوڑا صدمہ ہوا مگر اچانک جانے کہاں سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ بے روزگاری جہاں تناؤ دیتی ہے وہیں کبھی کبھی نئی توانائی کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ پریشان حال، بے روزگار انسان نئے مواقع اور نئے امکانات کی تلاش میں جٹ جاتا ہے اور اس کے طفیل نئی فضا، نیا ماحول، نئے لوگ، نئے راستے مل جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو وہ منزل بھی جس کے بارے میں انسان نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔
اسی بے روزگاری نے مجھے عینی آپا (قرۃ العین حیدر) جیسی شہرہئ آفاق، نادرہ روزگار شخصیت تک پہنچایا جن تک رسائی میرے لئے ہی نہیں بڑے بڑوں کے لئے بھی مشکل ہوا کرتی تھی۔ عینی آپا تک پہنچنے کا قصہ یوں ہے کہ میں اپنے چچا محمود عالم سے ملنے ترکمان گیٹ پہنچا تو انہوں نے مجھے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ آپ سے کچھ ضروری کام ہے۔ ممکن ہو تو آجکل کے دفتر میں آکر ملیں۔ نیچے محبوب الرحمن فاروقی مدیر آجکل کے دستخط تھے۔ میں ایک دو دن بعد آجکل کے دفتر پہنچا۔ محبوب الرحمن فاروقی صاحب بڑی محبت سے ملے، اپنے قریب بیٹھایا اور پھر کہنے لگے کہ ماہنامہ آجکل میں عینی آپا کے کار جہاں دراز ہے جلد سوم کا سلسلہ شروع کرنا ہے۔ انہیں ایک ایسے لڑکے کی ضرورت ہے جو ان سے صحیح صحیح ڈکٹیشن لے سکے۔ میں نے ان سے بات کرلی ہے، تم کل ہی جاکر ان سے مل لو۔ عینی آپا کی شخصیت سے میں اچھی طرح واقف تھا، اس لئے بغیر کسی تذبذب اور تامل کے میں راضی ہوگیا۔ اگلے دن جب میں ان کی رہائش گاہ سیکٹر 25جل وایو وہار، نوئیڈا پہنچا تو شاید وہ پہلے سے ہی منتظر تھیں۔ رسمی گفتگو کے بعد انہوں نے لکھوانا شروع کردیا — پہلے باب کا آغاز ہوچکا تھا۔ میں وہاں سے آجکل کے دفتر پہنچا۔ فاروقی صاحب نے عینی آپا کے کار جہاں دراز ہے کے علاوہ کچھ پروف پڑھنے کی اضافی ذمہ داری بھی دے دی۔ میں صبح عینی آپا کے گھر جاتا اور دوپہر بعد آجکل کے دفتر آجاتا— عینی آپا مجھ سے بہت خوش تھیں اور فاروقی صاحب کے حسن انتخاب کی داد بھی دیتی رہتی تھیں۔۔
کار جہاں دراز ہے کی وجہ سے ’آجکل‘ میں میری آمد کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔ محبوب الرحمن فاروقی صاحب بھی بہت محبت کرنے لگے تھے اور انہیں شاید میری مدد کا خیال بھی رہتا تھا اس لئے تبصرہ کے لئے کتابیں بھی دے دیتے تھے۔ ایک ہی شمارے میں انھوں نے میرے کئی کئی تبصرے شائع کیے تھے۔ ان کی شفقتوں اور محبتوں کی وجہ سے آجکل سے میری انسیت بڑھتی گئی۔ وہاں کا ماحول عام اردو اداروں سے بالکل الگ تھا۔ وہاں کے ماحول میں مجھے بڑی محبتیں ملیں۔ ڈاکٹر ابرار رحمانی، نرگس سلطانہ، رقیہ زیدی، منیر انجم سبھی بہت خیال رکھتے تھے، مجھے کبھی وہاں اجنبیت کا احساس نہیں ہوا — میں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی اس دفتر کا ایک حصہ تھا۔ محبوب الرحمن فاروقی صاحب مجھ پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے اداریہ میں حذف وترمیم کا بھی اختیار دے رکھا تھا۔ وہ اکثر Hard Hitting اداریے لکھا کرتے تھے اور ان کے اداریے اکثر بحث کا موضوع بھی بن جاتے تھے، ان اداریوں کی وجہ سے محبوب الرحمن فاروقی، معتوب بھی ہوئے، ان کے خلاف کچھ ادیبوں نے محاذ بھی کھول دیا مگر فاروقی صاحب اپنی ’روش خاص‘ پر قائم رہے — اپنے موقف سے کبھی نہیں ہٹے۔ وہ نہایت اصول پرست انسان تھے۔ انگریزی اور عالمی ادب کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ انہیں میں اکثر کسی انگریزی مضمون کا ترجمہ کرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ وہ اداریہ املا کرواتے تھے۔ شاید آجکل میں باقاعدہ اداریہ لکھنے کی روایت انہوں نے ہی قائم کی۔ وہ بڑی دلسوزی کے ساتھ اردو زبان وادب کے مسائل پر اداریے لکھا کرتے تھے، ان کے دل میں صحیح معنوں میں اردو زبان وادب کا درد تھا۔ محبوب الرحمن فاروقی نے اپنے زمانہ ادارت میں بہت ہی اہم خصوصی شمارے اور گوشے بھی شائع کیے۔ ان کے زمانہ میں آجکل کو بہت عروج ملا۔
محبوب الرحمن فاروقی صاحب کی صحبت میں مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ کوئی بڑا ادیب یا فن کار آتا تو فاروقی صاحب بڑی محبت سے میرا تعارف کراتے اور جب میں ادھر ادھر چھپنے کی کوشش کرتا تو آواز دے کر کہتے: ”ابے کہاں چھپ رہا ہے“۔ ان کے لہجے میں بڑی محبت اور شفقت تھی — یہیں میری ملاقات رام پرکاش راہی سے ہوئی جو بہت مخلص اور وضعدار تھے۔ ماہنامہ سہیل گیا میں ڈاکٹر تارا چرن رستوگی سے ادبی معرکہ آرائی کی وجہ سے مجھ سے واقف تھے، آج کی مشہور فکشن نگار محترمہ ترنم ریاض صاحبہ سے بھی پہلی ملاقات آجکل کے دفتر میں ہی ہوئی تھی— صلاح الدین پرویز مرحوم سے بھی باضابطہ ملاقات محبوب الرحمن فاروقی نے ہی کروائی تھی — انہوں نے کہا تھا کہ میرے پاس ایک ہیرا ہے، اسے لے جاکر تراشو، تمہارے بہت کام آئے گا۔ فاروقی صاحب ہر طرح میری مدد کرناچاہتے تھے، ان کی یہی خواہش تھی کہ آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نکلے — فاروقی صاحب کی محبتوں نے مجھے ’آجکل‘ کا اسیر بنادیا تھا۔ اس لیے اس کی زلفوں سے رہائی مجھے منظور نہ تھی۔ میرے لئے فخر وانبساط کی بات یہ تھی کہ میں بیک وقت دو بڑے اداروں سے وابستہ تھا۔ عینی آپا اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک انجمن تھیں اور آجکل تو ایک تسلیم شدہ بڑا ادارہ تھا ہی، جس سے ادب وثقافت کی بڑی بڑی شخصیتیں وابستہ رہی ہیں۔ شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے علاوہ سید وقار عظیم، عرش ملسیانی، مہدی عباس حسینی، شہباز حسین، راج نارائن راز۔ یہ سارے آفتاب وماہتاب آجکل کی ادارت سے وابستہ رہے ہیں۔ یہی نہیں آجکل کی ادارتی کہکشاں میں شان الحق حقی، معین احسن جذبی، جگن ناتھ آزاد، بلونت سنگھ، نند کشور وکرم، عادل صدیقی، باقر مرزا، عابد کرہانی، خورشید اکرم جیسے ارباب کمال بھی نائب مدیران کی حیثیت سے شامل رہے ہیں۔ ان میں سے کون ہے جن سے علمی وادبی دنیا واقف نہیں — ان مدیران کے وژن نے اس رسالہ کو باوزن بنایا اور ’آجکل‘ کو اوج ثریا عطا کیا۔
میں آجکل اور عینی آپا کے درمیان ایک پل کا کام کررہا تھا۔ کار جہاں دراز ہے کا سلسلہ شروع ہوا تو آجکل کی مقبولیت میں اور اضافہ ہونے لگا۔ قارئین شوق سے اس سلسلہ کا انتظار کرنے لگے۔ اس وقت عینی آپا کی شخصیت ایک Living Legend کی سی تھی۔ عینی آپا بھی اس نئے سلسلے سے بہت خوش تھیں۔ جب پہلا شمارہ ان کی خدمت میں پیش کیا تو میں نے ان کے اندر ایک نئی طرح کی داخلی توانائی اور تازگی محسوس کی— کار جہاں دراز ہے کا یہ سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا گیا— کئی ماہ تک جوش وخروش کے ساتھ لکھنے لکھانے کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور پھر ایک دن ایسا ہوا کہ جیسے ہی میں عینی آپا کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ غصہ سے بھری بیٹھی ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں آجکل کو اب کچھ بھی نہیں بھیجوں گی۔ آپ جائیے اور اپنے ایڈیٹر صاحب سے کہئے کہ اب یہ سلسلہ جاری نہیں رہے گا۔ میں وہاں سے آجکل کے دفتر پہنچا، فاروقی صاحب تھوڑے گھبرائے ہوئے تھے، کہنے لگے، حقانی غضب ہوگیا، عینی آپا بہت ناراض ہیں۔ اب تم ہی سنبھال سکتے ہو۔ انہوں نے پورا ماجرا سنایا۔ میں اتنے دنوں میں عینی آپا کے مزاج اور نفسیات سے واقف ہوچکا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ نہایت حساس اور زود رنج ہیں لیکن جتنی جلدی غصہ ہوتی ہیں، اتنی جلدی مان بھی جاتی ہیں۔ کم از کم میرا تجربہ تو یہی تھا۔ دوسرے دن جب میں عینی آپا کے گھر پہنچا تو وہ قدرے نارمل تھیں۔ کہنے لگیں کہ آپ کے ایڈیٹر صاحب بھی کیسی احمقانہ باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ نادم تھے، انہیں اپنی غلطی کا احساس ہے۔ وہ تو نہایت سادہ لوح آدمی ہیں، ان کے ذہن میں کوئی فتور نہیں ہے۔
میری باتوں سے ان کا ذہن تھوڑا صاف ہوا اور وہ کار جہاں دراز ہے کا سلسلہ جاری رکھنے پر راضی ہوگئیں۔
اس میں فاروقی صاحب کی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے تو وفور محبت میں ٹائمز آف انڈیا میں چھپی ان کی خوب صورت تصویر کی تعریف کردی تھی، عینی آپا کو یہ تعریف ناگوار گزری،ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ لوگ خواتین کی تخلیق نہیں تصویر کے دلدادہ ہوتے ہیں، اس لئے تحریر نہیں تصویر کی تعریف کرتے ہیں۔
میں نے جب ان سے کہا کہ ٹائمز آف انڈیا میں لاکھوں لوگوں نے آپ کی تصویر دیکھی ہوگی، انہوں نے دیکھ کر آپ کی تعریف کردی تو اس میں برا کیا ہے۔ کہنے لگیں: ”آپ بھی“۔
عینی آپا کا یہ رویہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ وہ جب بھی کار جہاں دراز ہے نکالتیں تو تصویری البم والے حصہ کو بہت مضبوطی سے پکڑلیتیں تاکہ میں نہ دیکھ سکوں — میں نے عینی آپا سے کہا کہ یہ کتاب تو بازار میں دستیاب ہے۔ کوئی بھی یہ تصویریں دیکھ سکتا ہے— عینی آپا کا یہ عمل بلاسبب نہیں تھا، اس کے پیچھے کیا نفسیات تھی، میں تھوڑا بہت سمجھ سکتا ہوں مگر لوگوں کو کیوں بتاؤں؟
عینی آپا کا متضاد رویہ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک طرف وہ تصویریں چھُپاتی تھیں اور دوسری طرف آجکل میں چھپوانے کے لیے تصویروں کا خود ہی انتخاب کرتی تھیں اور ان کی ہدایت کے مطابق ہی آجکل میں ان کی تصویریں شائع ہوتی تھیں۔
عینی آپا کے گھر اور آجکل کے دفتر سے میرا بہت مضبوط رشتہ قائم ہوگیا تھا۔ میں خوش تھا اور اپنے مستقبل سے بے خبر اپنے حال میں مست تھا کہ ایک دن پتہ چلا کہ آجکل میں نائب ایڈیٹر کی مستقل تقرری ہوگئی ہے اور اس طرح آجکل سے میرا عارضی رشتہ ٹوٹ سا گیا۔ میں ایک بار پھر….. شاید اب کوئی اور نئی جگہ میری منتظر تھی۔ سو آمد ورفت کی سمت بدل گئی۔ سمتوں کی یہی تبدیلی ہفت روزہ نئی دنیا، سہ ماہی استعارہ اور بزم سہارا تک لے گئی— مگر ’آجکل‘ کی یاد کبھی ذہن سے محو نہیں ہوئی۔ میں آج بھی ماہنامہ آجکل اسی دل جمعی سے پڑھتا ہوں، خوشی ہوتی ہے کہ اردو قاری کے بحران اور نامساعد حالات کے باوجود یہ رسالہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ردو کے قلمکار اس میں چھپنے کے لئے ویسے ہی ترستے ہیں جس طرح میں بنارس، دیوبند اور علی گڑھ کے زمانے میں ترسا کرتا تھا۔
آج اس رسالے نے اپنی اشاعت کے 75سال پورے کرلئے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اردو کے اکثر رسالے طلوع ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی غروب ہوجاتے ہیں۔ اپنے اشاعتی تسلسل کو برقرار نہیں رکھ پاتے، مگر یہ رسالہ اسی تواتر اور تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے اور قارئین میں ما قبل کی طرح ہی مقبول ہے۔
75سال قبل یہ پشتو زبان کے رسالہ ”نن پرون“ کے اردو ایڈیشن کی حیثیت سے شائع ہوتا تھا جس میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں سے واقف کرانے والی تحریریں ہوتی تھیں۔ ’آجکل‘ کا نام اسے 25نومبر 1942 کو ملا اور یکم جون 1943 سے یہ پندرہ روزہ باتصویر رسالہ کی شکل میں شائع ہونے لگا۔ برطانوی حکومت کے قائم کردہ ادارہ، یونائٹیڈ پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہونے والا یہ رسالہ آزادی کے بعد حکومت ہند کا ترجمان بن گیا اور پبلی کیشن ڈویژن کے ماتحت آگیا۔ دسمبر 1949 سے ماہنامہ کی شکل میں یہ رسالہ نکلنا شروع ہوا تو اس کی شکل وصورت بھی بدلی، مشمولات اور مندرجات میں بھی تبدیلیاں آئیں — پہلے یہ نیم ادبی رسالہ تھا، اس کے اولین مدیر آغا محمد یعقوب دواشی کی کوششوں سے یہ ادبی جریدہ کی شکل اختیار کرتا گیا۔
بعد کے مدیروں نے اس کے رنگ، روپ کو اور نکھارا۔ یہ رسالہ خوب سے خوب تر ہوتا گیا۔ 75سال کے عرصہ میں ماہنامہ آجکل نے ادب وثقافت اور معاشرت کو نئے نئے عنوانات اور موضوعات دیے۔ ادبی مباحث کے علاوہ علاقائی ادبیات، عالمی تراجم، سائنسی، تکنیکی موضوعات آجکل کا حصہ بنے۔ ہندوستان کی ادبی فضا کو بنانے اور اردو ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے میں اس رسالے نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ نئے نئے ادبی، لسانی، ثقافتی مباحث کے ذریعہ عوام وخواص کے ذہن کو مہمیز کیا۔ مصوری، موسیقی، فن تعمیر، لوک گیت، طباعت واشاعت جیسے اہم موضوعات پر خصوصی شمارے شائع کئے۔ اصناف (افسانہ، تحقیق، صحافت، طنز ومزاح، نظم) وغیرہ پر خصوصی اشاعتوں کے علاوہ شخصیات پر خصوصی شمارے شائع کئے جن میں امیر خسرو، بہادر شاہ ظفر، پریم چند، جگر مراد آبادی، جمیل مظہری، چکبست، حسرت موہانی، خواجہ حسن نظامی، رابندر ناتھ ٹیگور، سجاد ظہیر، غالب، اقبال، ذاکر حسین، عابد حسین، میر انیس، میر تقی میر، گرونانک اور مہاتما گاندھی نمبر قابل ذکر ہیں۔
ان کے علاوہ اردو کے حوالے سے ایک دستاویزی شمارہ اردو نمبر اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے اردو کی صحیح صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی رسالے نے نئے نئے سلسلے شروع کئے، غبار کارواں، بہ خط شاعر جیسے مفید سلسلے اسی رسالے کی دین ہیں۔ آجکل کے امتیازات کی ایک طویل فہرست ہے اور یہ امتیاز آج بھی برقرار ہے۔ ابرار رحمانی کی ادارت میں یہ رسالہ نئے ادبی مباحث، نئے موضوعات، نئے امتیازات کے نقش بھی قائم کرتا جارہا ہے۔ خاص طور پر ’ادبی اڈہ‘ کے سلسلے نے آجکل کے کلاہ امتیاز میں ایک اور نگینہ جڑدیا ہے— ان کے اداریے بھی ذہنوں کو تحرک بخشتے ہیں اور اپنے اداریوں کی وجہ سے محبوب الرحمن فاروقی کی طرح وہ بھی معتوب ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں اپنے اداریوں کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے جبکہ ان اداریوں میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہوتی مگر انا گزیدہ لوگ صرف اپنی تخلیقات شائع نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح کے اوچھے حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف آجکل کا نہیں ہے، بیشتر ان رسائل کا ہے جن سے قلمکاروں کو شہرت ومقبولیت کے علاوہ مالی منفعت کی توقع رہتی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*