آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟ ـ ایم ودود ساجد

"۔۔۔۔ ملک کی سپریم کورٹ ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ مسلمان سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہے ہیں۔۔۔” جسٹس چندر چوڑ

"…… عدالت پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس پروگرام کا مقصد مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا اور اسے سول سروسز میں گھس پیٹھ کی مہلک کوشش کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔۔۔۔۔” جسٹس کے ایم جوزف

28 اگست 2020 کو سدرشن ٹی وی کے زہریلے پروگرام پر پیشگی پابندی لگانے سے انکار کرنے کے بعد آخر کار آج سپریم کورٹ نے ’بنداس بول‘کے تحت ’سول سروسز میں مسلمانوں کے جہاد‘نامی پروگرام کے باقی ایپی سوڈ کے ٹیلی کاسٹ پر پابندی عاید کردی ہے۔

گوکہ یہ پابندی اگلے احکامات تک ہے اور اگلی سنوائی 17ستمبر کو ہے‘ تاہم سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ میں آج جو Proceedings درج ہوئیں وہ بہت حوصلہ افزا ہیں۔ 28 اگست کو یہ ضرور ہوا تھا کہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت،پریس کونسل آف انڈیا اور سدرشن ٹی وی کو نوٹس جاری کردیا تھا جس کے جواب پر آج بحث ہوئی ـ

ادھر 28 اگست کو ہی جامعہ کے طلبہ دہلی ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے جہاں سے اس پروگرام کے پیشگی ٹیلی کاسٹ پر مشروط پابندی عاید ہوگئی تھی۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ سدرشن ٹی وی کو نوٹس جاری کرے اور اس کا جواب مل جانے کے 48 گھنٹے کے اندر اس پر فیصلہ کردے۔حکومت نے حسب توقع مگر خلاف قانون سدرشن کے جواب پر فیصلہ کردیا اور اسے یہ زہریلا پروگرام ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت دے دی۔معلوم ہوا ہے کہ سدرشن اس پروگرام کے 4 ایپی سوڈ دکھا چکا ہے اور کچھ باقی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف ان باقی ایپی سوڈز پر پابندی عاید کی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر آوارہ چینلوں کی ناک میں نکیل ڈالنے کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی وزارت اطلاعات ونشریات کے ذریعہ اجازت دیے جانے کے خلاف حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

سدرشن ٹی وی کے ایڈیٹر اوراینکر سریش چوانکے نے اگست کے آخر میں ایک ٹویٹ جاری کرکے اس زہریلے پروگرام کا ٹریلر دکھایا تھا۔اس میں بتایا گیا تھا کہ ”مسلمان یوپی ایس سی کے ذریعہ جہاد“میں مصروف ہیں اور نوکر شاہی میں گھس پیٹھ کرکے بڑی سازش کر رہے ہیں۔

آج جب سپریم کورٹ میں اس معاملہ میں سنوائی شروع ہوئی توامیتابھ پانڈے اور نوریکھا شرما نے سابق سول سروینٹس کے نوتخلیق شدہ گروپ ’Constitutional Conduct’کی معرفت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے اس معاملہ میں پارٹی بنائے جانے اور’منافرت انگیز بیانات‘ پر قدغن لگانے کے لئے کچھ حتمی اصول وضع کرنے کی اپیل کی۔

سپریم کورٹ نے ملک کے پانچ ممتاز شہریوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت دی جو الیکٹرانک میڈیا کے لئے معیاری رہنما اصول اور ضابطے بنائے گی۔عدالت نے یہ واضح کردیا کہ "ہمیں اس کمیٹی میں سیاسی مزاج کے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم ایسے شہریوں کو ممبر کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں جن کا رتبہ قابل ستائش ہو”۔انوپ جارج چودھری ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پورے ملک میں سول سروسز میں کل 292 مسلمان افسر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگر آپ سدرشن ٹی وی پر چلنے والے اس شو کی اسکرپٹ کو دیکھیں تو اس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہے ہیں۔مسلم اوبی سی دوسرے اوبی سی کا حصہ بھی ہڑپ کر رہے ہیں۔اس شو میں گراف کے ذریعہ مسلمانوں کیلئے حرام…..اور غدارکا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے۔

اس موقع پر جسٹس چندر چوڑ نے نوٹ کیا کہ پٹیشنر میڈیا رپورٹنگ کیلئے رہنما اصول چاہتے ہیں۔جسٹس کے ایم جوزف نے بہت ہی اہم بات کہی۔انہوں نے کہا کہ ”یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وزول میڈیا (ٹی وی) کس کی ملکیت ہیں اور کمپنی کے تمام شیئر ہولڈنگ کا اسلوب کیا ہے۔۔۔ یہ تمام تفصیلات عوام کی معلومات کیلئے کمپنی کی ویب سائٹ پر موجود ہونی چاہئیں۔کمپنی کا Revenue Model یعنی آمدنی کا نمونہ بھی ویب سائٹ پر ہونا چاہئے۔۔۔ معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت کسی ایک چینل کو زیادہ اشتہارات اور کسی کو کم تو نہیں دے رہی ہے۔

جسٹس جوزف نے ٹی وی چینلوں پر ہونے والی Debates کے طریقہ کار اور ان کی نوعیت پر بھی سوال اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ:”یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بحث کے دوران اینکر کا کردار کیا ہوتا ہے۔جب دوسرے بولیں تو کیسے سناجاتا ہے۔یہ چیک کرنے کی ضرورت ہے کہ اینکر کتنا وقت لیتا ہے۔وہ (اینکرز) اسپیکر بند (Mute) کردیتے ہیں اور سوال پوچھتے ہیں۔

جسٹس چند رچوڑ نے سدرشن کیس پر واپس آتے ہوئے کہا: کہ اینکر (سریش چوہانکے) کو شکایت ہے کہ ایک خاص گروپ سول سروسز میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا:

1- یہ کتنی موذی اور چھل کپٹ والی بات ہے۔
2- ایسے احمقانہ الزامات خود یوپی ایس سی امتحانات پر بھی سوال کھڑے کرتے ہیں۔
3- یہ الزامات بغیر کسی حقیقی بنیاد کے ہیں۔
4- اس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟
5- کیا ایک آزاد معاشرے میں ایسے پروگرام کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
6- کیا میڈیا کیلئے ایسے نافذ العمل معیارات نہیں ہونے چاہئیں کہ جس کی رو سے خود میڈیا آرٹیکل 19(1)(a) کے دعوے پر پورا اتر سکے؟

(واضح رہے کہ یہ شرپسند چینل اسی آرٹیکل کا حوالہ دے کر شرپھیلانے کی آزادی چاہتے ہیں)۔

اس موقع پر مرکزی حکومت کے وکیل اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جسٹس جوزف کے بیان کے دو رخ ہیں۔میڈیا پر کنٹرول جمہوریت کے لئے خطرناک ہوگا۔اس پر جسٹس جوزف نے جواب دیتے ہوئے کہا: جب ہم صحافتی آزادی کی بات کرتے ہیں تو یہ مطلق (آزدای) نہیں ہے۔صحافی کو وہی آزادی ہے جو اس ملک کے دوسرے عام شہریوں کو حاصل ہے۔امریکہ کی طرح یہاں بھی صحافیوں کے لئے کوئی الگ قسم کی آزادی نہیں ہے۔ہمیں ایسے صحافیوں کی ضرورت ہے جو بحث کے دوران منصفانہ رویہ اختیار کریں۔

اس کے بعدجسٹس چندر چوڑ نے کہا: ملک کے بہترین (دماغوں) کے ذریعہ ان اقدامات کی تجاویز آنے دیجئے جو ہمارے پلیٹ فارم (عدلیہ) پر بحث میں معاون ثابت ہوں اور پھر معیار طے کئے جائیں۔اس وقت ایک اینکر (چوہانکے) ایک خاص کمیونٹی(مسلمانوں) کو نشانہ بنارہا ہے۔یہ کہنے کے لئے کہ ہم ایک جمہوریت ہیں ہمیں کچھ معیارات وضع کرنے پڑیں گے”ـ

اس پر سدرشن ٹی وی کے وکیل شیام دیوان نے جواب دینے کے لئے کچھ مہلت مانگی۔اس پر جسٹس چند رچوڑ نے کہا: آپ کا موکل (سدرشن) ملک کو برباد کر رہا ہے اور ہندوستان کی متنوع تہذیبی ثقافت کو قبول نہیں کر رہا ہے۔آپ کے موکل کو اپنی آزادی کا استعمال کرتے وقت احتیاط کرنی پڑے گی۔

سپریم کورٹ میں آج کی بحث بہت تفصیلی تھی۔لنچ کے وقفہ کے بعد جب عدالت دوبارہ بیٹھی تو جسٹس چندر چوڑ نے نیوز براڈ کاسٹرس ایسو سی ایشن (این بی سی اے) کی وکیل نشا بھمبھانی سے پوچھا: ” ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا لیٹر ہیڈ کے علاوہ بھی آپ کا کوئی وجود ہے؟ آخر آپ اس وقت کیا کرتے ہیں جب میڈیا کے ذریعہ جرائم کی متوازی تحقیقات چل رہی ہوتی ہیں اور ساکھ کو داغدار کیا جارہا ہوتا ہے؟

اس پر سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے عدالت سے ہی پوچھ لیا کہ مثال کے طورپر وکیل گوتم بھاٹیا کچھ ایسا لکھ دیں کہ جس سے میں اتفاق نہیں رکھتا اور میں حساب بے باق کرنا چاہتا ہوں اور میں ایک ایسا گھناؤنا مضمون لکھ دوں کہ جس کا وہ جواب نہ دیں توپھر آپ (عدلیہ) اسے کیسے ریگولیٹ کریں گے؟ اس پر جسٹس چندر چوڑ نے جواب دیا: لیکن اس کا موازنہ آپ نفع کمانے والی اکائیوں سے نہیں کرسکتے؟علمی فائدے کیلئے دانشورانہ مضمون ایسی تنظیموں سے بالکل مختلف ہیں۔

جسٹس کے ایم جوزف نے کہا: پروگرام کوڈ کا ضابطہ نمبر6 کہتا ہے کہ کیبل ٹی وی پروگرام ایسی کوئی چیز نہیں دکھاسکتے کہ جو ایک خاص مذہب اور طبقہ کو نشانہ بنائے۔اس موقع پر پٹیشنر کے وکیل شادان فراست نے عدالت سے کہا کہ سدرشن کا پروگرام پورے طور پر سول سروسز میں موجود مسلمانوں کی شبیہ خراب کر رہا ہے۔انہیں دہشت گرد کہا گیا ہے۔منافرت انگیز بیانات ایسی چیز ہیں کہ جس کاحق جواب ممکن نہیں ہے۔ آخر اس بیان کا کیا جواب دیا جائے کہ سول سروسز میں مسلمانوں کو نہیں آنا چاہئے۔۔۔؟

سدرشن کے وکیل شیام دیوان نے رٹ کا جواب دینے کیلئے دوہفتہ کا وقت مانگا۔لیکن انہوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا کہ باقی ایپی سوڈ نہیں دکھائے جائیں گے۔جسٹس چندر چوڑ نے پوچھا کہ اس پروگرام کا لب لباب کیا ہے؟ تو دیوان نے جواب دیا کہ: وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تحقیقاتی اسٹوری ہے‘ اس کا تعلق ملک کی سلامتی سے ہے اور یہ لوگوں کے حق میں ہے۔اس میں (سول سروسز کی تیاری کرانے والے پرائیویٹ مسلم اداروں میں) ایسے ملکوں سے بھاری فنڈ آرہا ہے کہ جو ہندوستان کے دوست ممالک نہیں ہے۔اور سدرشن ٹی وی سمجھتا ہے کہ یہ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے مطلع کرے۔

جسٹس جوزف نے کہا: جیسے ہی دوہفتوں کی مہلت ختم ہوگی یہ پروگرام بھی ختم ہوچکا ہوگا۔حکومت نے آپ سے کہا تھا کہ پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔اب جرمانہ کیا ہو؟

اس کے بعد شادان فراست نے عدالت کے سامنے سدرشن کے اس پروگرام کی کچھ کلپس رکھیں۔عدالت نے یہ کلپ غور سے دیکھیں۔اور فوراً سدرشن کو ہدایت دی کہ وہ17ستمبر تک باقی شوز نہ دکھائے۔۔۔ واضح رہے کہ 17ستمبر کو پھر سماعت ہوگی۔۔۔ شیام دیوان نے اس ہدایت پر سخت احتجاج کیا۔۔۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام پر پیشگی پابندی عاید نہیں کی جاسکتی۔ہم چار شوز دکھاچکے ہیں۔اگر یہ پیشگی پابندی ہے تو میں استدلال کروں گا۔غیر ملکوں سے فنڈز آنے کا صاف لنک موجود ہے۔

اس پر جسٹس چندر چوڑ نے کہا: ہمیں تشویش اس امر کی ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اس گروپ کا حصہ ہیں جو سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہا ہے۔ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ ملک کی سپریم کورٹ ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ مسلمان سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہے ہیں۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جرنلسٹ (چوہانکے) کو ایسا کرنے کی پوری آزادی ہے۔

اس کے بعد جسٹس چندر چوڑ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ کیا 9 ستمبر کو مرکزی وزارت اطلاعات ونشریات نے اس پروگرام کو11 اور 14 ستمبر کو دکھانے کی اجازت دیتے وقت دماغ کا استعمال کیا تھا؟ اس پر تشار مہتا کے پاس کوئی جوا ب نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت سے پوچھ کر بتاؤں گا۔اب 17ستمبر کو تشار مہتا کو عدالت کو یہ بتانا پڑے گا۔عدالت نے بہر حال تمام فریق کو سننے کے بعد مندرجہ ذیل فیصلہ لکھوایا:

”……وہ صورت حال بدل گئی ہے جو پیشگی پابندی کے مرحلے میں ہوتی ہے۔پٹیشنر نے بتایا ہے کہ فرضی خبریں دکھائی گئی ہیں۔اسکرین شاٹ‘ویڈیو کلپ اور اسکرپٹ کے ذریعہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سول سروسز میں آنے کو گھس پیٹھ کی ایک ساز ش بتایا گیا ہے۔یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ یہ پروگرام ملک میں نفرت آمیز بیانات کا محور بن گیا ہے۔عدالت پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس پروگرام کا مقصد مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنا اور اسے سول سروسز میں گھس پیٹھ کی مہلک کوشش کا ذمہ دار قرار دینا ہے۔یہ ہمارا فرض منصبی ہے کہ ہم کیبل ٹی وی ایکٹ کے پروگرام کوڈ پر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔جمہوری معاشرے کی مستحکم عمارت‘آئینی حقوق کی پاسداری اور فرائض کی بنیاد مختلف فرقوں کی بقائے باہم پر ہے۔۔۔کسی ایک کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔ہمارا موقف یہ ہے کہ صورت حال میں تبدیلی آگئی ہے۔اب تک جو بھی شوز دکھائے گئے ہیں ان سے پروگرام کے نیچر اور مقصد کا پتہ چلتا ہے۔اس عدالت کے اگلے احکامات تک سدرشن نیوز کو مزید ایپی سوڈ اس نام سے یا کسی بھی نام سے براڈ کاسٹ کرنے سے روکا جاتا ہے“ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*