آج امین عثمانی بھی رخصت ہو گئے – مسعود جاوید

 

مثل مشہور ہے کہ روزی کے لئے حیلۂ کام کی ضرورت ہوتی ہے اور موت کے لئے کوئی نہ کوئی عموماً بہانہ ہوتا ہے۔
پانچ روز قبل ملی گزٹ نے اپیل کی تھی کہ امین عثمانی صاحب (ہمدرد) مجیدیہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں اور انہیں پلازما کی ضرورت ہے۔ اور آج اس کورونا وائرس نے امین صاحب کو زندگی کی لڑائی میں شکست دے دی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون‌۔ وہ ٦٥ برس کے تھے۔
امین عثمانی صاحب نے ویسے تو ندوہ سے فراغت کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی اے بی ایڈ ایم اے کیا تھا مگر تعلیم و تعلم پر ان کا فکری رجحان ہمیشہ حاوی رہا۔ وہ نوجوانوں کو ایک سمت دینا چاہتے تھے۔ ہمیشہ اسی فکر میں وہ سرگرداں رہے۔ بانی اسلامک فقہ اکیڈمی IFA اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز IOS کے محرک قاضی مجاہد الاسلام رحمہ اللہ نے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنا معتمد خاص بنایا۔
امین عثمانی صاحب ایک بہت ہی خلیق انسان، ملت کے لئے فکرمند خاموش طبع اور سیمینارز کی پلاننگ اور نظم کے لئے مشہور تھے۔ وہ نام و نمود اور lime light سے دور رہتے تھے۔ سیمینارز کے موقعوں پر اکثر انہیں دیکھا کہ سیمینار ہال کے باہر کسی ایک گوشہ میں کھڑے ہوتے مہمانوں کا استقبال کرنے لپک کر آتے اور پھر کنارے اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے۔
اسلامک فقہ اکیڈمی نے جدید فقہی مسائل پر بیسیوں کتابوں کی اشاعت کی ہے کویت اور سعودی عرب میں پایہ کے علما کی شرکت ،مباحثے اور غور و فکر پر مبنی کارگزاریوں کو دستاویزات کی شکل میں مرتب کیا ہے۔ کویت میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے روح رواں بدر الحسن القاسمی سابق ایڈیٹر عربی مجلہ الداعی ہیں۔
اللہ مولانا امین عثمانی صاحب کی بال بال مغفرت فرمائے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائےآمین۔
پچھلے دو مہینے میں یہ تیسری شخصیت ہیں جن کی رحلت بہت شاق گزری ہے۔ پروفیسر ولی اختر، سینیر صحافی عبدالقادر شمس اور آج آمین عثمانی۔افسوس صد افسوس۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے اور ان کی خدمات کو قبولیت کا درجہ بخشےـ آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*