Home نقدوتبصرہ آج ۱۲۰ : حزن ، تڑپ ، خوف ، یادوں اور محبت سے بھرے ناولٹ اور کہانیاں- شکیل رشید

آج ۱۲۰ : حزن ، تڑپ ، خوف ، یادوں اور محبت سے بھرے ناولٹ اور کہانیاں- شکیل رشید

by قندیل
یوں تو اجمل کمال کے ادبی جریدے ’ آج ‘ کا ہر شمارہ کمال کا ہوتا ہے ، لیکن شمارہ نمبر ۱۲۰ مزید کمال کا ہے ۔ اس شمارے کے تین مختصر ناول ( ناولٹ) اور تین ہی کہانیاں اپنے دامن میں ، انسانی زندگی کے تقریباً وہ سارے احساسات اور جذبات سموئے ہوئے ہیں ، جن کے بغیر حیاتِ انسانی کے لیے اظہار کا تصور ممکن نہیں ہے ؛ حزن ، یاس ، تڑپ ، خوف ، کھٹی میٹھی یادیں ، اور پریم ۔ آئیں ایک نظر ان مختصر ناولوں اور کہانیوں پر ڈالیں ۔
’ سندھو ‘، یہ جیم عباسی کا دوسرا ناول ہے ، پہلا ناول ’ رقص نامہ ‘ تھا جو کتابی صورت میں آنے سے پہلے ’ آج ‘ ہی کے ایک شمارے میں شائع ہوا تھا ۔ دونوں ناولوں کا موضوع مختلف ہے ، لیکن دونوں ہی میں بنیادی تھیم کے طور پر تہذیب ، تمدن اور سماج کو برتا گیا ہے ۔ ’ رقص نامہ ‘ میں پیری فقیری اور خاندانوں بلکہ پورے سماج پر اس کے اثرات کی بات کی گئی ، اور اس حوالے سے تصوف کی مقامی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ علاقہ سندھ ہی کا ہے ، جو تصوف کی مختلف روایات کے لیے بھی معروف رہا ہے اور اپنی تہذیب کے لیے بھی ۔ ’ سندھو ‘ ، جیسا کہ نام ہی سے واضح ہے سندھ کی تہذیب کی داستان ہے ، مختصر مگر بھرپور ۔ یہ کہانی سندھو تہذیب کے ساتھ سندھو نامی ایک بچی کی بھی ہے ، اور سندھو ندی کی بھی ۔ یہ بسنے ، اجڑنے اور اجڑ کر پھر بسنے ، اور اس کے درمیان انسانوں پر جو کچھ بیتی یا بیت رہی ہے ، کی کہانی ہے ۔ کہانی میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ سندھو تہذیب کی روایات ، متھ اور تمدن میں ڈھلے کردار ایک کے بعد ایک آتے ہیں ، جو حالانکہ مختصر ناول میں اپنے ہاتھ پیر بہت زیادہ پھیلا نہیں پاتے ہیں ، لیکن یاد رہ جاتے ہیں ؛ جیسے کہ ستابی ، جو چھوٹی بچی سندھو کی ماں ، اور گاؤں سے بھگائے ہوے جڑیو کی پہلی بیوی ہے ۔ جیوتشی کنکا ، ماتا ناؤڑی ، باپو بھورو وغیرہ ۔ بچی سندھو کی ایک آنکھ پیدائش سے ہی بے نور ہے ، اس کا دوش اس کے باپ جڑیو کو دیا گیا ہے ، اور جیوتشی کنکا کے کہنے پر اُسے گاؤں سے نکال دیا گیا ہے ۔ لیکن وہی جڑیو واپس آتا ہے ، ایک بھگوان کی طرح ۔ ستابی سے پھر ملتا ہے ، لیکن اس بار سندھو ندی بھپری ہوئی ہے ، اور ٹاپو غرق ہو رہے ہیں ، لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ یہ ٹاپو اور گاؤں عورتوں کے نظم و نسق میں ہیں ، جو محبت سے نظم و نسق چلاتی ہیں ۔ جڑیو سیلاب دیکھ کر ایک بڑی تعداد میں مردوں کو لے کر کہیں اور بسنے بسانے کے لیے نکل جاتا ہے ۔ اور گاؤں میں صرف عورتیں رہ جاتی ہیں ، جن کے ساتھ مستقبل کی ماتا سندھو بھی ہے ۔ جڑیو سندھو ندی سے بذریعہ کشتی جاتے ہوے بس لمحے بھر کے لیے ننھی سندھو کے بارے میں سوچتا ہے ، جو اس کی اپنی بیٹی ہے ۔ یہ مختصر ناول پڑھ کر سندھ کی قدیم تہذیب کئی سوال اٹھتے ہیں ، عورتوں کی نرمی ، اور مردوں کی سختی کے تعلق سے ، رسومات کے بارے میں اور ماحولیات کے تعلق سے ۔ ایک مختصر سا پیراگراف ملاحظہ کریں : ’’ پوتر ندی چار پایہ نہیں جو جاتی اسے باندھ رہی ہے ۔ میں جڑیو ، سفید سر والے کا پُتر ، بول رہا ہوں ۔ سندھو ماتا ہے ۔ اس کی وجہ سے جاتی کا جیون ہے ۔ اسی ندی ماتا نے اپنے ناف میں جاتی کو گھر دیا ہے ۔ وہ اپنی مچھلی سے جاتی کی آنت بھری رکھتی ہے ۔ اسے کنارہ ڈال کر بندی بنانا ٹھیک نہیں ۔ ندی ماتا سے بھڑاؤ جاتی کو سُکھی نہ رکھے گا ۔‘‘ اس اقتباس میں ندی پر باندھ باندھنے کے مضر اثرات کی جاب اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ ایک بہترین ناول ہے ، جو سندھو تہذیب کی روایات کو بیان کرنے کے لیے اپنی ایک نئی زبان بھی خلق کرتا ہے ۔ اسے ضرور پڑھا جانا چاہیے ۔
دوسرا مختصر ناول ہندی کی ادیبہ جیا جادوانی کا ’ اس شہر میں ایک شہر تھا ‘ ہے ۔ یہ کہنے کو تو ناولٹ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ ’ یادیں ‘ ہیں ایک سندھی نند لال جویری کی ، جو دس گیارہ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ، سندھ سے نکالے جانے کے بعد ممبئی چلے آے تھے ۔ یہ یادیں آنکھیں بھگو دیتی ہیں ، لیکن آنکھوں کا بھگو دینا ہی ان یادوں کا وصف نہیں ہے ، ان یادوں کا وصف وہ ’ کھراپن ‘ ہے جو اس تحریر میں نظر آتا ہے ۔ نندلال کے کراچی اور اپنے شہر شکار پور جانے کی ، گزرے ہوئے وقت ، اور لوگوں کو ، جن میں وہ ’ لڑکی ‘ بھی شامل ہے ، جو ان کا ’ پریم ‘ تھی ، یہ کہانی سندھی ہندوؤں کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں کے رویے کو سامنے لاتی ہے ، یہ آر ایس ایس کی شاخوں ( شاکھاؤں ) کا حال پیش کرتی ہے ، یہ اجڑنے اور بسنے کی جد و جہد بیان کرتی ہے ، یہ نندلال کی سنگھ یعنی آر ایس ایس سے ، بالخصوص ایک مہاجر حشو آڈوانی سے ، جو کبھی مہاراشٹر اسمبلی کے ایک رکن تھے ، لگاؤ کی کہانی بیان کرتی ہے ، لیکن لہجے میں کہیں کوئی تلخی نہیں ہے ۔ آخر میں نندلال کو اپنا ’ پریم ‘ بھی نظر آتا ہے ، لیکن وہ بس یہ سوچتے ہوے ، اسے ایک نظر دیکھ کر لوٹ آتے ہیں ؛ ’’ میں تمہارے در تک آ سکا اور تمہیں دیکھ سکا ، یہی میرا نصیب ہے ۔ اچھا ہوا تم نے مجھے نہ پہچانا ۔ اچھا ہے کہ تم اس دکھ سے دور ہو ۔ اچھا ہے ، میرے سوالوں کا جواب کبھی نہ ملے ۔ بہت سے سوالوں کا جواب نہیں بھی ملنا چاہیے ۔ جس پریم میں سوالوں کا جواب نہیں ملتا وہ پریم کبھی ختم نہیں ہوتا ۔‘‘ اس میں کئی منظر دلدوز ہیں ، جیسے نندلال کا اپنے آبائی مکان کے اندر داخل نہ ہو پانا ، اور اپنی مسلمان دھوبن مائی زینی کے ، جو اب ضعیف ہو چکی ہے ، گلے لگ کر رونا ۔ یہ یادیں رؒلاتی ہیں ، یاس میں مبتلا کرتی ہیں ، لیکن یہ امید کا دیا بھی روشن کرتی ہیں کہ آدمی کی انسانیت ہرحال میں زندہ رہتی ہے ۔ اجمل کمال نے اس ناولٹ کا ہندی سے شاندار ترجمہ کیا ہے ۔
زکی نقوی کا ناولٹ ’ شہرِ مدفون ‘ ایک گاؤں کے اجڑنے کی یادیں ہیں ، اسی لیے اسے ’ ناسٹلجیا ‘ بھی کہا گیا ہے ۔ بہترین زبان میں یہ گاوؤں کے ، گاوؤں میں بسنے والے انوکھے ، مگر محبت بھرے کرداروں کے اور گاوؤں کی اپنی زندگی ، تمدن اور تہذیب کے مٹنے بگڑنے کی کہانی ہے ۔ اب گاوؤں اور لوگوں کو نئی تہذیب نگلنے لگی ہے ۔ زکی نقوی کے اس ناسٹلجیا کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں ؛ ’’ عزاداری میں بھی بستی کے سبھی گھر شامل ہوتے تھے جس کی وجہ سے لڑکپن میں تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ گاؤں میں سبھی ایک مسلک کے ہیں ، بلکہ اس تقسیم کا بھی تو کچھ واضح شعور نہ تھا اور سمجھ میں آنے بھی لگی تو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ کس کا مطلب کیا ہے ؟ محرم کا چاند ابھرتا تو گھروں پر ایک سوگ جی فضا طاری ہوجاتی …۔‘‘ یہ ایک دلچسپ اور سوچنے پر ابھارنے والا ناولٹ ہے ۔
آخر میں تین کہانیاں ہیں ، ایک آئر لینڈ کی ادیبہ کلیر کیگن کا ’ انٹارکٹیکا ‘ جس کا ترجمہ انعام ندیم نے کیا ہے ، اور کیا شاندار ترجمہ ہے ! کہانی میں ایک خوف کی فضا ہے ، جسے اردو ترجمہ میں برقرار رکھنے میں وہ مکمل طور پر کامیاب ہیں ۔ دو کہانیاں ’ مسٹر سیلری ‘ اور ’ رنگ و نور ‘ سَیلی رُونی کی ہیں ، یہ بھی آئرش ہیں ۔ بابر ریاض نے ان کہانیوں کا بہت ہی پیارا ترجمہ کیا ہے ، اس ترجمے میں بھی ہر ایک جذبہ ، احساس اور ہر کیفیت مکمل طور پر سامنے آتی ، اور قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے ۔ یہ کہانیاں پڑھتے ہوے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ترجمہ آسان نہیں تھا ، مگر مترجم نے یوں لگتا ہے بڑی آسانی کے ساتھ ان کہانیوں کو اردو روپ دے دیا ہے ، یہ مترجم کا کمال ہے ۔ یہ شمارہ ممبئی میں ’ کتاب دار ‘ سے موبائل نمبر 9869321477 پر رابطہ کرکے ، اور دہلی میں ’ عرشیہ پبلی کیشنز ‘ سے موبائل نمبر 9971775969 پر رابطہ کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like