اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

محمد ندیم الدین قاسمی

مدرس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
mohammednadeemqasmi12@gmail.com
عیسوی سال ۲۰۱۹ء اپنے تلخ تجربات ،حسین یادیں ،اورغم والم کے واقعات چھوڑ کر رخصت ہونے کے قریب ہے،چراغ حیات کی ایک اور بتی جل کر خاک ہونےکو ہے،ملی ہوئی محدود زندگی کا ایک اور سال رخصت ہواچاہتاہے، اور انسان۲۰۲۰ء کے آمد پراپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہونےوالا ہے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن یہ عمر بھی تمام ہوجائے گی اور ہم شہر خموشاں کی طرف کوچ کرکے ہمیشہ ہمیش کے لیے قصۂ پارینہ بن جائیں گے،لیکن اس وقت بھی دنیاکاایک بڑاطبقہ نئے سال کے جشن میں ناچ،گانے،شراب و شباب،فحاشی،اورعریانیت میں ڈوب جاتاہے، شیطانیت اپنے عروج کے نقطۂ انتہاپرہوتی ہے،عورتوں اور مردوں کااختلاط ہوتاہے، رقص وسرود کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، شراب کے جام چھلکائے جاتے ہیں،نوجوان شراب وشباب میں مدہوش ہوجاتے ہیں ،موسیقی کے سراورتال پرخواتین کے تھرکتے ہوئے جسموں کی نمائش کی جاتی ہے،اور۳۱ دسمبر رات بارہ بجتے ہی کیک کاٹے جاتےہیں اور وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب اور ضابطۂ اخلاق میں نہیں ، نائٹ کلبس اور ہوٹلوں کے کمرے پہلے سے بک کروا لئے جاتے ہیں تاکہ نیو ایئر نائٹ منانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ صد افسوس کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ اور مغربیت کی اندھا دھند تقلید کے مارے کچھ مسلمان بھی اس دن کو بڑے جوش خروش سے منانے لگے ہیں ،جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گذر جانے میں ذرا تامل محسوس نہیں کرتے:
ہر کوئی مست ہے ذوق تن آسانی میں
تم مسلمان ہو؟ یہ انداز مسلمانی ہے؟
جن بیہودہ حرکات وسکنات کے لئے کبھی مسلمان اہلِ مغرب کو شرم وعار دلاتے تھے، اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے،نہ اس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی ہےاور نہ نبی ﷺکی سیرت، نہ اسراف سے بچنے کی فکر ،اورنہ ضیاع وقت پر شرمندگی ، جب کہ وقت ایک قیمتی چیز ہے ،یہ ایک ایسی نعمت ہے،جو ایک مرتبہ گذر جائے تواسے واپس لانا ممکن ہی نہیں ،نیزگذرتے ہوے ایام تو ہمیں غفلت کے بجائےاپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع فراہم کرتے ہیں ،اسی لئے حضرت عبد اللہ ابن مسعودفرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا ،جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا ،جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔(قیمة الزمن عند العلماء، ص: ۲۷)حضرت علی فرماتے ہیں کہ یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں، اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو؛لیکن مسلمانوں کی غفلت و بے پرواہی اور مغرب کی اندھا دھند تقلید کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ وہی زمانہ تو نہیں، جس کی خبر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دی تھی کہ :
” تم اپنے سے پہلے والوں کے طریقوں کی بالشت دربالشت اور ہاتھ در ہاتھ پیروی کروگے، یہاں تک کہ وہ اگر گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں، تو تم بھی اس میں داخل ہوگے، اس پر صحابہ ؓنے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! پہلے والوں سے آپ کی مراد کیا ہے؟ یہود ونصاریٰ ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توپھر اور کون۔” (بخاری، مسلم ، حاکم)۔ابن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے اخیر میں یہ بھی ہے کہ یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگرسرِ راہ عورت سے شہوت پوری کی ہے ، تو تم بھی کروگے۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے بدکاری کی ہے تو تم بھی کروگے۔ایک حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا من تشبہ بقوم فھو منہ(جو قوم کسی کی مشابہت اختیار کرتی ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں سے ہوگا)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”مِنْ حُسْنِ إسْلاِمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ مَالاَیَعْنِیْہِ“۔ (ترمذی ۲/۵۸ قدیمی) ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں سے بچے۔اورسنن بیہقی میں عبداللہ بن عمرو بن العاص کا فرمان ہے ۔’’ کہ جس نے نو روز مہر جان منایا اور ان کی مشابہت اختیار کی اور وہ توبہ کے بغیر اسی حالت میں مر گیا تو قیامت کے دن انہیں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔‘‘
الغرض آپ ﷺنے ہمیں غیروں کی تقلید سے مکمل طور پر منع فرمایا ہے، نیز مسلمانوں کویہ سوچنا بھی چاہئےکہ کیا یہ جشن اور خوشی کاموقع ہے؟ کیا مسلمان اس بات سے خوش ہے کہ روز بہ روز اس کی شریعت میں مداخلت کی جارہی ہیں؟کیا اس سے خوش ہے کہ ہمارے کئی مسلم نوجوانوں کو لو جہاد اور گو کشی کے نام پر مشتعل بھگوائی ہجوم نے موت کے گھاٹ اتاردیا؟کیا اس سے خوش ہے کہ بابری مسجد کا فیصلہ ہمارے خلاف آیا؟کیا اس سے خوش ہے کہ دن ورات ہماری بربادی کے فیصلے ہورہے ہیں؟”کیا اس لئے کہ ہمارے ملک میں حق کا مطالبہ کرنے پر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا ہے؟ کیا اس لئے کہ ہندوستان میں CAAاور NRC کے نام پر مسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کے تانے بانے بنے جارہے ہیں؟کیا اس بات سے کہ قبلۂ اول ہمارےہاتھوں سے نکل چکا ہے؟ عالم اسلام کے قلب وجگر تک دشمن کی رسائی ہوچکی ہے،جس کی عبادت گاہ بلاکسی دلیل اور جواز کے زمین بوس کردی گئی ہے، جس کا لہو پانی سے ارزاں ہوگیا ہے ،جس کے لئے ہندوستان کی زمیں وسعت کے باوجود تنگ کردی گئی ہے ، ایسی مظلوم اور ستم رسیدہ اور ذلت ونکبت کی سرحدوں پھر کھڑی امت کے لئے خوشی کے شادیانے بجانے اور عیش ونشاط کی محفل سجانےکا کوئی بھی موقع ہے؟اگر نہیں!اور واقعتاً نہیں! تو پھر کس بات پر خوشی!فاعتبروا یاأولی الابصار!
غور کیاجائے تو یہ موقع خوشی سے زیادہ غم کا ہے، یہ ساعتِ جشن ومسرت نہیں ، بلکہ لمحہ عبرت وموعظت ہے،اور سال ِ نو کی آمد غفلت شعار طبیعتوں کے لئے صورِ انتباہ اور سونے والوں کے لئے بیداری کا الارم ہے، نہ کہ سرمستی وعیش کوشی کا پیغام:
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی
اس لئے ہمیں نئے سال کے موقع پر چندباتوں کی طرف توجہ دینی ہے:
۱۔ماضی کا احتساب:
نیاسال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہو گیا اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ نئے سال کے موقع پرہماری فکر اور بڑھ جانی چاہیے اور ہمیں بہت ہی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہمارے اندر کیا کمی ہے ،کیا کمزوری ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں،ہم اپنے ماضی کے ایک ایک لمحے پر غور کریں، یادِ ماضی کے ایک ایک ورق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں، سری سری نہیں بنظر غائر مطالعہ کریں،گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آنے والے سال میں اس کی بھرپائی کرنے کی کوشش کریں۔اسی لیے آپﷺ نے فرمایا:”حاسبو ا انفسکم قبل ان تحاسبوا“(کنزل العمال:۳۰۴۴)”تم خود اپنا محاسبہ کرو،قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے“
ایک اور حدیث میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:”اغتنم خمساً قبل خمسٍ:شبابک قبل ھرمک، وصحّتک قبل سقمک، و غناک قبل فقرک،و فراغک قبل شغلک، وحیاتک قبل موتک“(المستدرک الحاکم:۶۴۸۷)”پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کا فائدہ اٹھا لو : تمہارے بڑھاپے سے پہلے تمہاری جوانی (کا فائدہ اٹھا لو) ،اورتمہاری بیماری سے پہلے تمہاری صحت(کا فائدہ اٹھا لو)،اورتمہاری غربت سے پہلے تمہاری مالداری(کا فائدہ اٹھا لو)،اورتمہاری مشغولیت سے پہلے تمہاری فراغت(کا فائدہ اٹھا لو) ،اورتمہاری موت سے پہلے تمہاری زندگی(کا فائدہ اٹھا لو)“۔
۲۔آگےکا لائحۂ عمل طے کریں:اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کی روشنی میں ہمیں مستقبل کے تعلق سے کوئی منصوبہ طے کرنا ہوگا،اوریہ منصوبہ بندی دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے ہو،جو غلطیاں ہو گئیں ان کی اصلاح کی فکر کریں اور جوکام پچھلے سال ادھورے رہ گئے، انہیں اس سال مکمل کرنے کا عزم مصمم کریں :
عزائم جن کے پختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*