آہ پیر سراج میاں-ضیا فاروقی

 

یہ کیسا شور ہے چاروں طرف فضاؤں میں
۔یہ کس کی یاد میں نوحہ کناں ہیں پیر و جواں
یہ کون بزم سے دیوانہ وار گزرا ہے
کہ جس کے جانے سے آہ و بکا ہے چاروں طرف
کہ جس کے جانے سے بھوپال ہو گیا ویران
کہ جس کے غم میں مناظر ہیں سرنگوں ہر سو
یہ کیسا شور ہے چاروں طرف فضاؤں میں

وہ ایک مرد محبت وہ ایک پیر ادب
کہ اس کی ذات میں رقصاں تھے علم و فن کے چراغ
کہ اس کی ذات سے روشن تھا آگہی کا مکاں
کہ اس کی ذات سے زندہ تھی بزم یعقوبی
کہ اس کے سلسلۂ عشق میں نمایاں تھے
مکان احمدی و مجددی کے نقوش
سراج علم تھا ادراک کا سمندرتھا
وہ خانقاہ شریعت کا اک قلندرتھا
اسی کے واسطے بھوپال سوگوار ہے آج

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*