آہ ! نصرت علی صاحب: ایک خاموش مگر مستحکم فکری اساس کا حامل لیڈر نہیں رہا-محمد علم اللہ

وہ معمول کی ایک شام تھی ،میں مسجد اشاعت اسلام (مرکز جماعت اسلامی ہند) سے مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہا تھا کہ کسی کا ہاتھ کاندھے پر محسوس ہوا ۔ پلٹ کر دیکھا تو نصرت علی صاحب تھے ۔ یوں تو انھیں کیمپس میں بارہا دیکھتا رہا تھا ،کبھی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ، کبھی کسی پروگرام کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ، کبھی پریس کانفرنس میں، کبھی سرِ راہ گذرتے ہوئے ، کئی مرتبہ سلام میں پہل وہ خود ہی کرتے ۔ہمیشہ مسکراتے رہنا ان کی صفت تھی ۔ اتنے قریب سے میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی ۔ میں نے لجاتے ، شرماتے سلام کیا ،انھوں نے جواب دیا اور مسکراتے ہوئے دریافت کیا، ” کہاں جا رہے ہیں "؟۔
میں نے کہا ؛” لائبریری "۔
کہنے لگے؛ ” اگر کوئی بہت ضروری کام نہ ہو تو آئیے ، تھوڑی دیر میرے ساتھ بیٹھیے ، آپ سے کچھ گفتگو کرنی ہے”۔
میں چکر ا سا گیا ، آخر یہ مجھ سے کیا بات کریں گے ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ وہ تیز ی کے ساتھ پَگ بڑھاتے ہوئےسیڑھیاں عبور کرنے لگے ۔ آفس پہنچتے ہی انھوں نے فون کیا اور چائے ناشتے کے لیے آرڈر دیا ۔ میں لاکھ کہتا رہا ، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میں نے چائے پی ہے، لیکن انھوں نے مان کے نہ دیا ۔ کہنے لگے:
” آپ کو دراصل اس لیے بلایا ہے کہ آپ نے(ہفت روزہ)دعوت کے پہلے شمارے پر بہت عمدہ ریویو لکھا تھا ۔ تب سے ہی میں آپ سے ملنا چاہتا تھا مگر ، ایسے حالات ہی نا بن سکے ۔ آپ سے مجھے کچھ چیزیں سمجھنی تھیں ۔ ایک سال مکمل ہونے پر شوریٰ کی میٹنگ ہونے والی ہے، میں بھی کمیٹی میں شامل ہوں ، اس لیے مزید شماروں پر آپ کی رائے درکار تھی "۔
شروع میں تو میں جھِجکا؛ لیکن ان کی سنجیدگی دیکھ کر لگا کہ نہیں واقعی وہ جاننے کے متمنی ہیں تو میں نے بھی کُھل کر اپنی رائے رکھی ۔ جسے انھوں نے انتہائی صبر و اطمئنان کے ساتھ نہ صرف سنا، بلکہ نوٹ بھی کیا ۔ میری ان سے تقریبا دو گھنٹے اس موضوع سے متعلق بات ہوتی رہی ، جس میں وہ کم، زیادہ میں ہی بولتا رہا ۔ میں نے اخبار کے مواد ، گیٹ اپ ، زبان و بیان اور بزنیس ماڈل تک مختلف موضوعات پر اپنی رائے رکھی ۔
ہماری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ عشاء کی اذان ہوچلی شروع ہو گئی، میرا بھی ڈھیر سارا کام پسرا تھا ،اس لئے میں نے اجازت چاہی ۔ وہ باہر تک چھوڑ نے آئے ۔ واپسی پر میں سوچتا رہا ، ہندوستان میں آخر ہمارے کس قائد کے اندر اتنا دم ہے کہ وہ ایک نوجوان کی بات کو اس قدر ہمہ تن گوش ہو کر توجہ سے سنے اور اس کے ذریعے بتائی ہوئی باتوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسکی باتوں کی تائید کرے ۔
نصرت علی صاحب کا جانا صرف تحریک اسلامی ہند کے لیے خسارہ کا باعث نہیں ہے، بلکہ یہ ملت اسلامیہ ہند کا بہت بڑا نقصان ہے ، جس نے ایک جلیل القدر قائد کو کھو دیا ۔ اس کی بھرپائی کب تک ہوگی ، نہیں کہا جا سکتا ۔ ملی مسائل پر ان کی بڑی گہری نظر تھی ۔ وہ پرانے زمانے کی نشانی اور نوجوانوں کے لئے مثال تھے ۔ وہ جہاں بھی جاتے بغیر کسی لاگ لپٹ کے اپنی بات کہتے ۔ یقین نہیں آ رہا ہے کہ سچ مچ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک خاموش مگر مستحکم فکری اساس کا حامل لیڈر ہم میں نہیں رہا :
گئے دنوں کا سراغ لیکر ، کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ