آہ مشتاق بھیّا! ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گے!-ڈاکٹر لطیف احمد خاں

(ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق کی رحلت پر لکھا گیا مضمون)

مشتاق بھیّا! آپ ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ تو ابھی اچھّے بچھّے تھے، ابھی ملازمت میں تھے۔ اس سال بھی اکتوبر نومبر میں آپ سے ملاقات کرنے مَیں دو تین بار آپ کے گھر گیا تھا۔ آپ بہت خوش ہوئے تھے۔ آپ نے اپنی تازہ کتاب ’’برگ ہائے ادب‘‘ کا ٹائپ شدہ مسودہ ہمیں دکھایا تھا۔ میں نے آپ کو پاپا کے ساتھ بٹھاکر آپ کی دو تین بہت خوبصورت تصویریں اُتاری تھیں۔ ایک تصویر میں آپ اپنی کتاب اُٹھاکر سرورق دِکھا رہے ہیں۔ اردو زبان و ادب آپ کا شوق تھا۔ آپ کالج میں اردو پڑھاتے تھے، کالج سے باہر آتے تو اردو کا اخبار، رسالہ اور کتابیں پڑھتے تھے۔ اردو کے شاعروں اور ادیبوں کی محفلوں میں بیٹھنا، مشاعروں میں اشعار سننا اور سمیناروں میں اپنے مضامین پڑھنا، اخبار کے لیے اردو کے شاعروں ادیبوں پر مضامین اور ان کی کتابوں پر تبصرے لکھ کر چھپوانا آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اردو آپ کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ آپ اپنے ذاتی کمرے میں الماریوں کے ریکس پر اردو کی کتابیں اور رسالے سجاکر رکھتے تھے۔ باہر دروازے پر ٹیبل پر تازہ اخبارات اور رسالے رکھتے تھے۔ سادگی اور صفائی، تہذیب و شائستگی، شرافت اور عمدہ اخلاق آپ کی شخصیت کے عناصرِ ترکیبی تھے۔ آپ اپنے استاد یعنی میرے پاپا کا بہت احترام کرتے تھے۔ میں نے آپ کو ہمیشہ میز پر پاپا کے روبرو بیٹھا ہوا دیکھا۔ لکھنے پڑھنے میں آپ اُن کے معاون تھے اور وہ آپ کے مربّی و محسن تھے۔ آپ نے بہت محنت سے ایم-اے اور پی ایچ-ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ آپ لکھتے لکھتے پانچ کتابوں کے مرتب و مصنف ہوگئے۔ آپ زندہ رہتے تو ابھی اور لکھتے کیونکہ آپ کو لکھنے کی عادت تھی۔ یہی آپ کی ہمہ وقت کی مصروفیت تھی، یہی آپ کا شوق تھا۔
مشتاق بھیّا ہم سب بھائی بہن نفیس، شمیم، سنبل اور لالہ رُخ خانم آپ کی رحلت کی خبر سن کر غم و اندوہ میں ڈوب گئے ہیں۔ ہم اب آپ کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے، یہ سوچ کر اپنی بے بسی بہت تڑپاتی ہے اور آپ سے جدائی کا غم اور بڑھ جاتا ہے۔
مشتاق بھیّا! جب آپ کا کوئی مضمون مکمل ہوتا یا اخبار میں شائع ہوتا تو سب سے پہلے آپ میرے یہاں آتے تھے۔ آپ اپنے استاد ڈاکٹر ممتاز احمد خاں کو لاکر دکھاتے۔ آپ کتنے خوش ہوتے جب پاپا آپ کی تحریر کی نوک پلک درست کردیتے تھے، آپ کو لکھنے کی ترغیب دیتے اور اخبار و رسائل میں چھپنے پر آپ کو مبارک باد دیتے تھے۔
مشتاق بھیّا! آپ کتنے مہذّب، ملنسار اور شریف تھے۔ ہم سب بھائی بہنوں کو بہت پیار کرتے تھے۔ میرے گھر کی تمام تقریبات میں خوشی خوشی شرکت کرتے۔ میرا نیا گھر محلہ باغملی میں بنا، کار خریدی گئی، میں نے اپنی موٹر سائیکل خریدی، پھر میری بیٹی پیدا ہوئی، ہر خوشی کے موقع پر آپ نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ میں تحقیقی مقالہ لکھ رہا تھا، اُس وقت بھی آپ نے اپنے قیمتی اوقات کی قربانی دے کر مقالے کی صفائی میں میرا ساتھ دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آپ کبھی شرٹ پینٹ میں ہوتے اور کبھی کرتا پاجامہ میں نظر آتے۔ خاص موقعوں پر آپ سوٹ ٹائی اور بوٹ میں آتے تھے۔ شیروانی پاجامہ میں بھی آپ کو میں نے بہت دنوں تک دیکھا ہے۔ علی گڑھ سے کالی شیروانی سِلوا کر لائے تو جمعہ، عیدین اور خصوصی محفلوں میں وہی پہن کر جاتے تھے۔ خوبصورت اور صاف ستھرے کپڑے اور پالش کیے ہوئے جوتوں میں رہنا آپ کو پسند تھا۔
ہمہ وقت کی مسکراہٹ آپ کی پہچان تھی۔ ہر چھوٹے بڑے سے جھک کر ملتے تھے۔ آپ کے تمام احباب، دوست اور ساتھی آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ آپ کے جنازے میں، پھر تعزیتی نشست میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور آپ کی خوبیاں بیان ہوئیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اللہ کے نیک بندے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی آپ آرام سے ہوںگے اور مسکرا رہے ہوںگے۔
آپ کا دروازہ تو ویران ہی ہوگیا۔ میرا دروازہ بھی اب اُداس سا لگتا ہے۔ وہ میز اور وہ کرسی جس پر آپ آکر لکھتے تھے، اب خالی ہیں۔ پاپا تنہا وہاں بیٹھ کر اداسی اور رنج و اندوہ میں ڈوب جاتے ہیں۔ مشتاق بھیّا! ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہاں کی ادبی محفلوں میں ہمیشہ آپ کی کمی محسوس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور وہاں بھی آپ مسکراتے رہیں۔