Home متفرقاتمراسلہ آہ! مرتضی ساحل تسلیمی – عویم بن مختار

آہ! مرتضی ساحل تسلیمی – عویم بن مختار

by قندیل

 

چند دنوں سے جناب مرتضی ساحل تسلیمی کی بیماری کی خبر سنتے آرہا تھا، جب سے ان کے بیماری کی خبر سنی دل بےچین اور افسردہ سا تھا، اور جس کا خدشہ تھا وہی ہوگیا

آج میرے سامنے ان ہی کی لکھی گئی کہانیاں، نظمیں اور خطوط ہیں، جو ہلال اور نور میں بڑے پیارے اور دلکش انداز میں سجے ہوئے رہتے تھے، ان کی لکھی گئی ہر چیز بڑی ہی سبق آموز اور دل میں اترنے والی تھی، اکثر ناول نگار ناول تفریح طبع کے لیے لکھتے ہیں مگر مرتضی صاحب کے ناولوں میں بھی کچھ نہ کچھ پیغام چھپا رہتا تھا.

ان کے لکھے گئے اشعار بھی بڑے دلچسپ اور مزیدار رہتے تھے،بلکہ ان کی لکھی ہوئی ہر چیز لطف آمیز رہتی تھی.

 

یوں تو کبھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی مگر ان کے ملاقات کا بہت خواہشمند تھاـ مولانا عبداللہ صاحب نے بھی انھیں بار بار دعوت دی مگر ہر بار ٹال دیتے تھےـ وعدہ کیا تھا کہ مولانا کے نکاح میں ضرور شریک ہوں گے مگر وہ دن آنے سے قبل ہی اللہ کو پیارے ہوگئے قدر اللہ ما شاء وفعل ـ

 

میں ماہ نامہ پھول کا بھی ممنون ومشکور ہوں کہ اس نے مجھے ان جیسی شخصیات متعارف کروایا ان کے منزلت سے مجھے واقف کروایاـ اگر آج میں پھول یا کارواں سے جڑا نہ رہتا تو میں بس یہ سمجھتا کہ کسی معمولی سے ادیب کا انتقال ہوا ہے. آج میں یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ادیب نہیں بلکہ ادیب الادبا تھے، آج ان کی رحلت پر ہر وہ فرد افسردہ ہوگا جسے مرتضی ساحل تسلیمی صاحب کی منزلت معلوم ہو، اور ان کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوگاـ

 

اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو ان کا بہترین بدل عطا فرمائے. آمین

You may also like

Leave a Comment