آہ مولانا شاہد قاسمی ندویؒ-ابوسفیان ندوی علیگ

ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی دہلی

دنیا میں انسان آنکھیں کھولتا ہے پلتا ہے،بڑھتا ہے،زندگی کی بہاریں دیکھتا ہے،بچپن سے لیکر زندگی کے مختلف مراحل میں ہزاروں قسم کے افراد انسان کی زندگی میں آتے ہیں، ہزاروں دوست یار ملتے ہیں،کچھ ساتھ رہتے ہیں،کچھ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں،کچھ کا ساتھ متعین مدت کے لئے ہوتا ہے کچھ کا غیر متعینہ مدت تک۔ کچھ کا ساتھ نہ ہی ملنے اور نہ ہی بچھڑنے کا ہوتا ہے۔ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پل بھر کے لئے ملتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے بچھڑ جاتے ہیں ۔ کچھ پل اتنے حسین اور اتنے دلکش ہوتے ہیں کہ وہ میٹھی اور پیاری یادیں بن کر زندگی بھر آپ کا ساتھ نبھاتے ہیں۔ زندگی کے انہی حسین پلوں میں بے حد حسین پل میرے لئے وہ پل ہیں، جب میں ضیاء العلوم رائے بریلی میں ہوا کرتا تھا۔ رائے بریلی میں میں نے زندگی کی سات بہاریں دیکھی ہیں۔ اعدادیہ سے لیکر عالیہ ثالثہ تک کی تعلیم وہاں حاصل کی۔ ضیاء العلوم میں یوں تو ہمارے تمام اساتذۂ کرام بے حد مشفق، بے حد شفیق،بے حد مہربان۔ اور طلبا کو اپنی اولاد کی طرح treat کرنے والے تھے مگر ان میں مولانا شاہد صاحب ندوی قاسمی کا مقام تھوڑا الگ اور قدرے مختلف تھا مولانا ہمارے استاذ کم دوست زیادہ ہوا کرتے تھےـ مولانا سے ملتے ہوئے یا مولانا سے پڑھتے ہوئے کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ مولانا ہمارے استاذ ہیں اور ہم سب ان کے شاگرد۔ مولانا جب پڑھاتے تو ایسا لگتا کہ کوئی دوست یا بھائی اپنے چھوٹے بھائیوں کو پڑھا رہا ہو یا اپنے دوستوں کو درس دے رہا ہو ، دوران درس کسی طالب علم کو کبھی بوریت نہیں ہوتی ،طلبا ہمیشہ نشیط رہتے کیوں کہ دوران تعلیم مولانا کا ایک وصف تھا کہ طلبا سے باتوں باتوں میں مذاق کیا کرتے تھے مگر مولانا کا مذاق بہت عمدہ منطقی اور informative ہوا کرتا تھا،جس سے طلبا لطف اندوزی کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبا کو بھی پوری اجازت ہوتی کہ وہ بھی ان سے بنا hesitation کے بات کریں۔ سوال کریں ۔جو چاہیں پوچھیں،حتی کہ سنجیدہ مذاق و مزاح کی بھی کھلی اجازت ہوا کرتی تھی ـ
مولانا کے کچھ گھنٹے مدرسہ عائشہ للبنات شہر رائے بریلی میں بھی تھے جہاں مولانا طالبات کی کلاسیز لیا کرتے اور عالمات کو پڑھایا کرتے تھے غالبا وہاں کتاب الطلاق کتاب النکاح وغیرہ کا درس دیا کرتے تھے ـ جب کبھی ہم تمام ساتھیوں کو پڑھنے کا موڈ نہیں ہوتا تو مولانا کو الجھانے کی کوشش کرتے، مولانا آج آپ نے وہاں کیا پڑھایا؟ کون کون سی احادیث پڑھائیں؟ ادھر سے کیا کیا سوالات ہوئے؟ کیا کیا اشکالات کئے گئے؟ لیکن مولانا اتنی خوبصورتی سے بات کو ٹالتے ہوئے ہمیں جواب دیتے کہ پھر ہم سب سے اور کوئی سوال ہی نہیں بن پاتا اور وہ ہمیں پڑھا بھی دیتے۔ نا چاہتے ہوئے بڑی خوشی کے ساتھ ہم سب آگے کا سبق پڑھ بھی لیتے اور ہمیں کوئی بوریت بھی نہیں ہوتی ـ
خوش مزاجی اور خوش اخلاقی :
مولانا نہایت خوش مزاج اور باذوق تھے خوش مزاجی و خوش اخلاقی ان کا امتیازی وصف تھا جن سے بھی ملتے ہنستے اور مسکراتے ہوئے ملتے حال احوال ایسے دریافت کرتے گویا خون کا رشتہ یا برسوں کا یارانہ ہو۔ طلبا سے باتیں کرتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کے دوست ہوں ۔ اساتذۂ کرام سے باتیں کرتے تو ایسا لگتا گویا حقیقی رشتہ ہو یا اپنے خاندان کے محبوب ترین فرد ہوں ۔ مولانا کو ایسی طبع ودیعت کی گئی تھی کہ باتوں باتوں میں مزاح کے نمونے ٹپکتے رہتے۔ کلام ایسے کرتے گویا لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں۔
تواضع و انکساری اور خود داری:
اسی طرح مولانا کا امتیازی وصف تواضع،انکساری اور خود داری بھی تھاـ ہر ایک کے ساتھ ملاقات کے وقت بہت تواضع سے پیش آتے تھے ، تکیہ سے میدان پور سائیکل سے آتے اور درس کے بعد پھر سائیکل سے ہی روانہ ہو جاتے اسی طرح عائشہ للبنات بھی بذریعہ سائیکل ہی جاتے اور درس دے کر واپس تکیہ آ جاتے۔ غالبا ہمیشہ یا کبھی کبھی مولانا کا کھانا ضیاء العلوم سے بنگلے میں یعنی تکیہ جایا کرتا تھا جب کبھی کوئی شناسا طالب علم موجود نہیں ہوتا،تو وہ اپنا کھانا خود لیکر چلے جایا کرتے تھے اگر یوں کہا جائے کہ تواضع خود ان سے شرما جایا کرتی تھی تو بیجا نہیں ہوگا۔ مولانا نہایت سادہ طبیعت کے حامل تھے ۔ بات چیت۔ گفتگو۔ میل ملاپ۔ ملاقات ومصاحبت ہر چیز میں سادگی ٹپکتی تھی اور تواضع جھلکتی تھی ۔
خوش لباسی اور نفاست پسندی:
مولانا سادگی پسند تو تھے ہی مگر سادگی خوش لباسی اور نفاست پسندی کا حسین امتزاج دیکھنا ہو تو وہ مولانا میں نمایاں طور پر دیکھنے کو مل جاتا تھا مولانا لباس بہت سلیقے سے پہنا کرتے ۔ لباس کی caring اور نفاست پسندی کیا چیز ہوتی ہے یہ مولانا سے سیکھا جا سکتا تھا پرانے سے پرانا لباس جب وہ پہن کر آتے تو ایسا لگتا مولانا نے کوئی نیا لباس زیب تن کیا ہوا ہےـ پتہ کرنے پر معلوم ہوتا کہ یہ تو برسوں پرانا ہے ۔ مولانا نہایت خوب رو اور خوش شکل تھے ،ہر لباس مولانا پر بدرجۂ اتم جچتا تھاـ ایسے لگتے گویا لباس نے ان کی زینت نہیں بلکہ انہوں نے لباس کی زینت بڑھائی ہوئی ہےـ
خاطر و مدارات اور مہمان نوازی:
اسی طرح مولانا کا ایک وصف خاطر و مدارات اور مہمان نوازی تھا – جب بھی کوئی طالب علم ان سے ملنے جاتا ان کے پاس جو کچھ ہوتا وہ اس کے ذریعے ضرور خاطر داری کرتے، بسا اوقات طلبا خود ان سے مطالبہ کر کے اپنی خاطر داری کروا لیا کرتے تھے۔ وہ ذرہ برابر بھی نہیں کتراتے جو کچھ ہوتا آگے کر دیتے،کھجور پانی ہی سہی وہ ان کے سامنے پیش کر دیا کرتے ۔ طالب علم اسی سے نہال ہو جاتاـ
ظرافت، بے ساختگی اور حاضر جوابی:
مولانا کو اللہ نے ظرافتِ طبع کا وافر مقدار عطا فرمایا تھا باتوں باتوں میں بڑی ظریفانہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ بے ساختگی اور حاضر جوابی اس قدر اچھوتے انداز میں مولانا کی باتوں میں دیکھنے کو ملتی جس کا جواب نہیں۔ بے ساختگی اورحاضر جوابی کی ظرافت کے سانچے میں ڈھلنے کے بعد کیا صورت ہوتی ہے وہ مولانا کی گفتگو میں نمایاں طور پر جھلکتی تھی ۔ جس کا ان سے مل کر ہر بات کرنے والے نے مشاہدہ کیا ہوگاـ
شرم و حیا ،پاکبازی اور پاکدامنی:
اسی طرح مولانا پاکباز، پاکدامن کافی شرمیلے اور حیا کے پیکر تھے کوئی بھی ایسی بات جو سنجیدگی اور متانت کے زمرے سے الگ ہوتی ۔ کرنے سے بہت شرماتے اور اس سے گریز کیا کرتے۔ مسکراتے ہوئے اور تبسم کے ساتھ ایسے topicsکو ٹال دیتے یا ignore کر دیا کرتے یا بچ بچا کر نکل جاتے۔ کسی کی ایسی بات جس پر وہ کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے اور اس سے کیسے نکلنا ہو کہ سامنے والے کو برا بھی نہ لگے اور وہ بچ بچا کر نکل بھی جائے یہ مولانا سے سیکھنے لائق ہوتا۔
اصول پسندی،ایفائے وعدہ اور امانت داری:
اسی طرح مولانا کافی اصول پسند اور وعدے کے پکے تھے،اصول شکنی سے انہیں نفرت تھی اور ایفائے وعدہ سے پیار۔ جب بھی یہ کہتے کہ کل نہیں پڑھاؤں گا نہیں پڑھاتے یا کہتے کہ پڑھاؤں گا تو ضرور پڑھاتے اور اس میں کوئی compromise نہیں کرتے،کلاس کا ناغہ کرنے سے گریز کرتے،لیٹ ہو جاتے پر کلاس کا ناغہ بلا ضرورت اور بلا وجہ نہیں کرتے۔ 5 منٹ کے لئے ہی سہی کلاس ضرور آتے ۔ اسی طرح مولانا کے اندر امانت داری کا وصف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اگرکوئی شخص کوئی چیز بطور امانت انہیں دیتا یا ان کے پاس رکھتا تو بعینہ اسی صورت میں انہیں لوٹاتے ۔ ایسا محسوس ہوتا گویا اسے کسی نے چھوا تک نہیں ہے ۔
حسنی خاندان سے محبت اور بے پناہ الفت:
حسنی خاندان سے مولانا کو بے پناہ محبت اور الفت تھی اسی طرح حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ مولانا عبداللہ حسنیؒ مولانا واضح رشید ندویؒ حضرت مولانا رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم سے بڑی والہانہ محبت تھی جس کا وہ گاہے بگاہے اظہار کیا کرتے تھے۔ جہاں بھی موقع ہوتا حسنی خاندان کی خوبیوں کا تذکرہ ضرور کیا کرتے ۔ حسنی خاندان کی سادگی ایک دوسری کے حقوق کی ادائیگی کے نظام اور طریقۂ کار کا تذکرہ خود کئی بار مولانا کی زبان سے میں نے سنا ہے ۔ مولانا حسنی خاندان کے بچوں سے بے حد پیار اور محبت کیا کرتے تھے اس کی ایک وجہ مولانا کا خود تکیہ میں قیام بھی تھا کیوں کہ مولانا نے تکیہ کو جتنا قریب سے دیکھا ہے ہم سب نے نہیں دیکھا اسی لئے تکیہ اور اہل تکیہ سے محبت ان کی نسوں میں خون بن کر دوڑتی تھی ۔ مولانا حسنی خاندان کی خوبیوں کا اعتراف جس طرح کیا کرتے تھے وہ اپنے آپ میں بہت انمول ہوا کرتا تھا ۔ حسنی خاندان اور تکیہ سے جڑی ہوئی ایسی ایسی باتیں بتاتے جس سے یہ گمان ہوتا گویا وہ خود اس خاندان کے ایک فرد ہوں ۔ خاندانی رشتوں کا تذکرہ ایسے کرتے گویا وہ رشتوں اور نسبتوں کے حافظ ہوں ۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو جس نے اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ حضرت مولانا علی میاں ؒ کے ساتھ گزارا ہو ۔ جسے ان کی قربت میسر رہی ہو ۔ خادم خاص کے مقام پر فائز رہے ہوں۔ ان سے اکتساب فیض کیا ہو۔ ان کی صحبت سے خود کو فیضیاب کیا ہو ان کے لئے یہ باتیں نئی نہیں ہو سکتیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ مولانا حسنی خاندان کے ہی ایک فرد جیسے تھے تو مبالغہ نہیں ہوگا ۔
مولانا کی زندگی کے بے شمار مخفی پہلو ہیں جن کو بیان کرنے میں صفحات کے صفحات کالے ہو سکتے ہیں صرف مولانا کے حضرت مولانا رابع حسنی دامت برکاتہم, مولانا واضح رشید ندوی ؒ سے والہانہ تعلق اور حسنی خاندان سے بے پناہ محبت کا ہی تذکرہ کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح مولانا کے عادات و اطوار،قناعت پسندی،ملنساری،امانت داری، پاکبازی، پاکدامنی،خودداری،سادگی،تواضع، انکساری،مزاح،ظرافت،نفاست پسندی، خوش روی،خوش گوئی، خوش لباسی،خوش طبعی اور خوش اخلاقی پر دفاتر تیار ہو سکتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ حضرت مولانا علی میاں ؒ کی شخصیت کے فیض کا پیکر کامل مولانا کی شخصیت میں ہمارے درمیان تھا جو اب نہیں رہاـ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)