آہ مولانا امین عثمانی ندوی مرحوم ـ شکیل احمد اعظمی 

 

وہ کہ جو نازش مک و ملت تھا ، وہ کہ جس سے صبح وطن درخشاں تھی، جو کہ جدید و قدیم دینی اقدار اور روایتوں کا پاسبان اور ملت کی عظیم حکایتوں کا امین تھا وہ امین آج رخصت ہو گیا، علم و حلم کا پیکر سادگی و خاکساری کا مظہر، فقہ و بصیرت کا نیر تاباں ملت اسلامیہ کے افق پر آخری بار اپنی چمک دکھلا کر ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا، سیرت و کردار میں نشان عظمت، دل دردمند اور زبان ہوش مند کا حامل باصلاحیت فرزند ندوہ ایسے وقت میں مسند علم و فقہ سے رخصت ہو گیا جبکہ ملت کو اس کی سخت ضرورت تھی اور گویا وہ زبان حال سے کہتا ہوا رخصت ہوا کہ:

مجھ کو ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر

آہ امین عثمانی صاحب بھی دار فانی چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملے اور اپنے پیچھے اپنے دوستوں عزیزوں محبین و معتقدین اور چاہنے والوں کی ایک دنیا کو مغموم و مہموم کر گئے ، وہ کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے، آج صبح سے تعزیتی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، ہمارے مکرم و معظم بھائی مولانا وقار عظیم صاحب نے مجھے لکھا اور رلا دیا ـ

دل رو رہا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اپنے پرانے سارے ساتھی جمع ہوں اور ایک دوسرے کی تعزیت کریں ـ کیسے کیسے ہیرے موتی چلے گئےـ وقار بھائی نے صحیح لکھا واقعی پرانے رفقا سے ملنے اور غم غلط کرنے کو جی چاہتا ہےـ

اللہ تعالٰی مولانا امین عثمانی صاحب کو غریق رحمت کرے بہت خوبیوں کے مالک انسان تھے۔ کئی روز سے ان کی بیماری کو لے کر تشویشناک خبریں آ رہی تھیں۔ بے شمار ہاتھ دعا کے لئے بارگاہ ایزدی میں دراز تھے خاکسار گنہگار نے بھی دعائیں کیں مگر الله تعالٰی کو یہی منظور تھا کہ اب جلد ان کو دنیا کے جھمیلوں سے نجات دے کر خلد بریں کا مکیں بنائے اور لا خوف عليهم و لا هم يحزنون والوں کی مصاحبت و ہم نشینی کا مژدہ جاوداں سنائے ۔

مولانا امین عثمانی صاحب کی وفات حسرت آیات پر خیال 45 بلکہ 48 سال پیچھے مڑ گیا۔ خاکسار کو عربی ششم میں داخلہ ملا تو عثمانی صاحب ہشتم میں پہلے سے موجود تھے ۔ نیک اور صالح طالبعلم ، علم کی جستجو اور طلب میں بے مثال، ہمہ وقت مطالعہ میں مشغول، خاموش طبیعت کے انسان، شور شرابے سے دور اور طالبعلموں کی غیر درسی سرگرمیوں میں بھی نہیں نظر آتے تھے مگر دعوتی اور تحریکی مزاج اسی وقت سے تھا۔ ہم چند طلبہ جو جماعت اسلامی سے متاثر تھے وہ آپس میں ملتے اور دعوت و تحریک سے متعلق امور پر گفتگو اور غور و فکر کرتے۔ عثمانی صاحب ہماری رہبری و رہنمائی کرتے تھے ۔ جب کبھی جماعت کے کسی رہنما سے ملاقات ہوتی تو ہم انہی کی قیادت میں ندوہ کیمپس سے باہر ڈالی گنج کی کسی مسجد میں جمع ہوتے۔ ان دنوں لکھنئو کی ایک مشہور ادبی و تحریکی شخصیت جناب میم نسیم صاحب مرحوم کی تھی ان سے کئی بار ملنا ہوا۔ میم نسیم صاحب اندرا گاندھی کی ایمرجنسی میں بڑے تکلیف دہ قید و بند کے حالات سے گزرے وہ بعد میں امریکہ چلے گئے اور وہاں دعوتی کام کو انہوں نے خوب پھیلایا اللہ تعالٰی نے بڑی مقبولیت عطا کی بے شمار لوگ ان کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

ہمارے مولانا امین عثمانی صاحب سينئر طالب علم تھے میں ان کا بڑا احترام کرتا تھا اور ان کی حیثیت ہمارے لئے برادر بزرگ کی تھی ۔ ہمارے ساتھیوں میں ڈاکٹر ذکر اللہ خاں مرحوم بھی تھے جن کا پچھلے سال ممبئی میں انتقال ہوا۔

ندوہ سے جدائی کے بعد سارے دوست احباب ادھر ادھر بکھر گئے۔ حسن اتفاق نومبر 1998 میں حضرت مولانا مجاھد الاسلام قاسمی صاحب رح بحرین ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے تو ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی چونکہ میں ان کے نام اور کام مقام و منصب سے آگاہ تھا اس لئے ان کے دو تین روزہ قیام کے دوران کئی ملاقاتیں کیں اور استفادہ کیا۔ ہمارے فورم میں موجود ڈاکٹر فہیم اختر صاحب بھی حضرت کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ اس وقت فقہ اکیڈمی اور اس کی خدمات کا تفصیلی علم ہوا ۔ اس ملاقات کے بعد اکیڈمی سے حافظ امتیاز احمد صاحب ہر سال بحرین کے دورے پر آتے رہے اور مولانا امین عثمانی صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہی فقہ اکیڈمی کے روح رواں ہیں۔ طالبعلمی کے ایام یاد آ گئے اور ملاقات کی خواہش ہوئی چنانچہ اس کے بعد سفر ہند کے موقع پر اسلامک فقہ اکیڈمی کے آفس پہنچنے اور وہاں موجود تمام علما و فضلا سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ عثمانی صاحب بڑے تپاک سے ملے،ہم نے ندوہ کے روز و شب کو یاد کیا اور اس دور سے وابستہ پرانی یادوں کو کریدا، میں تو خوش تھا ہی ،عثمانی صاحب کے پرنور چہرے پر بھی خوشی کے آثار صاف جھلک رہے تھے۔ انہوں نے بڑا اکرام کیا۔ وہاں پہنچ کر اکیڈمی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہوا اور بوریہ نشین جیالوں نے اوکھلا دہلی کی ایک تنگ گلی میں واقع ایک عمارت کے تنگ فلیٹ میں بیٹھ کر کتنا عظیم الشان فقہی لٹریچر تیار کر رکھا ہے اور وہیں بیٹھے کتنے اعلی پائے کے عالمی سیمینارس اور کانفرنسوں کے کامیاب انعقاد کی پلاننگ کی ہے واقعی حیرتناک امر ہے ۔ تنگ فلیٹ جا بجا کتابوں کے سیمپلس کی کثرت کی وجہ سے مزید اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کناں ہے۔

میں نے جو بہت اچھی چیز دیکھی اور جس سے طبیعت بہت خوش ہوئی وہ تھی کئی ایک نوجوان فضلا کی موجودگی جو پورے انہماک سے فقہ اکیڈمی کے علمی کاموں کو سرانجام دینے میں منہمک ہیں، صاف نظر آ رہا تھا کہ پوری ٹیم اپنے قائد سے کتنی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔ لوگ عثمانی صاحب سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں ان کا احترام کرتے ہیں دوسری طرف عثمانی صاحب بھی ان سب سے شفقت و عنایت کا معاملہ فرماتے ہیں، نہ کوئی تکلف نہ تصنع ۔

عثمانی صاحب نے خاموشی کے ساتھ ستائش کی تمنا اور صلے کے پروا سے بے نیاز ہو کر کام کیا اور کروایا، عربی زبان میں ایسے ٹیم ورک کو خلية النحل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کامیابی کا یہی راز ہے کہ اپنے مقصد پر ایمان ہو پھر اخلاص پھر اجتماعی جدوجہد، جہاں شہرت اور نام و نمود کی خواہش ابھری نہیں کہ کام رک جاتا ہے اور باتیں زیادہ کی جاتی اور فلسفے خوب بگھارے جاتے ہیں، اگر کچھ کام ہو بھی جاتا ہے تو وہ برکت سے محروم ہوتا ہے۔

عثمانی صاحب سے ہر سفر میں آتے جاتے ملاقات رہتی اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا۔ اکیڈمی کے رفقا بھی شریک گفتگو ہو جایا کرتے۔ آج مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ سال گزشتہ نومبر میں سفر ہوا تھا ،میں دہلی سے سیدھے اعظم گڑھ چلا گیا ارادہ تھا کہ واپسی میں عثمانی صاحب سے ملاقات ہوگی مگر وقت کی تنگی اور پھر جناب خالد حسین ندوی صاحب کے پر تکلف عشائیہ کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی ، اللہ کے ولی ڈاکٹر ولی اختر ندوی صاحب سے ملاقات ہو گئی تھی جو ابھی ماہ ڈیڑھ ماہ پہلے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ مولانا امین عثمانی صاحب سے ملاقات نہ کر پانے پر مجھے شرمندگی کا احساس تھا میں نے ان کو خبر نہ دی اور چونکہ میرا جلد ہی سال رواں کے مارچ میں سفر کرنے کا ارادہ تھا تو سوچا کہ عثمانی صاحب سے معذرت کر لوں گا اور ان شاء اللہ مارچ میں مل لیں گے، مگر اللہ کی مرضی کہ کرونا کی وبا نے سارے راستے ہی بند کر دیے اور اسی کرونا کی نذر پہلے ولی اختر مرحوم ہوئے اور آج مولانا امین عثمانی صاحب کی وفات کا حادثہ جانکاہ پیش آیا۔ بہرحال عثمانی صاحب کو میرے سفر کا علم ہو گیا تو انہوں نے ایمیل اور واٹساپ پر شکوہ کیا فون پر بھی بات ہوئی ، مجھے شدید احساس شرمندگی تھا جلد ملاقات کا وعدہ کیا جو حالات کی وجہ سے وفا نہ ہو سکا۔

مولانا امین عثمانی صاحب کی خوبیوں کے بارے میں لکھنے کے لئے وقت چاہئے اور مجھ سے زیادہ بہتر ان کے رفقائے کار لکھیں گے یقینا ان کی عملی زندگی میں ہمارے لئے سیکھنے کا بہت سامان ہے۔

وہ خاموشی سے کرنے کے اہم کاموں کی طرف توجہ دلاتے تھے اور چپکے سے وہ کام ہو جاتے یا جاری ہو جاتے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلتا کہ یہ کس کا فیض ہے اور کس کی منصوبہ بندی ہے۔ مجھ جیسے ناکارہ کو بھی کسی لائق سمجھا اور بعض امور کی طرف توجہ دلائی میں اس کے لئے شکر گزار تھا اور رہوں گا اور ان کے لئے دعائے خیر کرتا رہوں گا۔

انہوں نے دو عنوانات کے تحت مدرسہ الإصلاح میں مجھ سے سیمینار کے انعقاد کے لئے خواہش ظاہر کی، اس کے لئے وہ اصلاح ہی کو زیادہ موزوں سمجھتے تھے ، چونکہ مدرسہ الإصلاح میں دو سیمینار خود اپنے منعقد ہو چکے تھے یا منعقد ہونے والے تھے اس لئے میں نے معذرت کی اور کم از کم ایک سال کا وقت مانگا، عثمانی صاحب خوش تھے مگر ایک طرف تو کرونا نے سارے حالات ہی بدل کر رکھ دئے ہیں ہر طرف اور ہر جگہ اتھل پتھل ہے اور دوسری طرف خود عثمانی صاحب ہی اٹھ گئے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت کی بہاروں سے سرفراز کرے آمین۔

ابھی جلدی ہی کی بات ہے انہوں نے مجھے لکھا کہ سنا ہے آپ کا کوئی ندویوں کا گروپ ہے اگر ممکن ہو سکے تو مجھے بھی شامل کر لیں میں ذرا دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ندوی بھائی کیا کر رہے ہیں اور ان کے علم و تجربہ سے کچھ فائدہ اٹھاؤں۔ میں نے کہا حضرت میرا اپنا تو کوئی گروپ نہیں ہے مگر دو گروپوں میں میں ہوں اور از راہ عنایت احباب نے ایڈمن پینل میں شامل کر لیا ہے تو انہوں نے ملتقی الندويين میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ ان کو شامل کیا گیا تو ہمارے بعض رفقا کو حیرت بھی ہوئی کہ مولانا عثمانی اور واٹس ایپ! ایں چہ بو العجبی ست؟ مگر کس نے سوچا تھا کہ اتنی جلدی ہمیشہ ہمیش کے لئے ساتھ چھوٹ جائے گا۔ الدنيا دار الغرور و حياتها متاع الغرور.

اللهم اغفر للشيخ امين عثماني و ارحمه، واغسله بالماء و الثلج و البرد و نقه من الذنوب و الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اجعل قبره روضة من رياض الجنة يارب العالمين ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*