آہ! ڈاکٹرممتازاحمدخاں-محمدصدرعالم ندوی

موت کی خبروں نےجسم وجان کونڈھال بنادیاہے۔ آۓدن کسی نہ کسی کی موت کی خبرآرہی ہے اوریہ خبر سننے کےبعدایسامحسوس ہورہاہےکہ اب پتانہیں کس کی باری ہے ،ڈراورخوف طاری ہے اسی بیچ دس رمضان بروز جمعہ کومغرب سےتھوڑی دیر پہلےڈاکٹرممتازاحمدخاں سابق پروفیسربہاریونیورسٹی مظفر پورکےانتقال کی خبرآٸ،اناللہ واناالیہ راجعون پڑھا،بدن سہم گیا ،چونکہ ڈاکٹر صاحب کوٸ خاص بیمار نہیں تھے ،لکھ پڑھ رہےتھے ،خویش واقارب ،عزیز وں ودوستوں کاحال معلوم کررہےتھے ،ابھی چنددن پہلےکی بات ہےکہ میرےبھاٸ جان مولانا محمدقمرعالم ندوی استاد مدرسہ احمدیہ ابابکرپورویشالی نےکہاکہ ڈاکٹر صاحب فون نہیں اٹھا رہےہیں ،میں نےایک نمبر دیا، لیجیےاس نمبر پربات ہوجاۓگی ،پھراس نمبرپربات ہوٸ،میں نےخیریت پوچھی،توکہاکہ ڈاکٹر صاحب بیمارچل رہے ہیں ،ابھی گھرہی پرہیں ،اورتمہارانام لےکربولے ہیں کہ مولانا صدرعالم صاحب کوکہیےکہ میرے لیے دعاکریں ۔میں نےاسی وقت کہا اللہ خیرکامعاملہ کرے،گھرپرجاکرعیادت کےلیے سوچ ہی رہاتھا کہ وفات کی خبربجلی بن کرگڑی ،

جمعہ کوشام میں انتقال کی خبرآٸ اورسنیچر کودن کےدوبجےاردومڈل اسکول باغملی حاجی پورکےمیدان میں نمازجنازہ مولانا سیف الاسلام امام جامع مسجد مروت پورمہنارنےپڑھاٸ اورباغملی کےقبرستان میں ہی سپردخاک ہوۓ ،لاک ڈاٶن کےباوجودمحبت کرنےوالوں کی بڑی تعداد تھی ،ڈاکٹر ریحان غنی ،سابق جج عبدالرحیم انصاری ،انوارالحسن وسطوی،ماسٹر عظیم الدین انصاری ،پروفیسرواعظ الحق،عارف حسن وسطوی،مولانا محمدقمرعالم ندوی،راقم الحروف محمدصدرعالم ندوی،پروفیسرجمال،سیدمصباح الدین احمد،ڈاکٹر ذاکرحسین،ماسٹر نسیم،ماسٹرعبدالقادر،وغیرہ کےنام ذہن میں ہیں۔

ڈاکٹرصاحب غضب کےانسان تھے ان کی اپنی دنیاتھی ،پڑھنےپڑھانےسےشغف تھا،پڑھنےوالےطلبا کوبےانتہاچاہتےتھے ،میں نےباضابطہ ان سےنہیں پڑھا،لیکن بہت کچھ سیکھاہے۔ جب بھی فون پربات ہوتی ،باتوں باتوں میں کچھ سکھاتے ،مشورہ بھی دیتے،وفات سےدس بارہ روزپہلےبات ہوٸ ،بہت دیرتک بات ہوتی رہی ،میں نے باتوں بات میں کہاکہ آپ کی ایک شاگردہ نے جمیل احمد خاں جمیل سلطان پوری کےاوپرپی ایچ ڈی کیاہے ،اس مقالے کی ضرورت ہے ،انہوں نےکہاکہ آپ عربی والےہیں ،شاگرد سےشاگردہ کہہ رہےہیں، شاگرد فارسی لفظ ہے ،فارسی میں اس طرح سےمٶنث نہیں بنتا ہے،اب تولوگ اردوکی چندکتابیں پڑھ کر اردوزبان کوبھی توڑ مرورکرپیش کررہےہیں پھرانہوں نےایک دوکتاب کانام بھی لیا اورکہاکہ اردووالوں کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے،پھرکہاکہ میری کتاب ”قندیلیں“آپ نےپڑھی یا نہیں ،میں نےکہاکہ کچھ پڑھاہوں ،کہاکہ اس کتاب میں جہاں بڑےبڑےلوگ ہیں وہیں میرےگاٶں کےچھوٹےچھوٹےلوگ بھی ہیں۔ عام طورسے لوگ چھوٹےلوگوں پردھیان نہیں دیتےہیں ،بہت دیرتک بات ہوتی رہی ،پھرانہوں نےمیرےوالدمحترم مولانا عبدالقیوم شمسی کاموبائل نمبر مانگا،میں نےکہاکہ وہاٹس ایپ پربھیج دیتا ہوں ،میں نےوالدصاحب کانمبردےدیا ،معلوم ہواکہ والدصاحب سےبھی بات ہوئی۔

’’قندیلیں‘‘ ان کی آخری کتاب ہے۔اسی سال مارچ میں چھپ کرآئی اورحاجی پورکےایک ادبی پروگرام میں 14مارچ 2021 بروزاتوارکو رسم اجرابھی ہوئی ،ڈاکٹرممتازاحمدخاں اردوادب کےایک مضبوط ستون تھے اردوسےبےانتہامحبت تھی ،ڈاکٹر عبدالمغنی ،غلام سرور،قمراعظم ہاشمی ،بےتاب صدیقی ،ریاض عظیم آبادی ،وغیرہ کےساتھ اردوکواپنااوڑھنابچھونابنالیا تھا،پھرضلع ویشالی میں اپنےرفقا کےساتھ پورےضلع کادورہ کیا،جگہ جگہ کمیٹیاں بنوائیں ،ضلع اوربلاک سطح پرکئی کامیاب پروگرام ہوۓ،پورےملک میں اردوکےتعلق سےویشالی ضلع کواپنی ایک پہچان اورشناخت ملی۔ درجنوں کتابيں انجمن ترقی اردوویشالی کےبینرتلے چھپیں،جب انجمن ترقی اردومیں اختلاف ہو ااورنااہلوں کےہاتھ میں انجمن ترقی اردوچلی گئی تواپنےآپ کو صوبہ سےلےکرضلع تک انجمن سےالگ کرلیا ،اورکاروان ادب کےنام سےایک تنظیم اپنےرفقاکےتعاون سےبنائی ،ڈاکٹرصاحب کاروان ادب کےصدر اورانوارالحسن وسطوی سیکریٹری منتخب ہوئے ،اورمستقل اسی کاروان ادب کےبینرتلےاردو کی خدمت کرتےرہے ،ڈاکٹرصاحب زمینی آدمی تھے ،اورزمین پرکام کرناپسندکرتےتھے ،اورزمین پرکام کرنےوالوں کوپسندبھی کرتےتھے۔ آج حاجی پورواطراف میں جن لوگوں کوقلم پکڑناآتاہے ،وہ ڈاکٹرصاحب ہی کادین ہے ۔ میری سب سےپہلی کتاب ”ضیاۓشمس “سوانح حضرت مولانا سیدمحمدشمس الحق سابق شیخ الحدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر،چھپ کر آئی تو ڈاکٹرصاحب بہت خوش ہوئے اورخوب دعائيں دیں ،میری ایک دوسری کتاب ”حسن عمل“احادیث کامجموعہ ،کااجراڈاکٹرصاحب کےمکان پرخدابخش لائبریری کےسابق ڈائریکٹرڈاکٹرامتیازاحمدکےہاتھوں ہوا ،ڈاکٹر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی ،جسم کاخون گرم ہوجاتا،ایک مرتبہ انہوں نےکہاکہ آپ نوجوان ہیں ،ویشالی ضلع کی مساجدکی تاریخ ترتیب دیتےتوبڑاکاہوتا،میں نےکہاکہ بہت بھاری کام ہے ضلع کےاعتبارسےتوکام نہیں ہواہے لیکن اس موضوع پر سرسیداحمدخاں ،مفتی ظفیرالدین مفتاحی ،مولانا عطاءالرحمان قاسمی وغیرہ نےکام کیاہے ، ان شاء اللہ ارادہ کرتاہوں ،ڈاکٹرصاحب کےیہاں کاموں کاانبارتھا،ریسرچ وتحقیق کرنےوالوں کےلیے بہترین گارجین تھے۔ بےپناہ خوبیوں کےمالک تھے ،اردو،فارسی ،انگریزی زبانوں پرکمانڈتھا،عربی سےبھی واقفیت تھی ،زندگی بھرخود کو کتابوں سےہی جوڑےرکھا،ہزاروں شاگرد ملک میں پھیلےہوۓہیں،جوان کےلیےبہترین صدقٔہ جاریہ ہیں،ان کی زندگی میں ہی ان کی خدمات کو سراہتےہوۓ ان کےلائق شاگرد ڈاکٹر مشتاق احمدمشتاق نےایک ضخیم کتاب ”ڈاکٹرممتازاحمدخاں: ایک شخص ایک کارواں “کےنام سےترتیب دی ،یہ کتاب 2015میں چھپ چکی ہے ،ڈاکٹرصاحب اپنےشاگردوں میں ڈاکٹر مشتاق احمدمشتاق کابرابرنام لیتے ،مشتاق صاحب ڈاکٹر صاحب کےعلمی معاون بھی ہواکرتےتھے ،مشتاق صاحب چندماہ قبل اللہ کوپیارےہوگۓ۔

ڈاکٹرصاحب پورے ملک میں ماہراقبالیات کی حیثیت سےجانےجاتےتھے ،اب تو یہ وہاں جاچکےہیں جہاں سبھوں کو ایک نہ ایک دن جاناہے لیکن ان کی ایک کتاب ”اقبال: شاعر ودانشور“رہتی دنیاتک یادرکھی جائے گی۔اللہ سےدعاہےکہ ڈاکٹرصاحب کی بال بال مغفرت فرمائے ،اورپس ماندگان کوصبر جمیل دے۔