آہ! عظیم استاذ و بے مثال مربی حضرت مولانا نور عالم خليل امینی رحمہ اللہ ـ مفتی میثاق ربانی قاسمی

20 رمضان المبارک 1442ھ بہ روز پیر بہ وقت سحر بہ مطابق 3 مئی 2021 یہ روح فرسا خبر ملی کہ بلند پایہ ادیب، با کمال مدرس، عظیم مربی، دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ ومدیر عربی مجلہ "الداعی”،مرد خلیق، اور رجل صالح حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خليل امینی رحمہ اللہ بھی دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، یہ خبر بلا مبالغہ مجھ جیسے ہزاروں آپ کے محبین، مخلصین اور ملک وبیرون ملک میں پھیلے ہوئے شاگردوں کے دلوں پر بجلی بن کر گری؛ کیوں کہ آپ کی وفات تنہا ایک ذات کی نہیں؛ بل کہ ایک عہد کا خاتمہ ہے، وہ عہد جس کے ہر شعبۂ حیات میں نستعلیقیت تھی، انضباط وقت تھا، کام نہیں کارنامے انجام دینے کی مستحکم منصوبہ بندی تھی، جتنا پڑھا، لکھا اور دنیا کے سرد وگرم حالات سے جو تجربات حاصل ہوئے انہیں اپنے عزیزوں اور شاگردوں تک منتقل کرنے کا مخلصانہ اور دردمندانہ جذبہ تھا، اس میں ایک شخص نہیں شخصیت مجسم تھی، تنہا ایک ذات نہیں مکمّل انجمن اور اکیڈمی چھپی ہوئی تھی؛ اس لیے کون ہے جو آج ان کی جدائگیی پر حزیں نہیں ہے، ہر دل دردمند اور ہر ذہن مبتلائے رنج والم ہے، اور اس ملک میں ہی نہیں جہان دگر میں بھی آپ سے استفادہ کرنے والے لاکھوں لوگ یادوں کی دنیا میں کھو گئے ہیں، مجھے بھی لگتا ہے کہ 2009 اور 2012 کا سال ہے، میں مادر علمی کی ششم ثانیہ اور تکمیل ادب کی درس گاہ میں بیٹھا ہوں اور حضرت الاستاذ اپنے منفرد لب ولہجے، نرالے طریقے اور انتہائی حسین ودل کش انداز میں جھوم جھوم کر لطف اندوز ہوتے ہوئے درس دے رہے ہیں، متنبی کے اشعار، عربی زبان وادب کی چاشنی، اس کی جامعیت، حسین تعبیرات، نرالی ترکیبات وساختیات اور اس طرز پر جملوں کے استعمال کی پیچیدہ گتھیاں سلجھا رہے ہوں، علم کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بہ رہا ہو، انتہائی سنجیدگی اور وقار کے ساتھ اس کی موجیں قیمتی موتیاں بکھیر رہی ہوں اور ہم سب ان لعل وگہر سے دامن مراد بھر رہے ہوں، یقیناً آج بھی دارالعلوم اسی طرح ہے، وہی اس کی درس گاہیں ہیں، وہی در وبام ہیں، وہی بزم ہے وہی دھوم ہے، وہی طلبہ اور عاشقان علوم نبوت کا ہجوم ہے؛ مگر کمی ہے تو بس اس آفتاب وماہ تاب کی جو ہمیشہ کے لئے تہہ مزار چلا گیا، ہم چاہیں بھی تو واپس نہیں لاسکتے؛ کیوں کہ حکایت ہستی کے دو ہی اہم واقعات ہیں پیدائش اور موت، اور زندگی وہ روگ ہے جسے ایک مرتبہ لگ جائے اسے لقمہ اجل بننا ہی پڑتا ہے، پھر اسی سے مردوں اور زندوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے، غم فراق میں آنسو بہنے لگتے ہیں، دل کو ہلکا کرنے کے لیے جانے والوں کی خوبیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، کارناموں کو افادہ اور استفادہ کے لئے تحریری شکل دی جاتی ہے، لیکن بہ حیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ موت محض زندگی کا خاتمہ نہیں؛ بل کہ ایک الگ زندگی کی شروعات بھی ہے، ہمیں حضرت الاستاذ کی خوبیوں، خوف خدا، سنت وشریعت اور خلق خدا کی خدمت میں گزاری ہوئی زندگی کی وجہ سے رب کی رحمت سے امید ہے کہ وہ اپنے حبیب سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق، مصادر شریعت اور جنت کی زبان عربی کے اس شیدائی کو ضرور اپنی خصوصی عنایتوں میں رکھے گاـ
حضرت الاستاذ کی شروعاتی زندگی بڑی محرومیوں کے ساتھ گزری ہے، 18 دسمبر 1952، مطابق یکم ربیع الآخر 1382ھ ددھیال رائے پور حال ضلع سیتامڑھی، سابق ضلع مظفر پور میں آپ کی پیدائش ہوئی، ابھی آپ صرف تین ماہ کے تھے کہ والد حافظ خلیل صاحب کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا، آپ کی والدہ محض انیس سال کی عمر میں بیوہ ہوگئیں، والدہ محترمہ کی دوسری شادی محی الدین بن محمد نتھو سے ہوئ جو مولانا کے چچیرے ماموں بھی تھے، مئی 1967 میں ان کا بھی انتقال ہوگیا، ایک مرتبہ پھر آپ کی والدہ کم عمری ہی میں تقریباً چونتیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں، دادی مقیمہ خاتون نے اپنے اس یتیم پوتے کی پرورش کی، ننہیال ہری پور بیشی میں اپنے نانا جان سے تعلیم کی بسم اللہ کی، اس کے بعد رائے پور مولوی ابراھیم عرف مولوی ٹھگن کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کر مدرسہ نورالھدی پوکھریرا، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ہوتےہوئے 1964 مطابق 1383ھ کو دارالعلوم مئو پہنچے اور وہاں عربی اول میں داخلہ لیا، اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں مختلف اساتذہ سے کسب فیض کئے، مدرسہ امینیہ دہلی بھی آپ کا مرکز درس رہا ہے، تعلیم کے ان مراحل میں حضرت الاستاذ کو بڑی صعوبتوں اور معاشی تنگیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ مشکلیں ان کے عزم، جہد مسلسل اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں آڑے نہ آسکیں؛ کیوں کہ ان کا عقیدہ تھا کہ انسان کے بڑے ہونے کے پیچھے احساسِ محرومی کا بڑا احسان ہوتا ہے، محروم انسان ہر اس چیز کو پالینا چاہتا ہے جو اسے میسر نہیں آئی، اس کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرنے سے وہ دریغ نہیں کرتا، جب کہ آسودہ لوگ، ناز ونعمت میں پرورش پلنے والے بچے اس فکر سے عام طور پر عاری ہوتے ہیں کہ انہیں کسی چیز کی کمی کا احساس ہی نہیں ہوتا، اسی فکر کے ساتھ وہ بڑھے اور بڑھتے چلے گئے، پھلے اور پھولتے چلے گئے، نکھرے اور نکھرتے چلے گئے، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ غربت کی کوکھ میں جنم لینے والا یہ بچہ، محرومیوں کے سایے پرورش پانے والا یہ یتیم اور طرح طرح کی مشکلوں سے گزرنے والا یہ طالب علم کس طرح علم وادب کا روشن چراغ , نور عالم بن کر دنیا کو منور کرنے کا ذریعہ بنا، بلا شبہ قدرت جسے بڑا بنانا چاہتی ہے، اس سے انقلابی، تعمیری اور تجدیدی کام لینا چاہتی ہے تو اسے محرومیوں سے گزارتی اور مصائب کی بھٹیوں میں تپاتی ہےـ
حضرت علیہ الرحمہ سے علم وعقیدت کا غائبانہ رشتہ اسی وقت قائم ہوگیا تھا جب میں عربی دوم کا طالب علم تھا، آپ کے چہیتے شاگرد اور میرے مشفق وکرم فرما استاذ حضرت مولانا محمد اسلم صاحب قاسمی پاکٹولوی سیتا مڑھی زید مجدھم سے بارہا آپ کے علم وادب، تعلیم وتربیت اور حسین انداز درس کے تذکرے سننے کا موقع ملتا اور دل میں اس پر کشش شخصیت سے ملاقات کا جذبہ پروان چڑھتا رہا، خدا نے وہ دن بھی عطا کیا جب میں مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے عربی پنجم میں داخل ہوکر سب سے پہلے حضرت الاستاذ کی خدمت میں بلا پیشگی اطلاع کے دیوانہ وار حاضر ہوگیا، دروازہ کھلتے ہی اس نورانی چہرہ پر نظر پڑی تو بے ساختہ میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں، اصول کے خلاف میری اس حاضری سے حضرت ناراض بھی ہوئے، لیکن عذر بتانے، میرے اس جنون اور آنکھوں کی نمی دیکھ کر حضرت نے مجھے اندر بلایا اور میں نے بچکانے انداز میں ایک سانس میں داخلہ کی خوشی اور دیگر احوال فٹ فٹ سنادئے پھر حضرت نے ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے رخصت فرمایا، پھر اگلے دن سے ہی آپ کی "الداعی” پڑھنے لگا، اسباق شروع ہوئے تو فرصت کے اوقات نودرہ میں موجود پنجم کی درس گاہ میں "الداعی” کے "اشراقہ” کی ورق گردانی کرتا بہت کچھ سمجھ میں نہیں آتا پھر بھی نہ جانے آپ کی تحریر کی جاذبیت مجھے اس طرف کھینچتی چلی جاتی اور بہت سے پیرا گراف میں یاد کر لیتا جو بعد میں مجھے کام آئے، یہ ادنی محبت مجھے آپ کی زندگی سے بہت قریب کردی تھی، جتنا میں آپ کے قریب ہوتا گیا عقیدت بھی اتنی بڑھتی گئی، ورنہ دنیا میں بہت کم ایسے با توفیق لوگ ہیں جن کی نزدیکی عقیدت میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ دور سے اچھے، نیک، خوش مزاج، اخلاق مند اور بزرگ تو نظر آتے ہیں، لیکن ان کے قریب جانے، معاملات کرنے، ضرورت پڑنے اور دیکھنے سننے کے بعد بد گمانی ہی ہاتھ لگتی ہے، لیکن استاذ محترم کی ذات ہی جدا گانہ ثابت ہوئی ـ
حضرت علیہ الرحمہ وقت کے بڑے پابند تھے، اکابر دیوبند میں سے حضرت تھانوی کا رنگ آپ کی زندگی اور اس کے معمولات میں غالب تھا، فطرتاً بڑے اصولی واقع ہوئے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان سے ملنے اور بات کرنے کے لئے پیشگی اطلاع بہت ضروری تھی، دوپہر کے دو گھنٹے آپ دارالعلوم میں لیتے تو ان کی آمد ورفت سے کوئی بھی شخص گھڑی کا ٹائم ملا سکتا تھا، طلبہ کو بھی انضباط وقت کی تاکید فرماتے اور اس پر عمل کروانے کے لئے پابندی سے حاضری بھی درج کرواتے تھے، یقیناً ان کی زندگی کا یہ معمول ہماری ترقی کا شاہ کلید ثابت ہوگا کہ جو وقت کی قدر کر لیتا ہےتو وقت بھی اسے قابلِ قدر بنا دیتا ہےـ
مولانا محض ایک استاذ ہی نہیں؛ بل کہ بہت بڑے مربی اور رجال ساز بھی تھے، جس کو وہ چھو لیتے وہ کندن بن جاتا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر باریکی سے نظر رکھتے، اپنے طلبہ کو سلیقہ مندی اور نستعلیقیت کی خوب تاکید فرماتے، لباس، خورد ونوش، قلم ودوات، کتاب وتحریر ،رہن سہن، بود وباش، چلت پھرت میں بھی خوش اسلوبی اور عمدہ طریقے پر خود بھی عمل پیرا رہے اور اپنے متعلقین سے بھی اس پر عمل آوری چاہتے تھے، جب کسی میں بے ڈھنگا پن دیکھتے تو نم آنکھوں کے ساتھ بڑے دردمندی سے فرماتے :
"کاش یہ شخص میرے استاذ حضرت کیرانوی کو دیکھ ہی لیا ہوتا”ـ
طبیعت میں بڑی حساسیت تھی، جلد ہی اچھائی اور برائی کو پرکھ کر خوش اور کبیدہ خاطر ہو جایا کرتے تھے، بسا اوقات نا گوار چیز سن یا دیکھ کر فرماتے کہ: اس سے بہتر مرجانا ہی تھا، اپنی تحریریں خون جگر سے لکھا کرتے تھے، بڑی محنت، عرق ریزی، ایک صفخہ لکھنے کے لئے سو صفحے مطالعہ کرنے اور اس میں اثر آفرینی کے لیے آہ سحر گاہی کے بعد وہ کوئی مضمون یا کتاب لکھا کرتے تھے؛ اس لیے شکوہ سنج رہتے تھے کہ اس زمانے میں کوئ پڑھتا ہی نہیں ہےـ
ایک مرتبہ میں آپ کی مجلس میں حاضر تھا، نصیحت کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ”کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے” میں نے برجستہ کہا حضرت یہ صحیح نہیں ہے، آپ ہی نے ماہ نامہ "البلال” میں لکھا ہے کہ "کچھ پانے کے لیے کچھ نہیں، بہت کچھ کھونا پڑتا ہے” یہ سنتے ہی حضرت بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے : اچھا مجھے پڑھتے بھی ہو، اللہ تمہیں مزید ترقیوں سے نوازےـ
حضرت ہشاش بشاش چہرہ، حسن تعامل، محبت کے دو بول اور فرسٹ امپریشن سے جتنا متاثر ہوتے اتنا کسی کی وجاھت، علمی لیاقت، عہدے ومناصب اور خاندانی شرافت سے بھی نہیں ہوتے تھے، اگر تعلق خاطر ہوگیا تو ہر ممکن اسے نبھانے کی کوشش کرتے، وہ محض ایک ادیب، اور باکمال عالم دین ہی نہیں؛ بل کہ رجل صالح، گرہ کشا، صائب الرائے، عالم اسلام کے احوال سے باخبر، دل دردمند اور وقت کے بہت بڑے ولی اور تہجد گزار انسان بھی تھے، راتوں کو اٹھ اٹھ اپنے رب کے، حضور گڑ گڑانا انہیں اتنا محبوب تھا کہ باری تعالیٰ نے اپنے پاس بلانے کے لئے بھی اسی مبارک ساعت اور با برکت مہینہ کا انتخاب فر مایا،

حضرت مرحوم کو عربی زبان وادب سے عشق کے حد تک تعلق تھا، محبوبہ کی طرح اس کے نوک وپلک کو درست فرماتے، حسن کتابت، رموز واوقاف اور اصول املا سے لے کر طباعت تک خوب صورت بنانے کے لیے بڑی جانفشانی سے کام لیتے تھے، عربی عبارت کو عرب کی طرح پڑھنے پر اس قدر زور دیتے کہ طلبہ اتنی مرتبہ پڑھیں کہ وہ جملہ کتابوں کا نہیں، بل کہ اس کا ذاتی ہوجائے وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے استعمال کرے، دوران درس آنے والے ہر ہر لفظ کی تحقیق، نحوی ترکیب، صرفی تحلیل اور اسی طرز پر مختلف جملے بنانے کے طریقے بتلاتے اور اگلے دن لکھ کر لانے اور چار چار طلبہ کا گروہ بنا کر شفویا استعمال کرنے کا مکلف بناتے، لکھنے میں خوش خطی کی طرف بہت توجہ دلاتے، اگر کسی کی تحریر اچھی نہیں ہوتی تو از راہ مزاح فرماتے:
لڑکیوں کی طرح کیوں لکھتے ہیں مولانا؟
عربی میں خط رقعہ لکھنے اور اس کی مشق کا حکم فرماتے، عربی کے علاوہ اردو زبان میں بھی آپ منفرد لب ولہجے کے صاحب طرز ادیب مانے جاتے تھے ، اس کا اعتراف ان ادبا نے بھی کیا ہے جن کو حکومتیں اردو کے نام پر اعزازات سے نوازتی ہیں ـ

حضرت ایک زندہ دل انسان تھے، خورد نوازی آپ کے اندر بہت تھی، آپ کے رد وقبول کا معیار بھی کافی اونچا تھا، چھوٹوں کی حوصلہ افزائی میں بھی بڑے سخی واقع ہوئے تھے، حیدرآباد کی ایک عظیم دینی درس گاہ میں جب احقر کا تقرر ہوا تو یہاں کے ذمہ دار نے میرے تعلق سے حضرت علیہ الرحمہ سے فون پر دریافت فرمایا کہ میثاق ربانی ارریہ بہار کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت نے فرمایا : "قیمتی ہیرا ہے، اسے سنبھال کر رکھئیے” آج حضرت کی یہ خورد نوازی اور آپ کے احسانات یاد کر کے خود کو یتیم محسوس کر رہا ہوں، خدا سے دعا ہے کہ بار الہا اپنے اس محبوب بندے، عظیم مفکر، سینکڑوں کتابوں کے مصنف، عربی واردو زبان وادب کے بلند پایہ ادیب، لاکھوں شاگردوں کے دلوں میں عقیدہ توحید، عشق رسول اور قرآن وحدیث اور عربی زبان کی محبت کا جام پلانے والے اور آپ کے نیک وخدمت گزار بندوں کی وفات پر ان کی خوبیاں لکھنے والے "نور عالم” پر رحمتوں کی بارش فرما، آپ کے پسماندگان اور ہم جیسے شاگردوں کو صبر جمیل عطا فرما آمین.