آہ! عابداللہ غازی-مہتاب قدر

 

ابھی ابھی برادرم ارشد غازی سے خبر ملی کہ ڈاکٹرعابداللہ غازی بھی نہیں رہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون
ڈاکٹر عابداللہ غازی سے اہل جدہ کی عموما اور میری بطور خاص کئی یادیں وابستہ ہیں۔ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ عابداللہ غازی ہمارے پڑوسی بھی تھے اسی لئے یادوں کا ایک لمبا سلسلہ ہمارے درمیان باقی ہے۔مولانا حامد الانصاری غازی کے بڑے فرزند ہونے کے علا وہ اس وقت جدہ میں مقیم طارق غازی اور ارشد غازی کے علاتی بھائی بھی تھے، مولانا حامد الانصاری غازی جب ان کے پاس مہمان ہوتے تو مولانا سے اکثر آتے جاتے بھی ملاقاتیں اور سلام دعا ہوتی رہتی ، مولانا غازی بہت شفیق اور پیکر اخلاق شخصیت کے حامل تھے ۔ عمر کے تفاوت کے باعث عابداللہ غازی سے بھی آتے جاتے ہی ملاقاتیں ہوتیں یا کسی علمی ادبی پروگراموں میں آمنا سامنا ہو جاتا ورنہ کبھی باقاعدہ بیٹھ کر بات کرنے کی سعادت میسر نہ ہوئی۔ جبکہ طارق غازی سے گھنٹوں ملاقاتیں بھی ہوئی اور گفتگو کا سلسلہ بھی رہا۔ڈاکٹرغازی سے پہلی ملاقات اعتماد صدیقی کے مکان پر حلقہ ارباب ذوق کے ایک پروگرام میں ہوئی جس میں ایک شعر ی نشست کا بھی اہتمام تھا، ڈاکٹر غازی انہی دنوں امریکہ سے سعودی عرب آے تھے تو موصوف نے جو نظم سنائی وہ سعودی عرب سے روحانی عقیدت کے سبب دونوں ملکوں کے تقابلی احساسات سے معمور تھی۔ دوران نشست ڈاکٹرصاحب نے میرے ایک قطعہ میں زبان کی غلطی کی نشاندہی فرمائی جسے میں نے اپنی عادت کے مطابق فورا قبول کرلیا۔ ڈاکٹرعابداللہ دراصل اپنی پوری فیملی اہلیہ تسنیمہ غازی اور بیٹے بیٹیوں کےساتھ ہی اس عمارت کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے جو کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی نے اپنے عملے کو عنایت کی تھی، ہم گراونڈ فلور پر اور ڈاکٹر غازی پہلی منزل پر رہتے تھے۔ ان میں مولانا غازی کی شباہت نمایاں تھی وہ بھی مولانا کی طرح ہشاش بشاش چہرہ مسکراتے لب، چمکتی آنکھیں اور مناسب بلکہ مولانا سے قدرے نکلتا ہوا قد رکھتے تھے۔جامعہ جاتے تو مغربی لباس اور گھر میں مشرقی لباس پہنا کرتے ۔ حلقہ ارباب ذوق کے بیشتر اجلاسوں اور مشاعروں میں شرکت بھی فرماتے ، ہمارے گھر بھی جب حلقہ کے پروگرام ہوے تو مولانا غازی اور انکے فرزندان عابداللہ غازی اور طارق غازی اور شاید ارشد غازی میں شریک رہے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں تلیفون سب کے گھروں میں نہیں ہوتا تھا اور ہوتا بھی تو انٹرنیشنل کالس کی سہولت کے سب متحمل نہیں ہوسکتے تھے اسی سبب ہم کو جب بھی حیدرآباد فون کرنا ہوتا تو ہم لوگ ان کے فلیٹ پر جاکر فون کرتے اور اس کی بل بھی اد اکردیتے جو اس وقت ایک واجبی اورمعمول کی بات تھی۔جدہ کے جس مشاعرے میں ماہر القادری کا انتقال ہوا ، ڈاکٹرغازی بھی شریک تھے انہوں نے جاتے ہوے مجھے بھی شرکت کرنے کو کہا مگر ، مشاعرے میں شرکت کے لئے شاید سو ریال زر ِ تعاون دینا تھا جو میرے لئے ایک نئی بات تھی سو میں نے معذرت کرلی تھی، بعد میں پتہ چلا کہ ماہر القادری اور حفیظ جالندھری کے درمیان کچھ مکالمہ ہوا اور ماہر القادری اس کے اثر سے جانبر نہ ہوسکے ۔
ڈاکٹرعابداللہ غازی ۶ جولائی ۱۹۳۶ کو پیدا ہوے اورعلی گڑھ سے فارغ ہوے تو لندن وہارورڈ جامعات سے تعلیمی ڈگریاں لیں اورامریکہ میں قیام کے دوران اقرافاونڈیشن کے ذریعے بچوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے لئے ایک جامع نصاب مرتب کیا جس کی اشاعت سے قبل وہ جدہ میں اسپانسرشپ کے لئے پروگرام منعقد کرچکے تھے ۔ ۱۴۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ، ستارہ امیتاز اورنشان امتیاز جیسے ایوارڈ حاصل کرنے والے ڈاکٹرعابداللہ انصاری غازی دراصل مجاہد آزادی محمد میاں منصور انصاری کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے ، درجات بلند فرماے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرماے- آمین