آدھار کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا،سپریم کورٹ درخواست پر غور کرے گا

نئی دہلی:آدھارکی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والے معاملے میں عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں پرمشتمل بینچ پیر کو نظرثانی کی درخواستوں پرغور کرے گا۔عدالت کے چیمبرمیں اس پر غور کیا جائے گا۔ راجیہ سبھاکے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش سمیت سات درخواست گزاروں کی درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔ جسٹس اے ایم کھانویلکر ، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس اشوکبھوشن ، جسٹس ایس عبد النظیراور جسٹس بی آر گگوئی پرمشتمل بینچ اس پر بات کرے گا۔ درخواستوں میں اکثریتی فیصلے کے طور پر آدھارکو برقرار رکھنے کے حکومت کے’جائزمقصد‘ کی تکمیل کے لیے ذاتی رازداری پر مناسب پابندی کے طور پر عدالت کے فیصلے پر غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ آئینی بنچ کے اکثریتی خیال میں آدھار کوانوکھا شناخت کا ثبوت قرار دیا گیا ، جبکہ اس پراختلاف رائے کرتے ہوئے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑنے آدھارکوغیر آئینی قرار دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے اس معاملے میں کھلی عدالت میںسماعت کے لیے پیش کرنے کی اجازت طلب کی کہ موجودہ معاملے میں آئین کی تشریح سے متعلق اہم امور پیدا ہوئے ہیں۔کیس میں دوبارہ غور کے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان کے لکھے ہوئے ایک نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک فیصلہ میں پانچ ججوں کے آئینی بنچ نے راجر میتھیو بمقابلہ ساؤتھ انڈین بینک لمیٹڈ کے معاملے میں 13 نومبر 2019 کوفیصلے کی درستگی پر شک کیاہے۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 110 کی ترجمانی سے متعلق معاملے کو لارجر بینچ کے پاس بھیج دیا۔