عابد الله غازی بھی چلے گئے ۔ ایم ودود ساجد

 

میرے محسن اور مشہور ماہر تعلیم ڈاکٹر عابد الله غازی بھی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔۔ وہ ایک طویل عرصہ سے شکاگو (امریکہ) میں مقیم تھے۔انہوں نے اقراء ایجوکیشنل فاؤنڈیشن قائم کرکے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئے تھے۔۔ ان کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ وہ اکثر یہاں آیا کرتے تھے۔

 

مجھے یاد ہے کہ 2005 میں جب میں ویوز نیٹ ورک انٹر نیشنل (وی این آئی) کا ایڈیٹر تھا تو ان کی ایک مطبوعہ کتاب سے ہم نے ہفتہ وار ایک مضمون شائع کرنا شروع کیا تھا۔۔ ہماری ایجنسی کی معرفت ان کا یہ مضمون ہر ہفتہ ملک اور بیرون ملک کے درجنوں اردو اخبارات میں چھپ جاتا تھا۔ڈاکٹر صاحب اس سے بہت متاثر ہوئے اور جب ہندوستان آئے تو مجھ سے ملاقات کیلئے میرے دفتر (ساؤتھ ایکس پارٹ ٹو) تشریف لائے۔انہوں نے کہا تھا کہ جہاں تک میری کتاب مجھے نہیں پہنچاسکی وہاں تک آپ کی ایجنسی نے مجھے پہنچادیا۔

 

2010 میں جب میں امریکہ کے سفر پر گیا تو ان کی ضیافت کا شرف حاصل ہوا۔۔ میں نے انہیں اکتوبر 2010 میں ہندوستان سے ہی فون کیا تو ان کی اہلیہ سے بات ہوئی۔میں نے انہیں بتایا کہ میں 26 نومبر 2010 کو واشنگٹن کیلئے روانہ ہو رہا ہوں اور 12 دسمبر کو شکاگو پہنچوں گا جہاں پانچ دنوں تک میرا قیام رہے گا۔۔ کچھ دیر کے بعد غازی صاحب کا بھی فون آگیا۔۔ میں نے انہیں بھی یہی تفصیلات بتائیں۔

 

بات آئی گئی ہوگئی اور مجھے بھی یاد نہ رہا کہ شکاگو میں غازی صاحب رہتے ہیں ۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں کسی میٹنگ سے لوٹ کر شکاگو اپنے ہوٹل پہنچا تو دفتر استقبالیہ پر عابداللہ غازی صاحب کا پیغام تھا کہ وہ آج شام کے کھانے پر مجھے لے جانے کیلئے شام کو سات بجے آئیں گے۔

 

شکاگو میں اس وقت موسم بہت خراب تھا۔برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔لیکن اپنے وعدہ کے مطابق غازی صاحب ہوٹل پہنچ گئے۔انہوں نے مجھے ساتھ لیا اور کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس وقت آپ کو سب سے زیادہ طلب کس چیز کی ہو رہی ہوگی۔میں نے بھی کوئی ردو قدح نہ کی اور اثبات میں سر ہلادیا۔

 

ہوا یہ تھا کہ 16روز کے صبر کے بعد ہمیں بتایا گیا تھا کہ شکاگو میں ’نان ویج‘ مل جائے گا۔لہذاگاندھی روڈ پر واقع ایک ہوٹل میں ہم نے دوپہر کے کھانے کے وقت منیجر کو بلاکر پوچھا کہ کیا یہاں حلال گوشت ملتا ہے؟ منیجر نے بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ نہیں‘یہاں حلال گوشت نہیں ملتا۔اس نے پھر ہماری رہ نمائی کی کہ سڑک کی دوسری طرف جناح روڈ ہے وہاں حلال گوشت مل جائے گا۔

 

بہر حال غازی صاحب مجھے جناح روڈ پر ہی لے گئے اور ایک عام سے نظر آنے والے پاکستانی ریسٹورینٹ میں بہت عمدہ کھانا کھلایا۔بہت دنوں کے بعد ’ایمان افروز‘شکم سیری نصیب ہوئی۔ کھانے کی مقدار کافی تھی۔فراغت کے بعد دو عدد چکن رول بچ گئے۔غازی صاحب نے کہا کہ میں یہ پیک کرادیتا ہوں۔یہ آپ کے سفر نیویارک میں کام آئیں گے۔بڑوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ اگلی صبح نیویارک رواہ ہوئے تو فی الواقع ان دو چکن رول نے دو وقت تک میری سیر حاصل شکم پروری کی۔

 

ایسی وضع قطع کے لوگ اب بہت کم رہ گئے ہیں۔غازی صاحب نے اپنی پوری زندگی نادار بچوں کی تعلیم وتعلم کے لئے وقف کردی تھی۔وہ وہاں کسی یونیورسٹی میں شاید اسلامیات کے پروفیسر تھے۔وہ ایک زود نویس مضمون نگار اورایک عمدہ شاعر بھی تھے۔اتنی ساری متضاد خوبیوں کے ساتھ ان کے اند رسب سے بڑا وصف فیاضی کا تھا۔

 

وہ ہندوستان میں ہی بہت سے لوگوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے۔ایک مشہور ادبی کردار کی حامل ماں بیٹی کو مالی مدد تو میرے ہی ہاتھ کئی بار بھجوائی تھی۔مجھ سے کہا تھا کہ یہ دونوں بہت خود دار ہیں اور بڑی عسرت میں زندگی گزار رہی ہیں۔آپ جب انہیں یہ مدد پہنچائیں تو ان سے میرا ذکر نہ کیجئے گا۔