آبادی کنٹرول اور یونیفارم سول کوڈ : کیا صرف مسلمان متاثر ہوں گے ؟ ـ مسعود جاوید

 

١- تین طلاق قانون کو موجودہ حکومت اپنی ایک بڑی حصول یابی بتا رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عام لوگوں بالخصوص غیر مسلموں کو اس سے کیا فائدہ ہوا سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو کوئی زک پہنچاۓ تو مخصوص ذہنیت کے لوگوں کو خوشی ہوتی ہے۔

آبادی کنٹرول کے لئے ایکٹ بنانے کے لئے بعض ریاستوں نے کوشش شروع کی ہے۔ دو سے زائد بچوں والے حکومت کی طرف سے دی جانے والی بہت سی مراعات سے محروم کۓ جائیں گے۔۔۔۔۔ مخصوص ذہنیت والے اس سے بھی بہت خوش ہیں اس لئے کہ بادی النظر میں ہی نہیں بعض لوگوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ اس قانون سے مسلمان متاثر ہوں گے جبکہ دو سے زائد بچے والے ٨٠ فیصد غیر مسلم ہیں۔

یونیفارم سول کوڈ ۔ بڑی مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی۔ ہندوستان جیسے کثیر ثقافتی و مذہبی ملک میں یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ شادی بیاہ وغیرہ کے تعلق سے رسم و رواج اس قدر مختلف ہیں کہ ایک علاقہ میں جو ریتی رواج محبوب ہے تو دوسرے علاقوں میں وہی رسومات معیوب ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی ہند میں بھانجی سے شادی محبوب ہی نہیں اسے ترجیح دی جاتی ہے تو ملک کے دیگر علاقوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں اتراکھنڈ اور ہماچل میں "بہو پتی پرتھا” ایک عورت گھر کے سارے بھائیوں کی بیوی ہوتی ہے ملک کے دیگر علاقوں میں جس کا تصور بھی گھناؤنا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ وغیرہ میں گوتر کا ایسا نظام ہے کہ ایک گاؤں میں رہنے والے سبھی لڑکے وہاں کی لڑکیوں کے بھائی سمجھے جاتے ہیں اس لئے ان کی شادیاں لازمی طور پر دوسرے گوتر گاؤں سے باہر کرنی ہوتی ہے۔ اس قدر تضاد والے ملک میں یکساں شہری قانون / یونیفارم سول کوڈ کی تشکیل اور نفاذ آسان نہیں ہوگا۔
اس لئے ایک طرف مذکورہ بالا قوانین/ ایکٹ یا بل کا ہدف صرف مسلمان ہیں سمجھتے ہوئے غیض وغضب کا مظاہرہ کرنے سے ہمیں احتراز کرنا چاہیے اور دوسری طرف اسلام کے سماجی و انسانی پہلوؤں کی تشہیر کرنی چاہیے۔

مسلمانوں کی طرف سے برتی گئی غفلت کا نتیجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے سماجی اور انسانی پہلوؤں کے خلاف برادران وطن کو بآسانی گمراہ کیا جاتا رہا ہے کہ اسلامی تعلیمات اور رسم و رواج عورت مخالف سوچ پر مبنی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم برادران وطن کو صحیح اسلامی رسم و رواج سے روشناس کرائیں۔

١- شادی کے لئے لڑکی کی رضامندی :
بیٹی ماں باپ یا کسی گارجین کی لونڈی نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جس سے چاہیں اسے بیاہ دیں اور یہ کہہ کر رخصت کریں کہ آج اس گھر سے ڈولی اٹھی ہے اب اچھا برا نیک خصلت بدخصلت ظالم جابر سسرال سے ڈولا اٹھے گا۔
ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم برادران وطن کو بتاتے کہ اسلام میں بالغ لڑکی کی شادی کے لئے اس کی رضامندی شرط ہے۔

٢- مہر
نکاح کے لئے مہر کی ادائیگی کی شرط اسلام میں عورتوں کا مقام و مرتبہ کا مظہر ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم برادران وطن کو اس سے واقف کراتے ہم نے خود ایک غیر اسلامی رسم جہیز کو اپنا لیا۔

٣- وراثت میں بیٹیوں کے حقوق
عورتوں کے حقوق کے تناظر میں یہ اسلام کا دوسرا روشن پہلو ہے کہ اس نے وراثت میں بیٹوں کی طرح بیٹیوں کے حقوق بھی مقرر کیا ہے۔ باپ کی چھوڑی ہوئی جائداد (ترکہ) میں بھی اس کا حق مقرر کیا ہے اور شوہر کی جائداد میں بھی۔

٤- خلع ؛ بیوی کو طلاق لینے کا حق
غیر مسلم تو غیر مسلم مسلمانوں میں بھی عام تصور یہی ہے کہ عورت مجبور محض ہے۔ ایک بار نکاح میں شوہر کو قبول کر لیا اب وہ ظلم و زیادتی کرے ،وظیفہ زوجیت کی ادائیگی میں ناکارہ ہو، شرابی ہو عادی مجرم ہو نشہ کرنے والا ہو ، بیوی ہر حال میں اس کے ساتھ رہنے کے لئے مجبور ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اسلام نے ایسی صورتحال میں بیوی کو حق دیا ہے کہ وہ شوہر کو طلاق دے (خلع لے )
٥- طلاق
ناچاقی جب حد سے گزر جاۓ اور وہ تمام آپشن جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ : ١- پہلے بستر علحدہ کرو۔بات نہیں بنی ایک دوسرے کے دل میں کسک پیدا نہیں ہوئی اور غلطی کا احساس نہیں ہوا صلح کے لئے رغبت پیدا نہیں ہوئی تو دوسرا آپشن
٢-, دونوں اپنے اپنے بڑوں( گارجین )کو بلائیں تاکہ وہ جانبین کی بات سن کر مصالحت کرائیں۔
٣- پھر بھی بات نہیں بنی تو تیسرا آپشن ایک طلاق رجعی۔
متعدد غیر مسلم خواتین و حضرات عورتوں سے متعلق مذکورہ بالا مراعات و حقوق جاننے کے بعد اسلام پر اعتراض کرنے کی بجائے ستائش کرتے ہوئے سنے گئے ہیں۔