ساٹھ سال تک غافل رہنے کانتیجہ

 


محمد مکرم حسین ندوی
رابطہ نمبر:9801266615

60سال تک ملک میں اسلام ا ور مسلمانوں کے خلاف دوسری طاقتیں تیاریاں کرتی رہیں۔ تلوار،ترشول اور گو لیاں چلانے کی مشق کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ عورتوں اور لڑکیوں کو بھی کھلے عام مشق کراتی رہیں اور انہی لوگوں نے حکومت سے مل کر شوروغل کرکے ہماری ایسی تمام تنظیموں،تحریکوں پر پابندی لگادی اور تحریک کے علمبرداروں کو بہانے بہانے سے گرفتار کروادیا۔ جبکہ یہ تحریکیں مسلمانوں کی مذہبی تحریکیں تھی،جو اسلام کی سچائی،اس کی اچھائی کولوگوں تک پہنچارہی تھیں۔ جبکہ ان کی تنظیمیں مسلمانوں کو لڑانے،ان کی طاقت کوکچلنے، مسجد مندر کونقصان پہنچانے، جہاں مسلمان خوشحال تھے، وہاں فساد کرانے،ان کا مال لوٹنے، ان کی دکانوں، کارخانوں کو آگ کے حوالے کرکے برباد کررہی تھیں۔ مگر ہم اورہمارے علماو لیڈران اندھے اور بہرے بنے رہے۔لیڈران اپنی سیاست چمکانے میں،علما اپنے حلقہئ ارادت میں اور بجائے اسلام کے مسلکی تبلیغ میں کھوئے رہے۔ اسی کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے کہ صرف مسلمانوں سے عناد او رعداوت کی بنیاد پر مسلم مخالف طاقتیں سرچڑھ کر بول رہی ہیں اورملک کے نظام وقانون کو بھی بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیں اپنے وطن عزیز سے نکالنے کے پلان بنانے پر آمادہ ہوگئیں ہیں۔ساتھ ہی بڑے بڑے تعلیمی اداروں کو برباد اور بدنام کرکے صرف مسلمانوں اور ان کی آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ اب تو انہیں ہتھیار اور فوجی وردی بھی دے دی گئی ہے؛ تاکہ یہ قانون کی رعایت کئے بغیر یک طرفہ گولی چلا سکیں۔ کاش اب بھی ہم جاگ جائیں،ایک طاقت بن کر سامنے آئیں۔ہمارا ملک اور اس کی معیشت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے، اس کوسنبھالنے کے لئے سب مل کر سوچیں۔ ملک دشمن، انسان دشمن طاقتوں کو سبق سکھانے کے لئے قربانیاں پیش کریں؛ تاکہ ہمارا ملک بربادی وبدنامی سے بچ سکے اور اس میں بسنے والے ہر شہری کو برابر کا حق اورانصاف ملے اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹنے سے بچایا جاسکے۔ مگر اب ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ان کے پاس طاقت بھی ہے عہدہ بھی ہے، ہتھیار بھی،فوج اور پولس کی وردی پہن کر ہم پر اورہمارے ان معصوم جوانوں پر گولیاں چلا رہے ہیں، جوسنجیدگی سے اپنے تابناک مستقبل کے لئے اچھے کالجوں اور مشہور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ملک کے یہ ہونہار جوان ملک کا سرمایہ ہیں، ملک کا مستقبل ہیں، ان کے ماں باپ نے کتنی قربانیاں دے کر ان کو دوردراز نامورکالجوں اور یونیورسٹیوں میں بڑی امیدوں کے ساتھ بھیجا ہے،جن پر یہ گولیاں چلارہے ہیں۔ لاٹھی ڈنڈے سے مار کر ان کے ہاتھ پیر توڑ رہے ہیں، آخر اس کا کیا حل ہے؟ یہ اس وقت کی بڑاسوال ہے۔ ہماری تو سب سے بڑی طاقت اللہ پراعتماد وتوکل ہے، اسی پر ہم ایمان رکھتے ہیں اوراسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔اُس نے اپنی قدرت وطاقت سے بڑے بڑے بادشاہوں کو، ترقی یافتہ ممالک کو منٹوں اور سکنڈوں میں نیست ونابود کردیا۔ ہم اللہ سے لو لگائیں،اس کے سامنے جھکیں،اپنے گناہوں کی معافی مانگیں،اس سے توبہ کریں، تو یقینا اس کی ر حمت جوش میں آئے گی اور وہ فرشتوں کی فوج بھیج کر غیبی طاقتوں سے ہماری مدد کرے گااوردنیا کی تمام طاقتوں کو ناکام کردے گا۔ان کے سارے حربے، ان کی ساری تدبیریں،ان کے سارے ہتھیار ناکام اور فیل ہوجائیں گے،اسلامی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ:
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی ہیں
ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں
مگر صرف چپ بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا۔ جمہوری ملک میں جمہوری طریقوں سے اپنا حق مانگنا ہوگا۔نہ ملے تو چھیننا ہوگااور یہ سب کچھ ایمان وعمل کی طاقت کے ساتھ ہی اثرانداز ہوگا۔ عمل سے خالی اسباب پریقین، اسباب نہ اپنا کر صرف اللہ اللہ دونوں درست نہیں۔ اب مختلف افکاروخیالات کے لوگوں کو ملک کی بقا اور قوم وملّت کے تحفظ کے لئے ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،جس میں ہمارے ہم خیال برادرانِ وطن بھی شامل ہیں،ایک طاقت ور آواز بن کر اپنے حق کی لڑائی لڑنی ہوگی اور انشاء ا للہ فتح ہماری ہوگی:
جاگ جائیں گے اگر ہم آئے گا پھر انقلاب
حکمراں ہوں گے مسلماں آیت یہ نازل کیوں ہوئی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*