٦دسمبر ١٩٩٢ء کی ایک یاد ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

جس روز بابری مسجد شہید کی گئی تھی میں اپنے گھر میں تھا ۔ ٦دسمبر ١٩٩٢ء کے اس دن آج ہی کی طرح اتوار تھا، میری چھٹی کا دن ۔ شام دیر گیے بابری مسجد کی شہادت کی خبر آگئی تھی مگر کم لوگوں تک پہنچی تھی، اس روز میرے اپنے سیوڑی کے علاقے میں نہ کوئی کشیدگی تھی اور نہ ہی علاقے میں کہیں کسی طرح کا تشدد ہوا تھا ۔ چونکہ اس زمانے میں ٹی وی پر بریکنگ نیوز کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور خبروں کی ترسیل نے بھی رفتار نہیں پکڑی تھی، اور سوشل میڈیا عنقا تھا اس لیے جلد پتہ نہیں چل پاتا تھا کہ دنیا، ملک اور شہر میں کیا ہو رہا ہے، خبر آتے آتے دیر ہو جاتی تھی ۔ میں ٧دسمبر کو، شہر کے حالات سے تقریباً بے خبر، اپنے دفتر واقع جے جے اسپتال چوراہا، جانے کے لیے نکلا ۔ ان دنوں میں ا اخبارِ عالم ہفت روزہ میں کام کرتا تھا ۔ سیوڑی ریلوے اسٹیشن پر بڑی دیر تک کھڑا لوکل ٹرین کا انتظار کرتا رہا مگر لوکل ٹرین نہیں آئی ۔ کسی نے بتایا کہ ٹرین کسی گڑبڑی کے سبب نہیں چل رہی ہیں ۔ میں یہ سمجھ کر کہ شاید تکنیکی گڑبڑی ہوگی بیسٹ کی بس پکڑنے کے لیے بس اڈے کی طرف بڑھ گیا مگر بسیں بھی سڑکوں سے ندارد تھیں ۔ سڑکوں پر ایک عجیب سا سنّاٹا پھیلا تھا، جس سے اداسی جھلک رہی تھی ۔ اچانک جی میں آیا کہ ٹرین اور بسیں نہیں چلتیں تو نہ چلیں، پیدل ہی دفتر چلتے ہیں ۔ اور پیدل چل پڑا ۔ سیوڑی سے جے جے چوراہا کا فاصلہ کوئی چھ کلو میٹر ہے، لیکن ان دنوں میں خوب پیدل چل لیا کرتا تھا ۔ سیوڑی ناکہ سے گزرتا ہوا میں پریل اور وہاں سے لال باغ ہوتا ہوا رانی باغ تک پہنچا، وہیں ایک اخبار فروش سے کوئی اخبار خریدا تو پتہ چلا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں جگہ جگہ تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، ممبئی کے مسلم علاقے بھی تشدد سے نہیں بچ سکے ہیں ۔ خبر پڑھ کر میں کچھ سہم سا گیا، اللہ رب العزت کا شکر بھی ادا کیا، جن راستوں سے گزر کر میں آیا تھا وہ سب شیوسینکوں کے علاقے تھے ۔ راستے میں، میں نے چند لوگوں کو اپنی طرف گھورتے ہوئے محسوس کیا تھا، پریل میں میںن روڈ پر تکیہ مسجد، لال باغ کی مسجد خیرالدین کے اطراف میں نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی تھی جو عموماً نظر نہیں آتی لیکن نہ جانے کیوں میں یہ تصور نہیں کرسکا تھا کہ ممبئی میں فسادات شروع ہو گیے ہیں! شاید اسی لیے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہوا رانی باغ اور آگے جے جے چوراہے تک چلا آیا تھا ۔ بائیکلہ برج سے آگے چوراہے تک، اور اس کے آگے بھنڈی بازار تک ایک جنگ کامنظر تھا ۔ اینٹ پتھر اور نہ جانے سڑک کے دونوں طرف پھیلا ہوا تھا ۔ بابری مسجد کی شہادت کی خبر پھیلی تو نوجوان سڑکوں پر اتر پڑے اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے ساتھ دوکانوں میں بھی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی، یہ شدید غصے کے سبب ہوا تھا ۔ کوئی قائد انہیں قابو کرنے والا نہیں تھا ۔ پولیس نے سیدھے سینوں پر گولیاں چلائی تھیں ۔ جے جے اسپتال کے ایمرجنسی ہال میں، میں نے ان کے خون سے سرخ سینے دیکھے تھے، مگر رو نہیں سکا تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے آنسو خشک ہو گیے ہوں ۔ اللہ ان شہداء کی مغفرت فرمائے آمین ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*