56؍انچ کا سینہ،کسان اور ممتابنرجی ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
کسانوں اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی ہمت کے نتیجے میں ملک کے پہلے 56؍ انچ سینے کے مالک ، وزیراعظم نریندر مودی کے زوال کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں ۔ حالانکہ ان کا آر ایس ایس نواز گروپ اس خوش فہمی میں ہے کہ آئندہ مزید پندرہ بیس برسوں تک انہیں اس ملک پر حکومت کرنا ہے ۔ اور وہ ’رام راجیہ‘ کی بنیادیں مضبوط کرکے ہی دم لیں گے ۔ تاہم گذشتہ کچھ دنوں سے جوخبریں سامنے آرہی ہیں ان سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھگوا نوازوں کے آخری دن سرپرآپہنچے ہیں اور انہوں نے ملک کے طول وعرض میں جو منصوبہ بندی کررکھی تھی اب اس کی جڑ اکھڑنے لگی ہے۔ بلاشبہ گذشتہ چند برسوں میں بی جے پی سرکار نے یوگا سے لے کر رام مندر تک کے نام پر عوامی سطح پر ’ہندوتوا‘ کی جڑیں مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ، اور اس مقصد کے لیے وہ طرح طرح کی سازشیں کرتی رہی ہے ۔اپنے سیاسی مخالفین کو اس نے چاروں شانے چت کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ انتہا تو یہ ہے کہ کانگریس جیسی مضبوط سیاسی پارٹی کے دم خم بھی زمین پر بکھرے دکھائی دینے لگے تھے اور اس کا زوال سامنے نظر آرہا تھا۔ بی جے پی مخالف تمام سیاسی پارٹیاں ، کانگریس ،سماج وادی پارٹی اور بایاں محاذ تک ،کھلے عام اقلیتوں پر کئے جارہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ کھوچکی تھیں۔ تمام تر برائیوں اور جبر کودیکھنے کے باوجود کسی بھی سیاسی پارٹی نے کھلے عام احتجاج کرنے اور سڑکوں پر اتر کرشہریوں کے حقوق منوانے کے لیے ہمت نہیں دکھائی تھی۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ آر ایس ایس نواز برسراقتدار پارٹی نے تمام ہی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اور آج بھی ہاتھ رکھے ہوئے ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی اقتدار میں آئے اور وہ مالی اعتبارسے اپنی پوزیشن مضبوط نہ بنائے یہ ممکن نہیں ہے ، اسی لئے تمام بڑے لیڈر دولت کے انبار جمع کرنے میں لگے رہے اور اس کمزوری کا برسراقتدار سیاسی پارٹی نے خوب فائدہ اٹھایا ۔ اسی وجہ سے کوئی بڑا سیاسی لیڈر کھل کر پوری طاقت کے ساتھ برسراقتدار ٹولے کی مخالفت نہیں کرسکا ۔ احتجاج برائے نام تھے ، کیونکہ سیاست دانوں کو اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے کھل کر حکومت کی مخالفت کی تو ان کی کمزوریاں منظر عام پر آئیں گی اور وہ جیل کی ہوا کھائیں گے ۔
مبارک باد کی مستحق ہیں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی ، اور اس ملک کے کسان جنہوں نے مودی سے مقابلے کی ہمت دکھائی۔ کسان کڑاکے کی سردی اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ہتھیار ڈالنے پر راضی نہیں ، وہ آج بھی سیاہ زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ انہیں اس احتجاج سے ہٹانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں مگر وہ حوصلے سے ڈٹے رہے، اور حکومت سے لوہا منوارہے ہیں۔ اس پس منظر نے کچھ سیاسی پارٹیوں میں نئی جان ڈال دی ہے ۔ کانگریس بھی اب ہمت دکھانے لگی ہے ۔ اس دوران کچھ ریاستوں کے انتخابات کا اعلان ہوا ہے ۔ ۵۴؍ انچ کا سینہ لیے مودی نعرے بلند کرتے ہوئے ہر ریاست میں پہنچ رہے ہیں لیکن آثار یہی دکھائی دے رہے ہیں کہ اس بار کسانوں کے احتجاج سے انہیں زبردست نقصان پہنچے گا ۔ مودی کی انتخابی مہم کو ناکام بنانے میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کے حوصلے اور ہمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پورے ملک کے آر ایس ایس نواز مغربی بنگال میں جھونک دیئے گئے ہیں تاکہ یہ ریاست بی جے پی کے قبضے میں آجائے ، مگر بھلا ہو ممتابنرجی کی جرأت کا ، جو تمام تر بدعنوانیوں کے الزامات اور خاندان کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے جیسے جرم سے بڑی دور ہیں، ہمت سے مغربی بنگال میں بی جے پی کو چاروں شانے چت کرنے میں جٹی ہوئی ہیں ۔ انہیں مخالفین کا کوئی ڈر نہیں ہے ۔ شاید اسی لیے ان کی انتخابی مہم کو آخری مرحلے میں ناکام بنانے کی سازشیں تیز ہوگئی ہیں ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کرنے کے لئے نندی گرام پہنچی تھیں جہاں منصوبہ بند سازش کے تحت کوشش کی گئی کہ وہ اپنی انتخابی مہم کو آگے نہ بڑھا پائیں۔ ان پر حملے اور ان کے زخمی ہونے کی خبر عام ہوچکی ہے ۔ کوئی ٹی ایم سی نواز اپنے نیتا پر حملہ کرنے یا اُسےنقصان پہنچانے کی جرأت کرے گا یہ ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ ہاں سیاسی مخالفین یہ کوشش ضرور کریں گے کہ اگر مغربی بنگال میں ممتابنرجی کو زخمی کرکے کنارے لگادیاجائے تو انتخابی مہم کی وہ تیزی، جس کی وہ قیادت کررہی ہیں ، ختم ہوجائے گی اور انہیں کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملے گا ۔ بالخصوص بی جے پی کو ۔۔۔یہ تو ابھی نہیں کہا جاسکتا کہ اب ممتاکو کتنے دن انتخابی مہم سے دور رہ کر اسپتال میں گزارنے ہوں گے اور وہ کھل کر پھرکب انتخابی اکھاڑہ میں اترسکیں گی ،مگر اتنا ضرور ہے کہ ان پر حملے کی خبر نے بی جے پی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ ہاں مگر سازشوں کا درکھلا ہوا ہے ۔ کاش بی جے پی کی سازشوں سے ہمارے ملک کے عوام کوئی سبق لیں ۔