مسئلہ عمر گوتم کا نہیں، ہماری بے حسی کا ہے- ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

عمر گوتم اور ان کے ساتھی مفتی جہانگیر کی گرفتاری کو کئی دن گذر چکے ہیں۔ ایک معمولی مسئلے میں، جس میں ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، ان کو گرفتار کر کے ان پر الزام پر الزام لگایا جا رہا ہے: ایک ہزار پھر تین ہزار لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا الزام ہے۔ گونگے بہرے لڑکوں کو دھوکے سے مسلمان بنانے کا الزام ہے۔ بدنام زمانہ آئی ایس آئی سے اس کام کے لئے پیسے لینے کا الزام ہے۔ گودی میڈیا دن رات چنگھاڑ رہا ہے۔ سنگھ کے پیشہ ور نفرت پھیلانے کے ٹھیکیدار صبح شام زہریلے بیانات دے رہے ہیں۔ عمر گوتم اور ان کے ساتھی مفتی کی کوئی بھی بات سامنے نہیں آ رہی ہے۔صرف پولیس کے بیان آرہے ہیں یا سنگھی بول رہے ہیں۔ زبردستی لوگوں کا مذہب بدلوانے ، مسئلے کو دہشت گردی سے جوڑنے اور اب ان پر این ایس اے قانون لگانے کی بات ہو رہی ہے جو کہ صرف ان لوگوں پر لگتا ہے یا لگنا چاہیے جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔

اس سب کے درمیان سب سے عجیب بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے بالکل خاموشی ہے! جو لوگ ملت کے چودھری بنے ہوئے ہیں، بڑی بڑی تنظیمیں چلا رہے ہیں، روز اپنے کارناموں کی پریس ریلیز نکالتے ہیں اور اردو اخبارات میں محنت کرکے چھپواتے ہیں ، ملت کے لیے کام کرنے کے نام پر بڑے بڑے چندے جمع کرتے ہیں؛ وہ سب لوگ خاموش ہیں جیسے اس مسئلے کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ آگ یا ایجنسیوں کی دستک ان تک نہیں پہنچے گی۔

عمر گوتم کا مسئلہ ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تو دستور ہند کی دفعہ ۲۵ کے مطابق اپنا کام کر رہے تھے۔ اگر انھوں نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی صاف ستھرے طور سے چانچ ہونی چاہیے؛ لیکن میڈیا ٹرائل اور اتر پردیش حکومت کی ان کو پھانسنے کے لیے بے چینی بتاتی ہے کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ در اصل اترپردیش کے الیکشن سے پہلے ماحول کو خوب گرم کرنا ہے، ہندو مسلم کر کے پولرائزیشن کرانا ہے، فسادات کرانے ہیں اور اس کے لیے اس طرح کی کارروائیاں ضروری ہیں۔

اس ظالمانہ سیلاب کو روکنے کے لیے ہمیں متحد ہوکر آواز بلند کرنی ہوگی ، متحد ہوکر سیاسی اور عدالتی چارہ جوئی کرنی ہوگی۔ ورنہ سب ایک ایک کر کے پھنسائے جائیں گے اور اس وقت بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اب بھی وقت ہے کہ ملی تنظیمیں اور قائدین مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایک پلیٹ فارم پرآکر اس طوفان بد تمیزی کا مقابلہ سیاسی اور عدالتی سطح پر کریں، ورنہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے، جب اس کی بھی اجازت سنگھی بادشاہت میں نہیں ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*