Home تجزیہ چار سو پار کا دعویٰ: کتنی حقیقت، کتنا فسانہ؟-صفدر امام قادری

چار سو پار کا دعویٰ: کتنی حقیقت، کتنا فسانہ؟-صفدر امام قادری

by قندیل

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ

بھارتیہ جنتا پارٹی نے تقریباً ایک سال پہلے سے ہی اِس الیکشن کے لیے اپنا پہلا نعرہ کچھ اِس انداز سے بنایا جس میں اُس کی جارحیت، مخالفین کو ملیا میٹ کر دینے کی ادا اور ماحول سازی کے سارے کرتب موجود تھے: ’’اب کی چار سو کے پار پھر ایک بار مودی سرکار‘‘ جیسے نعرے اِس کے پیچھے گونجتے رہے۔ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۹ء کے دَوران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اُس کی حلیف جماعتوں نے جس رفتار سے اپنی سیٹیوں کی تعداد بڑھائی، اُس سلسلے کو پیشِ نظر رکھیے تو چار سو کا نشانہ کچھ حد تک قابلِ قبول لگتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا سیاسی مزاج شدّت پسندی کے دائرے میں ہی پَلا بڑھا ہے، اِس لیے اُسے ایسے نعرے شروع میں ہی گڑھ لینا تھا اور اُس نے اِسے پورے ملک میں اُچھال دیا۔بحث بھارتیہ جنتا پارٹی کی توقعات اور کامیابی کے اِرد گرد گھومنے لگی جو خالی پن تھا یا بڑھا چڑھا کر جسے بولا جا رہا تھا، اُس میں نریندرمودی سرکار کے اعلانات اور نپے تلے جملے بھرے جا رہے تھے۔ انتخابات سے پہلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اِس ہدف کو عام کر دیا کہ وہ اور اُس کی حلیف جماعتیں چار سو سیٹیوں سے زیادہ حاصل کرکے کانگریس اور انڈیا اتحاد کو دھول چٹا دیں گے۔

اِس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ نریندر مودی انتخابی تقاریر اور اشتہار سازی کے شہ سوار ہیں۔گجرات کی وزارتِ اعلیٰ اور آر ایس ایس کی خدمات کے صلے میں اُنھوں نے اپنی شعلہ بیانی پائی تھی۔ ۲۰۱۴ء کے انتخاب میں دس سال کی کانگریس سرکار کو اِسی فنِ تقریر سے اُنھوں نے زمین میں گاڑ دیا تھا۔اُس وقت آج کے مقابلے کم سہولیات تھیں، ٹیم بھی محدود تھی مگر زبان کی جادو گری اور بیان کی اثر انگیزی سے اُنھوں نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک کا سفر بڑی آسانی سے کر لیا تھا۔اُنھیں اِس شعلہ بیانی میں یہ ہنر بھی آتا ہے کہ ہر کام، اُس کا ہر نتیجہ اور اُس کے فیضان کو اپنی طرف موڑ دیں۔ اُنھوں نے اِس کام میں پچھلے دس برسوں میں ایسی مہارت دکھائی ہے کہ وہ جو کچھ بولیں ، معلوم ہوتا ہے کہ وہی سچ ہے۔ اِس معاملے میں اُنھوں نے سیکڑوں اور ہزاروں تاریخی حقائق کو پسِ پردہ رکھ کر جو جی میں آیا اور اُنھیں اپنی پارٹی اور اُن کی حکومت کے فائدے کا ہوا، اُسے اُنھو ں نے اپنی گفتگو کا موضوع بنایا، چہ جائے کہ وہ حقیقت سے کوسوں دُور ہو۔ لوگوں نے اِسے نریندر مودی کی دریدہ دہنی بھی کہامگر سچّائی یہ ہے کہ وہ اِسی طرح عوامی مقبولیت میں اِضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

چار سو کے پار کا جو زبانی خاکہ اُنھوں نے تیّار کیا،پوچھنے والے یہ سوال بار بار اُٹھاتے رہے کہ وہ سیٹیں کہاں سے آ رہی ہیں، کن صوبوں سے اور کن اضلاع سے اور آخر کار کتنی تعداد سے نشستیں نریندر مودی کی جھولی میں گر رہی ہیں؟ اگر تمل ناڈو سے لے کر کشمیر تک ہر صوبے کے حلقوں پر نظر ڈالی جائے تو نریندر مودی کے اِس اعلان کی حقیقت سمجھ میں آنے لگے گی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اُتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال جیسے صوبوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اُن کی حلیف جماعتوں کو مجموعی طور پر ایک بھی سیٹ کا فائدہ ہو سکتا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کا بڑا سے بڑا مجاہد اور حامی بھی یہ جانتا ہے کہ اِن تینوں صوبوں میں ۲۰۱۹ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو حیرت انگیز کامیابی میسّر آئی تھی۔ ایسی کامیابی جسے دوہرانے کے لیے بھی بڑی طاقت چاہیے اور حالات کو مزید سازگار ہونا چاہیے۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ بہار میں آدھی سے زیادہ سیٹیں اُن کے ہاتھ سے نکل جائیں گی، اُتر پردیش میں بھی پندرہ سے بیس سیٹیں لازمی طور پر گھٹیں گی اور بنگال میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں شاید ہی ایک درجن تک پہنچ سکیں۔صرف اِس تین صوبوں میں گذشتہ کامیابی سے کم از کم پچاس سیٹیوں کا نقصان اُنھیں ہو رہا ہے۔ اِس پچاس سیٹیوں کے نقصان کے بعد علم الحساب کی سادہ معلومات رکھنے والا بھی اعداد و شمار پیشِ نظر رکھ کر اتنا تو بتا ہی سکتا ہے کہ یہ چار سو پار کے بجائے تین سو کے آس پاس کا ہی منظر نامہ معلوم ہوتا ہے۔ اِسی طرح کرناٹک، مہاراشٹر، پنجاب، مدھیہ پردیش ، گجرات اور راجستھان جیسے صوبوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ سیٹیں بھلا کس طرح سے بڑھ پائیں گی، یہ قابلِ غور ہے۔ایک ایک سیٹ پر بحث کر لیجیے، انتخابی ماہرین سے مشقّت کرا لیجیے، آپ کو یقین آ جائے گا کہ اِس صوبوں سے بھی دس بیس سیٹیں گھٹ سکتی ہیں، بڑھنے کے امکانات نہیں۔ کیا اب کی بار کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ دہلی کی ساتوں سیٹیں سالِ ہائے گذشتہ کی طرح پھر سے بھارتیہ جنتا پارٹی جیت سکے گی؟ سیاسی مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ بھی نا ممکن ہے۔ یہ سب اِس بات کے اشارے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جس طرح سے ماحول سازی کر کے انتخاب میں زور پیدا کر رہی ہے، وہ حقیقت سے کوسوں دُور ہے۔

پہلے مرحلے کے انتخاب میں گذشتہ انتخاب کے مقابلے دس فی صد کی تخفیف ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں بھی یہ رویۂ معکوس قائم رہا۔ تیسرے مرحلے کا انتخاب ہمارے سامنے ہے۔ عوامی حوصلہ بڑھ نہیں رہا ہے اور جوش و خروش کا ماحول پیدا نہیں ہوا ہے۔ اِن تین مرحلوں میں چالیس فی صد سے زیادہ سیٹیوں کے معاملات مکمّل ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بہت دیر سے ووٹوں کا فی صد جس انداز سے بتایا، اُس سے شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ای وی ایم کے کھیل تماشے بھی اِس انتخاب میں پھر سے رَوا رکھے جائیں گے۔ ورنہ ایک ہفتے کے بعد ووٹوں کے تناسب میں آخر اِضافہ کیسے ہو گیا۔ ساتویں مرحلے تک جاتے جاتے کہیں یہ کھیل مزید پختہ نہ ہو جائے۔ ووٹنگ مشینوں سے نریندر مودی کی مواقفت میں جن نکلنے لگیں اور انتظامیہ کی مدد سے اُن کی سرکاربنانے کی مہم منزلِ مقصود تک نہ پہنچ جائے۔ ایک بڑے حلقے میں ایسے سوالات گھومنے لگے ہیں اور اِس بات کا اندیشہ پیشِ نظر ہے کہ الیکشن کمیشن ہی اِس بار نریندر مودی کے چار سو پار کے مرحلے تک پہنچا دے۔سوچ سمجھ کر اور ناپ تول کر حلقوں کی شناخت کرکے اگر محدود پیمانے پر ناجائز مشینوں کے گھس پیٹھ کو رَوا رکھا جائے تو یہ کچھ بعید از قیاس بھی نہیں معلوم ہوتا۔ایسی حالت میں عوام کی حقیقی فیصلے اور آنے والے نتائج میں اچھا خاصا فرق ہو سکتا ہے۔

حسبِ عادت اور حسبِ توفیق مختلف حلقوں سے پیشین گوئیوں کا کھیل چل رہا ہے۔ ایک جون سے ایکزٹ پول کے دھماکے شروع ہوں کے توقع ہے کہ ’اِنڈیا شائنگ‘ کے انداز سے ٹیلی ویزن پر اِس کی تشہیر بھی پوری شدّت سے کی جائے گی۔ کروڑوں اور اربوں خرچ کرکے انتخابھی سروے اِس لیے بھی کرائے جاتے ہیں کہ باقی ماندہ انتخابات پر اُن کے نتائج اثر انداز ہو سکیں۔ ایک ایجنسی نے تو این ڈی اے کو465؍ تک بتا دیا ہے۔350؍ اور اُس سے بڑھ کر تعداد بتانے والے سروے بھی بہت ہیں۔ بعض سروے نریندر مودی کو 272؍ کے آس پاس پہنچا کر اُنھیں سرکار بنانے کا آخر آخر موقع فراہم کرتے ہیں۔ کہنا چاہیے کہ ابھی تک جو ماحول سازی اخبار اور ٹیلی ویزن اور انتخابی ہنگاموں سے قائم ہوا ہے، اُس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی آخر آخر حکومت قائم ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔

سوال یہ ہے کی ووٹوں کا فی صد گھٹنا اور سماج میں سیاسی جماعتوں اور ووٹنگ کے لیے جوش و جذبے کا فقدان اس بات کا کہیں اعلانیہ تو نہیں کہ موجودہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی عوام کی بے رُخی کھُل کر سامنے آ رہی ہے۔ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سخت گرمی اور لُو کے دَور میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان شاید یہ بتا رہا ہے کہ اُنھیں نہ عوام کی آسانیوں سے غرض ہے اور نہ اِس بات کو اُنھیں سوچنا ہے کہ اُنھیں کون ووٹ دے گا یا نہیں دے گا۔ کسی بھی جمہوری ملک کے لیے یہ خطرناک ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں ووٹ دینے سے بے رُخی برت رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں عوام کے بیچ سیاسی جاعتوں اور مرکزی یا صوبائی حکومتوں کی کارکردگی سے شدید قسم کی مایوسی ہے جس سے ایک لا تعلّقی پیدا ہو گئی ہے۔ اِس سے ایک طرف ووٹوں کا تناسب گھٹ رہا ہے اور یہ بھی ہو رہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں جواب دہی کے معاملے میں عوام سے لا تعلّق ہو کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ ہندستانی جمہوریت کے لیے یہ بہت مشکل دَور ہے۔ سیاسی مشاہدین کا یہ اندازہ ہے کہ چار سو سیٹیں تو خیر ناممکن ہیں مگر نریندر مودی کی حکومت بن بھی گئی تو اُن کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرے گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے بچاؤ یا فروغ کے لیے کسی نئے چہرے یا سیاسی نظریے کی ضرورت پڑے گی۔ اِن سب کے لیے ہمیں 4؍ جون کی تاریخ کا انتظار کرنا پڑے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like