2892 کروڑ روپیے کی قرض کی ادائیگی نہ کرنے پر ’یس بینک‘نے انیل امبانی گروپ کے دفتر پر قبضہ کیا

ممبئی:نجی شعبے کے یس بینک نے 2892 کروڑ روپئے کے بقایا قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے انیل امبانی گروپ کے مضافاتی شہر سانتاکروز کے دفتر کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یس بینک کے ذریعہ بدھ کے روز اخبار میں دیئے گئے نوٹس کے مطابق ریلائنس انفراسٹرکچر نے واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے بینک نے جنوبی ممبئی کے دو فلیٹوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔انیل دھرو بھائی امبانی گروپ (اے ڈی اے جی) کی تقریبا تمام کمپنیاں سانتا کروز کا دفترریلائنس سنٹر سے چل رہے ہیں۔ تاہم گذشتہ چند سالوں کے دوران گروپ کی کمپنیوں کی مالی حالت کافی خراب ہوگئی ہے۔ کچھ کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں ہیں، جبکہ کچھ گروپ کو اپنی حصہ داری بیچنی پڑی ہے۔ یس بینک نے بتایا کہ اس نے ریلائنس انفراسٹرکچر کو 6 مئی کو 2892.44 کروڑ روپئے کے بقایاجات کی ادائیگی کے لئے نوٹس دیا تھا۔ 60 دن کے نوٹس کے باوجود گروپ واجبات کی ادائیگی نہیں کرسکا۔ جس کے بعد انہوں نے 22 جولائی کو تینوں جائیدادوں پر قبضہ کرلیا۔ بینک نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پراپرٹیوں سے متعلق کوئی لین دین نہ کریں۔اے ڈی اے جی گروپ گذشتہ سال اسی ہیڈ کوارٹر کو لیز پر دینا چاہتا تھا تاکہ وہ قرض کی ادائیگی کے لئے وسائل مہیا کرسکے۔ یہ دفتر 21432 مربع میٹر میں ہے۔ دو دیگر جائیدادیں جنوبی ممبئی کے ناگن محل میں ہیں۔ یہ دونوں فلیٹ بالترتیب 1717 مربع فٹ اور 4936 مربع فٹ کی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ یس بینک کے ڈوبنے والے قرضوں کی ایک بڑی وجہ ای ڈی اے جی گروپ کمپنیوں کو دیا جانے والا قرض ہے ۔بینک کے لئے ریلیف پیکیج سے قبل حکومت اور ریزرو بینک نے یس بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو مارچ میں تحلیل کردیاتھا اور ساتھ ہی بینک کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو مقرر کیاتھا۔