28 سال قبل صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی تھی،اور بھی بہت کچھ ٹوٹا تھا- رام دت ترپاٹھی

(آج سے ٹھیک 28 برس قبل، یعنی چھ دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیا میں قائم بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ اس روز ہونے والے فسادات میں بابری مسجد کے علاوہ اور بہت سی مساجد اور املاک کو یا تو منہدم کیا گیا یا نذر آتش۔ اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال پڑھیے اس تحریر میں جو پہلی مرتبہ سنہ 2017 میں شائع ہوئی تھی۔ بشکریہ بی بی سی اردو)

طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود چھ دسمبر کی یاد آتے ہی میں خود کو مانس بھون کی چھت پر پاتا ہوں اور بابری مسجد کے انہدام کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔مانس بھون وہی دھرم شالہ ہے جہاں میں اس واقعے سے دس سال قبل سنہ 1982 میں ایک بار ٹھہرا تھا۔ ایک صحافی دوست نے متنازع بابری مسجد دکھائی تھی جس کے باہری حصے میں ایک چبوترے پر کیرتن بھجن ہوتا تھا اور لوگ ’سیتا رسوئی‘ (سیتا کے کچن) اور رام کے ’کھڑاون‘ کے خیالی مقامات کے سامنے سر جھکاتے تھے۔اس رام چبوترے پر طویل عرصے سے رامانندی فرقے کے نرموہی اکھاڑے کا قبضہ تھا۔ نرموہی اکھاڑا سوا سو سال سے زائد عرصے سے وہاں مندر کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا تھا۔
مسجد کے اندر سنہ 1949 میں 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب ضلع مجسٹریٹ کی مدد سے رام کی بچپن کی مورتی رکھی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔ اسی وقت سے عدالت نے مسجد سیل کر کے نگران تعینات کر دیا۔ باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کیا کرتا تھا۔
سنگھ پریوار یعنی ہندوتوا کے نظریات کی حامل جماعتیں طویل عرصے سے ایسے مسئلے کی تلاش میں تھیں جس کے ذریعے ذات پات میں منقسم ہندو برادری کو یکجا کیا جا سکے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مقصد کے تحت سنہ 1984 میں رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک شروع کی گئی تھی۔
اس مہم کی وجہ سے یکم فروری سنہ 1986 میں عدالت نے متنازع احاطے کے تالے کھلوائے۔ جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔دریں اثنا معاملہ ضلع عدالت سے نکل کر لکھنؤ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ سنہ 1989 کے عام انتخابات سے قبل مصالحت کی امید میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسجد سے تقریباً 200 فٹ کے فاصلے پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھوا دیا۔راجیو گاندھی کو انتخابات میں شکست ہوئی جبکہ وی پی سنگھ اور چندرشیکھر کی حکومت میں بھی مصالحت کی تمام تر کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لیے رتھ یاترا نکال کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔سنہ 1991 میں کانگریس ایک بار پھر دہلی میں بر سر اقتدار آئی اور پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے لیکن رام مندر کی تحریک کے طفیل انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں پہلی بار کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بنی۔
کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا کہ وہ مسجد کی حفاظت کریں گے جس کے بعد عدالت نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو علامتی کار سیوا کی اجازت دے دی۔ دوسری جانب وی ایچ پی اور بی جے پی کے رہنماؤں نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر لوگوں سے بابری مسجد کو نیست نابود کرنے کی قسم لی تھی۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کلیان سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ پولیس کار سیوکوں پر فائرنگ نہیں کرے گی۔
اس سے قبل سنہ 1990 میں ملائم سنگھ یادو نے کار سیوکوں پر فائرنگ کروائی تھی اور مسجد کی حفاظت کی تھی۔
کلیان سنگھ حکومت نے متنازع کیمپس کے قریب مجوزہ رام پارک کی تعمیر کے لیے وی ایچ پی کو 42 ایکڑ زمین دے دی تھی۔ اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے نام پر بہت سے مندروں اور دھرم شالاؤں کی زمین حاصل کرکے اسے ہموار کر دیا گیا تھا اور فیض آباد – ایودھیا شاہراہ سے براہ راست متنازع مقام تک چوڑی سڑک تعمیر کر دی گئی تھی۔
ملک بھر سے آنے والے کارسیوکوں کے قیام کے لیے متنازع احاطے سے ملحق شامیانے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ انھیں لگانے کے لیے کدال، بیلچے اور رسیاں بھی لائی گئیں جو بعد میں مسجد کے گنبد پر چڑھنے اور اسے توڑنے کے کام میں آئیں۔ مجموعی طور پر متنازع مقام کے آس پاس کے علاقے پر کار سیوکوں کا ہی قبضہ تھا۔ ان لوگوں نے چار پانچ دن قبل ہی بعض قریبی مزاروں کو نقصان پہنچا کر اور مسلمانوں کے مکانوں کو آگ لگا کر اپنی جارحیت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مبصر ضلعی جج پریم شنکر گپتا کہہ رہے تھے کہ علامتی کار سیوا پر امن طور پر کروانے کے لیے سارے انتظام اچھی طرح سے کیے گئے ہیں۔
ایک دن قبل یعنی پانچ دسمبر کو وی ایچ پی کے رہنما نے باضابطہ یہ اعلان کیا کہ وہاں صرف علامتی کارسیوا (پوجا) ہوگی۔ فیصلے کے مطابق کارسیوک دریائے سرجو سے پانی اور ریت لے کر آئیں گے اور مسجد سے کچھ فاصلے پر سنگ بنیاد کی جگہ اسے نذر کر کے واپس ہو جائیں گے۔
جیسے ہی اس کا اعلان ہوا کار سیوکوں میں غصہ پھیل گیا۔ جب وی ایچ پی کے اعلیٰ رہنما کارسیوک پورم پہنچے تو مشتعل کارسیوکوں نے انھیں گھیر لیا اور بہت بھلا برا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنما کچھ بھی کہیں وہ اصلی کارسیوا یعنی مسجد کو منہدم کرکے ہی جائيں گے۔ شام تک کارسیوکوں نے کئی ٹی وی رپورٹرز اور کیمرہ مین کے ساتھ مار پیٹ کی۔ دوسری طرف بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے ایک عام اجلاس میں کارسیوکوں کی یہ کہتے ہوئے حوصلہ افزائی کی کہ سپریم کورٹ نے اس کی اجازت دی ہے۔
واجپئی شام کی ٹرین سے دہلی چلے گئے جبکہ ایل کے اڈوانی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی رات میں وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سے بات چیت کر کے ایودھیا پہنچ گئے۔ چھ دسمبر کی صبح جہاں ایودھیا میں ’جے شری رام‘ کے نعرے گونج رہے تھے وہیں فیض آباد چھاؤنی کے علاقے میں بڑی تعداد میں مرکزی نیم فوجی دستے اس تیاری میں تھے کہ جیسے ہی بلاوا آئے گا وہ ایودھیا کی جانب کوچ کریں گے۔ فوج اور فضائيہ بھی نگرانی پر تعینات تھی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاستی حکومت نے ان کی تعیناتی پر اعتراض کیا تھا، یعنی ریاستی حکومت کی جانب سے واضح تھا کہ کار سیوکوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ مانس بھون کی چھت پر جہاں ہم صحافی یکجا تھے مسجد اس کے بالکل سامنے تھی۔ دائیں طرف پر جنم بھومی (مقام پیدائش) کے مندر کی چھت پر کمشنر، ڈی آئی جی اور پولیس کے اعلیٰ افسر تھے اور مانس بھون کی بائیں جانب رام کتھا کنج میں ایک اجلاس عام رکھا گیا تھا جہاں اشوک سنگھل، اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور دیگر رہنما جمع تھے۔ مسجد اور مانس بھون کے درمیان سنگ بنیاد کے مقام کو پوجا کا مقام بنایا گیا تھا جہاں مہنت رام چندر پرمہنس اور دیگر سادھو سنیاسی جمع تھے۔ اسی جگہ پر گیارہ بجے سے علامتی پوجا ہونی تھی۔ آر ایس ایس کے اراکین سر پر زعفرانی پٹی باندھے حفاظت کے لیے تعینات تھے۔ ان کے پیچھے پولیس رسّہ لے کر تیار تھی تاکہ مخصوص لوگ ہی وہاں تک جا سکیں۔ تقریباً 10:30 بجے ڈاکٹر جوشی اور اڈوانی یگیہ کی جگہ پہنچے۔ ان کے ساتھ بہت سے کارسیوک وہاں داخل ہونے لگے۔ پولیس نے روکا لیکن انھوں نے بات نہیں مانی۔
اس کے بعد زعفرانی پٹی والے رضاکاروں نے ان پر لاٹھی چلانی شروع کر دی جس پر وہاں سخت ہلچل نظر آئی۔ دیکھتے دیکھتے سینکڑوں کارسیوک مسجد کی جانب دوڑتے نظر آئے۔ مسجد کی حفاظت کے لیے چاروں جانب لوہے کا جال لگایا گيا تھا۔ پیچھے سے ایک گروپ نے درخت پر رسّہ پھینک کر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وی آئی پی کے لیے تعینات پولیس نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن چند ہی منٹوں میں ایک ایک کرکے بہت سے کارسیوک مسجد کے گنبد پر نظر آنے لگے۔
انھیں دیکھ کر یہ نعرے گونجنے لگے: ’ایک دھکا اور دو، بابری مسجد کو توڑ دو۔‘ جلسہ گاہ سے اشوک سنگھل اور دیگر رہنماؤں نے کار سیوکوں سے نيچے اترنے کی اپیل بھی کی لیکن ان کا کوئی اثر نہیں ہوا۔کدال، بیلچہ جس کے ہاتھ جو سامان آیا اسی سے گنبد توڑنے لگا۔ بعض ہاتھوں سے ہی چونے سرخی سے بنی اس عمارت کو توڑنے لگے۔مسجد کی حفاظت پر تعینات مسلح سکیورٹی فورسز کندھے پر رائفلیں لٹکائے باہر نکل آئے۔ سارے افسران لاچار کھڑے تماشائی تھے۔
اسی دوران کارسیوکوں کے ایک گروپ نے آس پاس کے سارے ٹیلی فون تار کاٹ ڈالے۔ ان کا ایک گروپ مانس بھون پر چڑھ آیا اور تصاویر لینے سے منع کرنے لگا۔ میں نے اپنا کیمرہ ایک خاتون صحافی کے بیگ میں چھپا دیا؛ لیکن بہت سے فوٹوگرافروں کے کیمرے چھین کر انھیں مارا پیٹا گیا۔ 12 بجے تک مسجد توڑنے کا کام اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔
اڈوانی کو یہ خدشہ تھا کہ نیم فوجی مرکزی فورس یا فوج فیض آباد سے آ سکتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے لوگوں سے وہاں سے آنے والی سڑک کو جام کرنے کی اپیل کی۔
کہتے ہیں کہ کلیان سنگھ تک جب یہ خبر پہنچی تو انھوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی لیکن اڈوانی نے انھیں یہ پیغام دیا کہ جب تک مسجد گر نہ جائے وہ استعفیٰ نہ دیں، کیونکہ استعفیٰ دیتے ہی ریاست مرکز کے کنٹرول میں چلی جائے گی۔ اسی دوران کچھ پجاری رام اور لکشمن کی مورتیاں نکال لائے۔ دیکھتے دیکھتے پانچ بجے تک مسجد کے تینوں گنبد مسمار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد ہی کلیان سنگھ نے استعفیٰ پیش کیا۔ شام تک ریاست میں صدر راج نافذ ہو چکا تھا لیکن انتظامیہ کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرنا ہے؟ بہرحال کارروائی کے خوف سے کارسیوک چپکے چپکے ایودھیا سے نکلنے لگے۔ بعض لوگ بطور نشانی مسجد کی اینٹ اپنے ساتھ لے چلے۔
اڈوانی، جوشی اور واجپئی جیسے بڑے رہنماؤں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ پولیس نے مسجد منہدم کیے جانے پر ہزاروں نامعلوم کار سیوکوں کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا۔ چند منٹ بعد، بی جے پی اور وی ایچ پی کے آٹھ بڑے رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ وزیراعظم نرسمہا راؤ دن بھر خاموش تھے لیکن شام کو انھوں نے نہ صرف اس واقعے کی مذمت کی بلکہ مسجد کی دوبارہ تعمیر کی بات بھی کی۔مرکزی حکومت کی ہدایت پر خصوصی ٹرینیں اور بسیں چلائی گئیں، جس سے کارسیوک اپنے گھروں کو جا سکیں اور انتظامیہ بغیر طاقت کا استعمال کیے متنازع مقام پر کنٹرول کر سکے۔ دوسری جانب منہدم مسجد کے ملبے پر ایک گروپ نے ایک عارضی مندر کی تعمیر شروع کر دی اور وہاں مورتیاں رکھ دی گئیں۔
سات دسمبر کی رات تک یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ انتظامیہ کب وہاں اپنا کنٹرول قائم کرتی ہے۔ اچانک صبح چار بجے کچھ ہلچل سی نظر آئي۔ جب ایودھ پہنچے تو دیکھا کہ انتظامیہ نے باقی ماندہ چند کارسیوکوں کو بھگا کر عارضی مندر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، اور نیم فوجی دستے کے سپاہی عقیدت اور احترام میں رام (کے بچپن کی مورتی) کی زیارت کر رہے ہیں اور آشیرواد لے رہے ہیں۔ ہم نے بھی کچھ تصاویر لیں اور افسروں سے بات کی۔
اگر آپ چھ دسمبر کے پورے واقعے پر نظر ڈالیں تو آپ پائیں گے کہ اس دن صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی بلکہ اس دن ہندوستان کے آئین کی تینوں شاخ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی ساکھ بھی ٹوٹ گئی۔ طاقت کو تقسیم کرنے کا وفاق کا مفروضہ ٹوٹا، قانون کی حکمرانی کی بنیاد ٹوٹی، جمہوریت کا چوتھا ستون یعنی میڈیا بھی کارسیوکوں کے حملے کا شکار ہوا اور اس کے ساتھ ہی سنگھ پریوار کے نظم و ضبط کا دعویٰ بھی ٹوٹا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*