Home نظم میرا خوں لے لو عدالت کو سجانے کے لیے

میرا خوں لے لو عدالت کو سجانے کے لیے

by قندیل

(28)تازہ ترین سلسلہ

فضیل احمد ناصری

چارہ گر آؤ انہیں ہوش میں لانے کے لیے
اب بھی سوے ہیں جو آے تھے جگانے کے لیے
ہم کو تعمـــیرِ گلستاں میں لگا رہنے دو
تم ہی کافی ہو یہاں، آگ لگانے کے لیے
اس سے بہتر کوئی روغن نہ میسر ہوگا
میرا خوں لے لو عدالت کو سجانے کے لیے
تم تو اپنے ہو، کرو مشقِ ستم فرمائی
کوئی مل جاے گا سولی پہ چڑھانے کے لیے
اب تو فرمانِ حکومت ہے مرے رونے پر
عندلیبوں سے کہو باغ سے جانے کے لیے
اب تو میں ہوں، در و دیوار ہے، تنہائی ہے
اپنا کوئی نہیں، یاں اشک بہانے کے لیے
درد بڑھتا ہے تو دل تھام کے گا لیتے ہیں
یہ بھی اک طرز ہے ظالم کو بھلانے کے لیے
ہم کو شہروں میں نہ لے جاؤ کہ دم گھٹتا ہے
خاکِ صحرا ہی مناسب ہے، دِوانے کے لیے
کہہ دو صاحب سے کہ ہم لوگ ابھی زندہ ہیں
نئی ترکیب کرو ہم کو مٹانے کے لیے
تم تو مسند پہ ہو اے دوست کمی کیا ہے تمہیں
ایک بلوہ ہے بہت، جشن منانے کے لیے
وہی آنسو، وہی آہیں، وہی شکوے لب پر
اور کچھ بھی نہیں روداد، سنانے کے لیے

You may also like

Leave a Comment