Home نظم جفا کرے کوئی تم پر، اسے جفا نہ کہو

جفا کرے کوئی تم پر، اسے جفا نہ کہو

by قندیل

تازہ ترین سلسلہ(22)

فضیل احمد ناصری

جفا کرے کوئی تم پر، اسے جفا نہ کہو
وہ کہہ رہے ہیں، بدی کو بھی تم برا نہ کہو
 
یہاں زبان پہ بندش ہے، عقل پر تالے
نسیمِ صبح کو آندھی کہو، صبا نہ کہو
 
جو لوٹ مار کریں، ان کو متقی سمجھو
جو نیک بن کے رہیں، ان کو پارسا نہ کہو
 
مشینِ کذب و تملق صحافتِ ھندی
یہ ترجمانِ حکومت ہیں، آئینہ نہ کہو
 
بڑھاؤ تم نہ کسی کو مقام سے آگے
خدا خدا ہے، کسی اور کو خدا نہ کہو
 
نہ ہو شبابِ عزیمت، تو موت و حسرت ہے
ہوا سے مات جو کھاے، اسے دیا نہ کہو
 
اگر وہ دین کے دشمن ہیں، یہ بھی دشمن ہیں
غلامِ دَیر سے ملحد کو تم جدا نہ کہو
 
یہ بے مآل صدائیں، مظاہرے، جلسے
یہ خود ہی روگ ہیں پیارے، انہیں دوا نہ کہو
 
یہ سب تماشۂ جمہوریت ہے ابلیسی
کسی فقیر کا تم اس کو نقشِ پا نہ کہو
 
ہمیں چبھے ہے یہ الزام گالیوں کی طرح 
ہماری قوم کو اے دوست! بے وفا نہ کہو

You may also like

Leave a Comment