اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے ذریعے اردو ادب کا فروغ

نئی دہلی:اردو پریس کلب انٹرنیشنل نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون کے ذریعے اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے ذریعے اردو کے فروغ پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر کرنل کمال احمد صدیقی اور سہیل احمد صدیقی نے شرکت کی۔انہوں نے اس پروگرام کی اہمیت کے پیش نظر اسے وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ایسے سیمینار مستقبل میں تواتر سے ہوتے رہنے چاہیے تاکہ اردو جاننے والوں کو جدید دور کے ضروری وسائل اور اردو کے تعلق کا بہتر اندازہ ہوتا رہے۔ اس سیمینار کا مقصد تھا کہ ان پہلوئوں پر روشنی ڈالی جاسکے ، جن کے ذریعے اردو کی ترقی میں بہت حد تک مدد ملی ہے اور جن وسائل نے اردو کے ارتقا میں کافی اہم رول ادا کیا ہے۔ سیمینار میں شرکت کرنے والے طالب علم مختلف یونیورسٹیوں اور ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جن میں جے این  یو سے عمران عاکف، عاصم بدر،عبدالعزیز، فیض رضوی اور عبدالعلام گوہر جیسے طالب علموں نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ وہیں دہلی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بھی طلبا نے اپنے مقالہ جات سے سامعین کو نت نئی معلومات فراہم کیں۔ عاصم بدر نے اپنے مقالے میں یوٹیوب پر موجود اردو ادب کے ذخائر کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور اعداد و شمار کے اعتبار سے الگ الگ چینلز کی درجہ بندی کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح یہ چینلز اردو کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں۔ اسی طرح عمران عاکف نے جو مقالہ پیش کیا ۔ اس میں واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے اردو کے لیے کس طرح کام کیا جارہا ہے، اسے نمایاں کیا گیا۔ عمران عاکف نے اپنے مقالے میں لکھا کہ اردو کی ترقی میں جدید تکنیکوں اور ایپلی کیشنز کا رول سے زیادہ بڑا اور گہرا رہا ہے۔ اور آج مختلف ایپلی کیشنز اپنے یہاں جب زبانوں کو ان بلڈ کرتی ہیں تو اردو کو ہرگز نظر انداز نہیں کرتیں۔ عبدالعزیز کے مقالے میں اردو  کے مختلف بلاگز اور ای اخبارات کا جائزہ لیا گیا ۔ جس کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ کس طرح ان بلاگز اور ای اخبارات نے اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ بلاگز کے مقاصد کیا ہوتے ہیں اور انہیں اردو میں فی زماننا کس طرح لکھا جارہا ہے۔اس سیمینار میں اردو کے معروف شاعر و ادیب نعیم سرمد نے بھی اپنا مقالہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کے حوالے سے پڑھا، ان کے مقالے کا موضوع فیس بک کے ذریعے اردو کی تشہیر تھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے بتایا کہ فیس بک جہاں ایک طرف اردو شاعروں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے ایک پلیٹ فارم دے رہا ہے، وہیں اس جدید زمانے میں فوری کمنٹ کے آپشن نے غور و فکر کے مرحلے کو بھی اثر انداز کیا ہے۔ آخر میں تصنیف حیدر نے اپنے یوٹیوب  چینل ادبی دنیا کے حوالے سے ایک مقالہ پڑھا۔ جس میں انہوں نے ادبی دنیا  کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی  اور حاضرین محفل کو اپنے کام کی رفتار اور اہمیت کے بارے میں سمجھایا۔ سب سے آخر میں اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے جنرل سکریٹری طارق فیضی نے اظہار خیال کیا اور بتایا کہ کس طرح اردو ادب کو فروغ دینے کے لیے ان کی تنظیم متواتر کام کررہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کو جدید دنیا میں ترقی کے لیے جدید وسائل کا جس قدر ہوسکے استعمال کرنا چاہیے اور زمانے کے ساتھ اہل اردو کو قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔