ٓٓاکیسویں صدی کے دہلیز پر اردو فکشن:ادب سلسلہ کی خصوصی پیش کش-غلام نبی کمار

سہ ماہی ’’ادب سلسلہ‘‘ اپنے معیاری شماروں اور خصوصی موضوعات کی وجہ سے ادبی صحافت کی بلندیوں کو چھورہا ہے۔محمد سلیم علیگ کی ادارت اور ڈاکٹر تنویر فریدی کی سرپرستی میں ’’ادب سلسلہ‘‘اب قارئین ِ اردو،اسکالروں اور اساتذہ کی دلچسپی کا بھی خاص مرکز بن رہا ہے۔اس کے گذشتہ شماروں پر نظر ڈالنے کے بعد صاف محسوس ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر کے رسائل و جرائد میں ’’ادب سلسلہ‘‘اپنی پہچان اور ساخت کو بچانے میںیقینا کامیاب ہو ا ہے۔مدیر رسالہ محمد سلیم علیگ اس کے خصوصی شماروں اورموضوعات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔کسی بھی موضوع میں دلچسپی ظاہر کرنے کے بعدوہ ادارتی عملہ سے صلاح مشورہ کے بعد ہی آگے کا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس میں شامل تحریرات قابلِ توجہ ہوتی ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ’’ادب سلسلہ‘‘ ادبی دنیا میںاتنا معیار اوروقارحاصل کرنے کے بعد بھی یوجی سی کیئر لسٹ یعنی یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے منظور شدہ رسائل کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جو دیگر رسائل ادبی دنیامیں اہمیت کے حامل قرار دیے گئے ہیں نیز جو مسلسل شائع ہوکر قارئین کے دلوںمیں اپنی جگہ بنا رہے ہیںان میںسہ ماہی’’عالمی انتساب‘‘،سہ ماہی’’دربھنگہ ٹائمز‘‘،سہ ماہی’’ادبی نشیمن‘‘ ،سہ ماہی’’کوہسار‘‘،سہ ماہی’’تمثیلِ نو‘‘،سہ ماہی’’فکروتحریر‘‘ وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔’’انتساب‘‘ سیفی سرونجی کی ادارت میں پچھلے چالیس برسوں سے بڑے آب و تاب کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔اسی طرح دربھنگہ ٹائمز بھی پوری دنیا میں اپنی مضبوط شناخت قائم کر چکا ہے۔اگرمنتظمین اس نوعیت کے رسائل یو جی سی کے منظور شدہ رسائل کی فہرست میں شامل کرنے سے قاصر ہیں تو صورتِ حال یقینا مایوس کن کہی جا سکتی ہے۔
’’ادب سلسلہ‘‘کی جلد۵،شمارہ ۱۴ پر مشتمل تازہ شمارہ’’اکیسویں صدی کے دہلیز پر اردو فکشن‘‘کونامور فکشن نگار اور شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونی ورسٹی کے استاد پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے احسن طریقے ترتیب دیا ہے۔مشمولات کو’’باب نقد‘‘،’’نیا قلم نئی روشنائی‘‘،’’سلسلہ افسانہ‘‘،’’شعبہ ہائے حیات‘‘،’’انٹرویو‘‘،’’سوالنامہ ؍مذاکرہ‘‘ اور’’’اشتہارات‘‘ کے مختلف زمروں میں رکھا گیا ہے۔ابتدا میں مدیراور مہمان مدیر نے ادریے میں اپنی بات جامع انداز میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔محمد سلیم علیگ نے اداریے میں اس صدی کے چند اہم فکشن نگاروں کے نام اور ان کے کام کو خوبصورت انداز میں سراہا ہے۔انھوں نے فکشن کے عالمی منظرنامے کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’میں سمجھتا ہوں کہ نئی صدی کے معاشرتی مسائل اور فکری تقاضو ں کے تحت جو فکشن لکھا جا رہا ہے اس پر بحث ہونی چاہیے ۔نئی نسل اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے اور پرانی نسل اگر اپنے خول سے باہر آجائے تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم ایک ایسا ادب تشکیل کر سکیں گے جو ایک نئے باب کی پہچان بن سکے گا۔‘‘مہمان مدیر پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے بھی ان دو دہائیوں میں منظرعام پر آئے ہوئے افسانوی ادب کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔اپنے اداریے میں موصوف لکھتے ہیں کہ دیگر اصناف کے مقابلے میں ان بیس برسوں میں فکشن کے تعلق سے جو سرمایہ وجود میںآیا ہے وہ اپنے معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے قابل قدر ہے کیونکہ اس نے فکشن کے قارئین اور مبصرین و ناقدین کو خاصا متوجہ کیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے اکیسویں صدی میں اردو فکشن اورنئی صدی کے فکشن کے امتیازات کے دائرے میں اپنی بات رکھی ہے۔جو ’’ادب سلسلہ‘‘ کے مذکورہ شمارے کے ساتھ ساتھ اردو فکشن نگاری کی خصوصیات اور نئی صدی کی نئی نسل پر اس کے اثرات کابھی عمدہ محاکمہ کہا جا سکتا ہے۔
’’بابِ نقد‘‘ میں 10 مضامین شامل کیے گئے ہیں جن میں ’’اکیسویں صدی میں اردو افسانہ‘‘از پروفیسر قدوس جاوید‘‘،’’اردو کے چند ناول:تبصرہ و تجزیہ‘‘ از پروفیسر علی احمد فاطمی،’’ اردو کی خواتین افسانہ نگار‘‘ از ڈاکٹر سید احمد قادری، ’’شگفتہ مزاج محمد زماں آزردہ: پروفیسر ابن کنول،’’معاصر فکشن کا تاریخی و تہذیبی منظرنامہ‘‘از پروفیسر آفتاب احمد آفاقی،’’بہار میں اردو ناول:آج سے کل تک‘‘ از ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی،’’نیا اردو افسانہ‘‘ از پروفیسر اسلم جمشیدپوری،’’احتجاج اور عصری افسانہ‘‘ از بشیر مالیر کوٹلوی،’’اکیسویں صدی میں بنگلہ دیش کا اردو افسانہ‘‘ از پروفیسر غلام ربانی،’’عصری مسائل اور بنگال کا معاصر افسانہ‘‘ از صفیہ شیریں قابل ذکر ہیں۔اردو فکشن سے متعلق اس باب کے سبھی تنقیدی مضامین بہت حد تک عصری افسانہ اور ناول کی صورتَ حال کو روشن کرتے ہیں۔نیز جوخواتین و مرد حضرات افسانہ و ناول نگار وں کی فنی وفکری اور ان کی عصری افسانوی جہات کے کئی اہم پہلوؤں سے مزین ہیں۔اس باب کے چند مضامین افسانہ اور ناول کے علاقائی و بین الملکی منظرنامے سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔اس شمارے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں چند معتبروممتاز فکشن نگاروں اور ناقدین فکشن کی تحریریں اردو فکشن کے بین الاقوامی منظرنامے کا خوبصورت خاکہ کھینچتی ہیں۔ظاہر ہے اس شمارے میں مذکورہ موضوع سے متعلق اور بھی اہم تحریروںکو جگہ دی جا سکتی تھی تاہم شمارے کی ضخامت اور مناسب وقت پر اس کی اشاعت نے مدیر کے ہاتھ باندھ دیے ہوں گے۔
باب’’نیا قلم نئی روشنی‘‘ کے پانچ مضامین میں’’چند اہم افسانے اور ان کے تجزیے‘‘از غلام نبی کمار،’’بہار میں اردو شاعری 1980 کے بعد ‘‘از حسن امام منظر،’’شاعرِ مشرق‘‘ از ڈاکٹر نظر امام،’’اردو ناول میں شہری آبادی کے سماجی مسائل‘‘ا ز ڈاکٹر واثق الخیر،’’اردو کے فروغ میں ٹیلی ویژن کا کردار‘‘ از فرمان چودھری نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کے لیے شامل کیے گئے ہیں۔’’ادب سلسلہ‘‘ کی اس خوبی کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔اس باب کے اکثر مضامین موضوع سے ہٹ کر ہیں تاہم یہ باب اس شمارے کاخاصا ہے جو مدیرکی مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔اس دستاویزی شمارے میں سینئر وں کے ساتھ ساتھ کچھ جونیئر افسانہ نگاروں کے افسانوں کوبھی اہمیت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔’’برف میں آگ‘‘ از شموئل احمد،’’تاریک چوک کا دودھیا لیمپ‘‘ از نعیم بیگ،’’کورونا اور قرنطینہ‘‘از محمد حمید شاہد،’’ایک خنجر پانی میں‘‘ازڈاکٹر خالد جاوید،’’مٹی‘‘از انجم عثمانی‘‘،’’یزیدعصر‘‘از اسلم جمشیدپوری،’’سانڈ‘‘از صدف مرزا‘‘،’’برانڈ ڈشرٹ‘‘از رومانہ رومی،’’دھواں‘‘از عشرت معین سیما،’’سفر ہے شرط‘‘از قمر جمالی،’’ادھوری کہانیاں‘‘از ثمینہ سید،’’لذتِ آزار،’’انجلاء ہمیش کے نام سے12 ؍افسانے شمارے کی زیب و زینت بنے ہیں۔یہ سبھی افسانے افسانوی معیار پر کھرا اُترتے ہیں۔فکشن کے اس دستاویزی شمارے کے لیے مہمان مدیر کو بہت سارے افسانے موصول ہوئے تھے لیکن کانٹ چھانٹ کے بعد جو افسانے متفقہ رائے سے قبول کیے گئے ان میں بعض ہی رسالے میں شامل کیے گئے ہیں اور جو رہ گئے ہیں انھیں جنوری تا مارچ شمارے میں شائع کیے جانے کی امید ہے۔
’’انٹرویو‘‘کے باب میں ڈاکٹر پرویز شہریار کا انٹرویو راقم الحروف (غلام نبی کمار) نے اورزبیر الحسن غافل کا انٹرویو محمد سلیم علیگ نے کیاہے۔اس کے علاوہ فکشن کے موضوع پر مشاہیر کا مذاکرہ خاص اہمیت رکھتا ہے جو موجودہ فکشن منظرنامے کی سمت و رفتار کو متعین کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔شمارے کے اندر تخلیقات کے درمیان مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کے اشتہارات کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔جنھیں دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ اردو کا پرچہ زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی متعارف ہورہا ہے۔
یہ شمارہ اردو فکشن کے ناقدین اور محققین اورریسرچ اسکالروں کے خصوصاً اہمیت رکھتا ہے۔ اردو فکشن کے بالکل حالیہ منظرنامے سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس شمارے سے استفادہ لازمی ہے۔اس کی قیمت500 روپے رکھی گئی ہے۔شمارہ حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔8588840266

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*