21 ستمبر سے سیاح تاج محل اورآگرہ قلعہ کی سیاحت کر سکیں گے

لکھنو:تاج نگری آگرہ کے لیے خوش خبری ہے۔21 ستمبرسے تاج محل اورآگرہ فورٹ سیاحوں کے لیے کھلاہوگا۔ یکم ستمبرسے باقی تمام یادگاریں کھل گئیں۔ پیر کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پربھو این سنگھ نے تاج محل اورقلعہ کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ تاج محل اور آگرہ قلعے سمیت تمام محفوظ یادگاروں میں سیاحوں کاداخلہ کوروناوائرس کی وباکی وجہ سے17 مارچ سے روک دیاگیاتھا۔ان لاک۔4کے ہدایت نامہ کے مطابق فتح پورسیکری سمیت چھوٹی یادگاریں یکم ستمبرسے کھول دی گئیں۔ اب تاج محل کے دیدارکاانتظاربھی جلدختم ہونے والاہے۔ تاج محل میں کوویڈ کی احتیاطی تدابیر،ماسک ، تھرمل اسکیننگ، سماجی فاصلہ ، سینیٹائزر کے استعمال پرعمل کیاجائے گا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دونوں عالمی ورثے کو 21 ستمبر سے کھولنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ اس فیصلے سے سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگوں کی امیدیں جگی ہیں۔ ان دونوں یادگاروں کے افتتاح کے ساتھ ہی سیاحت کی صنعت پرجوبحران چھایا ہوا ہے اس کے دور ہونے کی توقع ہے۔آگرہ میں کوروناوائرس کے اثرات شروع ہوئے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے۔ پہلا مریض یہاں 3 مارچ کو پایا گیا تھا۔ جوتے کاایک تاجر اہل خانہ کے ساتھ کوروناوائرس اٹلی سے لایاتھا۔ جب 24 مارچ کو لاک ڈاؤن ہواتوآگرہ میں آٹھ مریض تھے۔کوروناوائرس کے پیش نظر 17 مارچ کو تاج محل سمیت ملک کی تمام یادگاریں بند کردی گئیں۔یہ پہلا موقع ہے جب اتنے عرصے تک تاج محل اور آگرہ قلعے کوبندکیاگیاہے۔ اس پابندی سے سیاحت کی صنعت سے وابستہ لاکھوں افرادمعاش کے بارے میں فکرمندہیں۔ فتح پورسیکری اور دیگر چھوٹی یادگاریں یکم ستمبر سے کھول دی گئیں۔ تقریباََ چھ ماہ کے بعد اب تاج محل اور آگرہ قلعہ بھی کھلنے جا رہے ہیں۔