٢٠٢١ اور رقصِ جنوں ـ مشرف عالم ذوقی

میں خبریں سن رہا ہوں:
— وائرس آ گیا ہے،ایک نیا وائرس اور اتر پردیش میں مسلمانوں کو لگاتار نشانہ بنایا جا رہا ہےـ
وائرس آ گیا ہے ، مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے حالات سنگین ہیں ـ نیا وائرس آ چکا ہے،مغربی بنگال کے حالات یہ ہیں کہ مردہ مچھلیوں سے زہر کی کھیتی ہو رہی ہےـ
– نیا وائرس سی اے اے اور این پی آر بن کر مسلمانوں کو خوفزدہ کرے گا،
نئی  صبح  دہلیز پر دستک دے چکی ہے، اب اب اس نئی  صبح  کو حکمران دہشتگردوں کے درمیاں سے نکالنے کا کام باقی ہے .لیکن کیا ایسا ہوگا ؟
میں ٢٠٢٠ کی یادیں تازہ کر رہا ہوں ..
پانی کے قطروں کی طرح آسمان سے گرتی مردہ مچھلیوں سے خلا میں لہراتا ہوا ڈریگن تیار ہوا۔ بیجنگ کے وسط میں شہر ممنوعہ سے جنوب کی جانب دو رنگین دروازے ہیں، ڈریگن اس دروازے میں داخل ہوا، جہاں انقلاب کی بنیاد ماؤں نے رکھی تھی۔ چینی انقلابی تحریک کے رہنما نے اس وقت تک ڈریگن کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ ماؤ کے مرنے کے بعد ڈریگن نمائش اور تصاویر کا حصہ تھا، مگر مردہ مچھلیوں نے  ڈریگن کو زندہ کردیا تھا۔ ڈریگن شہر ممنوعہ سے نکلا اور ووہان پہنچ گیا۔ووہان شہر پر چمگادڑوں کا حملہ تھا۔ ایک سرسبز میدان اور ایک جھیل کے پس منظر میں سیمنٹ اور شیشوں سے بنی ایک عمارت نظر آتی ہے۔ چمگادڑوں کا ہجوم اس عمارت پر حملہ کرتا ہے اور چمگادڑ عمارت کی دیواروں سے لٹک کر الٹا جھولنے لگتے ہیں۔ عمارت کے قریب ایک مارکیٹ ہے، جہاں ایک عورت ابلے ہوئے مینڈک فروخت کررہی ہے۔ جب چمگادڑوں کا حملہ ہوا اور عمارت سے نکل کر لوگ سڑکوں پر بھاگنے لگے، عورت اُبلے ہوئے مینڈکوں کو وہیں چھوڑکر تیزی سے بھاگی مگر اس وقت تک الٹا لٹکے چمگادڑوں میں سے ایک نے اس پر حملہ کردیا تھا وہ چیختی ہوئی زمین پر گری اور سانسوں سے اس کا تعلق ختم ہوگیا۔عورت کے ساتھ ساتھ چیختے چلاتے کچھ اور لوگ بھی زمین پر گرے اور اس خوفناک نظارہ سے  بچنے والوں کا خیال ہے کہ زمین پر گرنے والے چمگادڑ چمگادڑ چلارہے تھے اور چمگادڑوں کا ہجوم ان کے آس پاس رقص کررہا تھا۔ یہ وہی موسم تھا جب اویغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہورہے تھے اور ایک مخصوص اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو بڑی تعداد میں جنگی قیدیوں کے کیمپ میں رکھا گیا تھا۔‘
میں اندر ہی اندر ہنستا ہوں۔.۔ میں اعصابی تناؤ سے گزررہا ہوں اورحکمرانوں سے پوچھتا ہوں ..اہ تم برفیلی وادیوں میں رہنے والے ریچھوں کو نہیں جانتے ؟۔ میں اس وقت گہری نیند میں ہوں اور نیندیں اکثر بیدار رہتی ہیں۔نیندیں ساحل پر لے آتی ہیں اور سمندر کے ٹھنڈے پانیوں میں دھکّا دے دیتی ہیں۔جب سمندر کی لہریں تیز ہوتی ہیں تو ان میں بے چین روحوں کی چیخ بھی شامل رہتی ہے۔نیند نے اپنی جڑیں پھیلا دی ہیں۔ میں سمندر کا تعاقب کرتا ہوں۔ وہاں ایک نوجوان جوڑا نظر آتا ہے۔ میں ان سے دریافت کرتا ہوں۔ کیا تم نے روحوں کی چیخیں سنی ہیں۔ ہاں، نوجوان لڑکی کہتی ہے— اور اس چیخ میں باسی مردہ مچھلیوں کی مہک بھی شامل تھی۔ کیا تم نے ان بے چین روحوں کو دیکھا ہے؟ نہیں۔ نوجوان لڑکا مسکراتا ہے۔ مگر میں محسوس کرسکتا ہوں، جیسے اس ہتھیلی کے گداز لمس کو جو اس وقت میری ہتھیلی کا حصہ ہے۔ میں ساحل پر ایک گھوڑا گاڑی کو دیکھتا ہوں جو ایک نوجوان شہزادے کو سمندری لہروں کا لطف دے رہا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں، بہت جلد تم سب ایک قید خانے میں ہوگے۔ اور اس وقت عظیم سمندر شانت ہوگا۔ میں ساحل کنارے ریت پر انگنت قدموں کے نشان دیکھتا ہوں۔ یہ نشانات بہت حد تک ایک دوسرے میں مل گئے ہیں۔ کچھ نشانات آدھے ادھورے ہیں۔ کچھ مٹ چکے ہیں۔میں زور سے ہنستا ہوں۔ ہم ان قدموں کے نشانات کی طرح ہیں۔ ان نشانات کو بھی سمندر کی لہریں اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔
میں دوبارہ اس کباڑ خانے میں آتا ہوں، جہاں پیانو رکھا ہے اور وہ منظر دیکھ سکتا ہوں جب پیانو کا لمس حاصل کرنے کے بعد میں خانقاہ کی تاریکی کا حصہ تھا اور وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے جنہیں میں پہچان نہیں پایا تھا۔میں شناخت نہیں کر سکا تھا کہ وہ گورے تھے یا کالے،مگر دھند میں ان کا چہرہ واضح ہے اور میں شناخت کرسکتا ہوں کہ وہ کالے انگریز تھے اور انہوں نے سوٹ پہن رکھا تھا۔ ان کے سر پر ہیٹ اور کچھ کے سر خالی تھے۔ ان کی آنکھیں اونگھ رہی تھیں اور یہ وہی لوگ تھے جن کے درمیان راسپوتین کھڑا تھا اور جو لوگ کرسیو ں  بیٹھے تھے، ان کے لباس سے مردہ مچھلیوں کی بو آرہی تھی۔ میں نے خانقاہ کی بوسیدہ دیوار سے بلند ہونے والے قہقہوں کو سنا۔ میں خواب سے واپس آیا تو دوبارہ نیند میں تھا اور کویی تھا جو  مجھ سے دریافت کررہا تھا:
تم نے گھر آنے کے بعد ہاتھوں کودھویا….نہیں۔
سب سے پہلے یہی کا م کرنا ہے۔ جو باہر ہے، اسے دروازے کے باہر چھوڑنا ہے۔ جو باہر ہے، اسے پانیوں کی ضرورت ہے۔
میں آہستہ سے کہتا ہوں۔ جو اندر ہے، اسے بھی پانیوں کی ضرورت ہے اور مرغیاں۔ کبوتر ، پرندے ، کتے،بلیاں ..؟ آہ ..میں کہتا ہوں ..نیا وائرس آچکا ہے اور ہم بستروں پر مریضوں کی طرح پڑے ہوں گے۔ زیادہ پڑے رہے تو پشت پر زخم بھی ابھر سکتے ہیں۔‘مذاق سے استحکام تک اور ایک مذاق فطرت کی طرف کیا گیا . وائرس کروڑوں جانوں کو سمیٹ  کر اپنے ساتھ لے گیاـ
— سنا ہے سمندر کا پانی سرخ ہوگیا ہے۔
— ریگستان کی آندھی کا رُخ ہماری طرف ہے۔
— مچھلیاں تیزی سے مررہی ہیں۔
— پانی خشک ہورہا ہے۔
— کیا ہمارے گھردوبارہ  جیل بن جائیں گے۔؟٢٠٢١ میں بھی ؟
— کیا یہ عذاب ہے، جو ہم پر بھیجا گیاہے؟
میرے پاس ان میں کسی سوال کا کو ئی جواب نہیں۔  احتیاط برتنے سے ہم بڑی سے بڑی بیماری سے خود کو محفوظ کرلیتے ہیں،مگر حکمرانوں سے احتیاط ـ سانپوں سے احتیاط ؟ جو ہمیں برباد کرنے کا حکم نافذ  کر چکے ہیں ، ان سے احتیاط ؟ جو لو جہاد اور دنیا بھر کے قانونوں سے مسلمانوں پر حملہ کر رہے ہیں ، ان سے احتیاط ؟
٢٠٢١  کو خاموشی اور نفرت کے وائرس کا شکار نہ ہونے دیجئے،ابھی ایک تحریک روشن ہے اور اس میں سلگتے کوئلوں کی آگ بھی نظر  آ رہی ہے، سلگتے کوئلوں سے نکلنے والی سرخ روشنی ..تمہارا استقبال ہے ، ہم آدھے مردہ ہیں،جوآدھا  بچ گیا ہے ، اس کو  محفوظ رکھنے کے لئے  ہم تمہارے پاس آ رہے ہیں ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)