دو ہزار بیس ۔سعود عثمانی

کوئی سال تھا کہ وبال تھا
کوئی رنج تھا جو بدل گیا خد و خال کو
کوئی رنگ تھا جو سیاہ پوش کیے گیا مرے سرخ شہر وصال کو
وہ جوتیر اس کے جلو میں تھے
وہ جوتیغ اس کی کمک پہ تھی
وہ جو چار سمت قتال تھا
جو شکست ہوگیا معرکہ
وہ نہ وہم تھا نہ خیال تھا
وہ جو گریہ زن تھے نواح میں ،جو پچھاڑیں کھاتے تھے راہ میں
میں کسی کا غم نہ بٹا سکا،میں کسی کے پاس نہ جاسکا
وہ قیامتیں تھیں یہاں بپا کہ ذرا ٹھہرنا محال تھا
میں تو اپنا دکھ نہ بتاسکا کہ ہر ایک کا وہی حال تھا
یہ جو ہجر زاد وبال تھا
یہ جو رفتگاں کا ملال تھا
اسے دیکھنا ہے تو دیکھنارُخ ِزندگی
وہ جو میرا اوجِ زوال تھا
اسے دیکھنا ہو تو دیکھنا مرا آئنہ
جو شکست و ریخت کا جال تھا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*