2020ء : عام آدمی زندہ باد ـ شکیل رشید

 

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) 

سال جو بیت گیا، اچھا اور برا جیسا بھی رہا، لوگوں کے صبر اور برداشت کے لیے یاد رکھا جائے گا ۔ کورونا کے مصیبت زدگان کے لیے مرکز کی مودی سرکار نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے یاد رکھا جا سکے ۔ سرکار لوگوں سے صرف تالیاں بجواتی اور تھالیاں پٹواتی رہی یا پھر سب سے کہہ دیا کہ موم بتی اور دیئے جلائیں ۔ اور لوگوں نے ان کی بات مان کر تالیاں تھالیاں بجائیں اور موم بتیاں جلائیں بھی! یہ لوگوں کے صبر اور ضبط کی ایک اعلیٰ مثال ہے ۔ لوگ جانتے تھے کہ یہ بس ڈھونگ ہے، اس سے کچھ نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں ہے، نہ تالی بجانے سے کورونا بھاگے گا اور نہ ہی تھالی پیٹنے سے ۔ لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ مودی ساری دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ دیکھو یہ بھارت کے نواسی کس خلوص سے ان کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں ۔ مودی کی پرچار مشنری سرگرم رہی، بی جے پی کاسوشل میڈیا جھوٹ پروستا رہا، پروپیگنڈا زوروں پر تھا کہ مودی نے اپنی پالیسیوں سے کورونا کو شکست دے دی ہے ۔ اور آج بھی یہ پروپیگنڈا زوروں پر ہے کہ مودی نے دیش کو کورونا سے بچا لیا ہے ۔ حالانکہ سارے عالم میں ہم کورونا متاثرین کی تعداد کے معاملہ میں امریکہ کے تقریباً برابر ہیں ۔ کورونا کی شدت کے وہ دن کتنے ہیبت ناک تھے! لوگ گھروں میں قید تھے اور سڑکوں پر رہنے والے نوالے نوالے کو محتاج ۔ مزدور کام پر جانے سے قاصر ۔ دکانیں، کارخانے اور فیکٹریاں سب بند ۔ وہ مزدور جو مالکان کے لیے کبھی ضروری اثاثہ تھے اب بے مصرف ہو گیے تھے لہٰذا نکالے جا رہے تھے ۔ بی جے پی اور اس کی مرکزی و ریاستی سرکاریں دعویٰ کر سکتی ہیں، بلکہ دعویٰ کرتی ہیں کہ سب کی خبر لی گئی، سب کا پیٹ بھرا گیا، مگر سچ یہی ہے کہ لوگ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھے، بھوکے رہنے اور بھوکے سونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا ۔ سرکار نے ایسا نہیں کہ کچھ نہیں کیا، راشن بٹوایا لیکن انہیں جن کے پاس راشن کارڈ تھے، اور لاک ڈاؤن کے سبب اس کا فائدہ سب راشن کارڈ ہولڈر بھی نہیں اٹھا سکے ۔ بہت سے ایسے ہیں جو نہ راشن کارڈ رکھتے ہیں اور نہ کوئی اور کاغذ، ان کا کیا ہوا ہوگا! جو روزی روٹی سے محروم ہوے ان کی حالت کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیں : ایک دن فون آیا کہ نوائیڈا میں ایک میاں بیوی ہیں ان کی مدد کر دی جائے تو مہربانی ہوگی ۔ شوہر پڑھے لکھے تھے کسی فرم میں اکاؤنٹنٹ تھے لاک ڈاؤن میں نکالے گیے، کچھ دن بعد ہاتھ میں کچھ نہیں رہا ۔وطن جانا نہیں چاہتے تھے کہ وہاں ان کاکچھ رہ نہیں گیا تھا ۔ وہ مدد نہیں کوئی چھوٹی ملازمت چاہتے تھے ۔ کئی جگہ بات کی، تنظیموں سے جماعتوں سے مگر نہ کسی نے ان کی مدد کی اور نہ ہی انہیں ملازمت ملی ۔ وہ پچاس سال سے زیادہ کے تھے، لوگوں نے کہا کہ ان کی عمر زیادہ ہے ملازمت کہاں ملے گی، اور مدد دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ اب تو لاک ڈاؤن ہٹ رہا ہے ۔ اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں کہ نہ سرکار نے مدد کی نہ کسی این جی او نے ۔ ان کا کیا ہوا ہوگا اللہ ہی جانے، وہی رازق ہے ۔ مہاجر، جو اپنے ہی ملک میں پرائے ہو گیے تھے، مودی سرکار نے انہیں بے یار و مددگار سڑکوں پر چھوڑ دیا تھا ۔ یہ سرکار پیٹ تو نہیں بھر سکی تھی لیکن کبھی تبلیغی جماعت پر اور کبھی عام مسلمانوں پر کورونا پھیلانے کا الزام لگا کر اس نے لوگوں کی روزیاں چھیننے کا کام خوب کیا ۔ میں ان بیتے ہوے دنوں پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ سوچے بغیر رہ نہیں پاتا کہ یہ روز روز کما کر لانے والے کیسے نفرت کی لہر میں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے کبھی ٹھیلہ لیے کبھی سر پر ٹوکری لیے گلی گلی گھومتے اور لوگوں کی گالیاں برداشت کرتے تھے! اللہ انہیں جزائے خیر دے آمین ۔ راحت رسانی کا کام این جی اوز کی طرف سے، جن میں مسلم تنظیمیں اور جماعتیں بھی شامل ہیں، سرکار کے مقابلے زیادہ بہتر ڈھنگ سے کیا گیا ۔ کمیونٹی کچن کھل گیے تھے اور بلا لحاظ مذہب سب کو کھانا پہنچانے کی کوششیں کی جارہی تھیں ۔ این جی اوز کو اس کام کے لیے ہمارا سلام ہے ۔ لیکن ہمارے خاص سلام کے حقدار عام لوگ ہیں، ہندو، مسلم ،سکھ اور عیسائی وغیرہ جنہوں نے یہ سوچے بغیر کہ ان کا کیا حال ہوگا ایک دوسرے کی مدد کی ۔ جگہ جگہ لوگوں نے کھانا اور راشن تقسیم کیا، جو خود کھاتے تھے دوسروں کو کھاتے تھے ۔ یہ وہ ہندوستان ہے جسے یہ سرکار دیکھنا نہیں چاہتی، لیکن انسانی ہمدردی کا جذبہ فطری ہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا یہ اور بات ہے کہ یہ کچھ دیر کے لیے سرد پڑ جائے ۔ عام ہندوستانیوں کے مقابلے انسانی ہمدردی اور خدمت گزاری کے میدان میں مودی سرکار بھی اور بی جے پی کی ریاستی سرکاریں بھی فہرست میں سب سے پیچھے کھڑی نظر آتی ہیں ۔ عام آدمی زندہ باد ۔