دوسو کروڑ نہیں، دس کروڑ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

دو بزرگوں کی آڈیو ریکارڈنگ سنی ـ اس میں عبرت و نصیحت کا بہت سامان ہےـ ایک بزرگ میرے ملک ہندوستان کے ہیں اور دوسرے بزرگ پڑوسی ملک کےـ دونوں سے مجھے محبت اور عقیدت ہے اور ان کے مواعظ میں بہت شوق سے سنتا ہوں ـ پہلے بزرگ کو معلوم ہوا کہ پڑوسی ملک میں ایک مال دار مسلمان نے اپنے گھر کی شادی پر دو سو کروڑ روپے خرچ کیے ہیں اور اس شادی میں مذکور بزرگ شریک ہوئے ہیں ـ انھوں نے ایک ویڈیو جاری کیا ، جس میں اس بے جا اسراف کی کھل کر مذمّت کی اور اس احساس کا اظہار کیا کہ اُن بزرگ کو اس شادی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ـ جواب میں دوسرے بزرگ نے بھی آڈیو جاری کیا ، جس میں وضاحت کی کہ اُس شادی میں دو سو کروڑ نہیں ، بلکہ صرف دس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور چوں کہ وہ مال دار مسلمان کھرب پتی ہے ، اس لئے اس کے لیے دس کروڑ بہت معمولی رقم ہےـ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرا مقصد تو تمام طبقات کے لوگوں کی اصلاح ہے ، میں تو ہر جگہ پہنچ جاتا ہوں ، حتیٰ کہ میں نے تو طوائفوں کو معصیت کے دلدل سے نکالنے کے لیے کام یاب مہم چلائی ہے ، اس لیے اس شادی میں بھی میرا جانا اصلاح کے مقصد سے تھاـ اس پر پہلے بزرگ نے پھر آڈیو جاری کیا ، جس میں انھوں نے انتہائی معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کیاـ انھوں نے کہا کہ بغیر تحقیق کے انھوں نے ایک غلط بات کہہ دی ، جس پر وہ معافی مانگتے ہیں ـ

اس گفتگو میں ہم ‘ادب الاختلاف’ سے متعلق بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ـ کس طرح کسی پر تنقید کی جائے؟ کس طرح اس کا جواب دیا جائے؟ اپنی غلطی واضح ہوجائے تو کس اسلوب میں اس پر معذرت کی جائے؟ لیکن اس وقت میں دوسرے پہلو کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں ـ
کوئی شخص کتنا بھی مال دار ہو ، کھرب پتی ہی نہیں ، بلکہ اس سے دس گنی دولت کا مالک ہو ، لیکن برِّ صغیر ہند و پاک کے ماحول میں دس کروڑ کی شادی کو مُسرفانہ ہی کہا جائے گاـ اسے اسلامی شادی یا مسنون شادی کسی بھی حال میں نہیں کہا جاسکتاـ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
خيرُ النِّكاحِ أيْسَرُهُ (صحيح الجامع: 3300) "بہترین نکاح وہ ہے جو آسانی سے انجام پائےـ” بعض روایات میں لفظ ‘مَئُونَۃً’ کا اضافہ ہے ، یعنی بہترین نکاح وہ ہے جس کے مصارف کم سے کم ہوں ـ

صحابہ کرام نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشادِ گرامی کو حرزِ جاں بنایا ، چنانچہ مال دار صحابہ نے بھی بہت سادگی سے شادیاں کیں ـ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انتہائی مال دار صحابی تھےـ آج کل کے ارب پتی اور کھرب پتی ان کا کیا مقابلہ کرپائیں گے؟! ان کی مال داری کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ وہ مٹی چھوتے تھے تو سونا بن جاتی تھی ـ انھوں نے اپنی شادی کی تو تقریبِ نکاح میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی ـ آپ ص کو بعد میں علم ہوا تو فرمایا : "ولیمہ کرو ، چاہے ایک بکری ہی ذبح کرو _” ( بخاری :2049 ،مسلم:1427)

جو لوگ خود کو مسلمان سمجھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا امتی کہتے ہیں انھیں شادیوں میں بے جا مصارف کرنے اور مال و دولت کی نمائش کرنے کے بجائے اپنی دولت ایسے کاموں میں خرچ کرنی چاہیے جو مرنے کے بعد کی زندگی میں ان کے کام آئےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*