بیس ممالک میں شدید بھوک کے بحران کا خطرہ:اقوا م متحدہ

نیویارک:اقوام متحدہ کی بعض ایجنسیوں کے مطابق آنے والے مہینوں میں لاکھوں انسانوں پر سیاسی تنازعات، کورونا کی وبا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر عالمی برادری نے جلد ہی مناسب اقدامات نہ کیے تو دنیا کے بیس سے بھی زائد ممالک میں شدید بھوک کے بحران میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ غذا سے متعلق معروف عالمی ادارے ‘ورلڈ فوڈ پروگرام’ (ڈبلیو ایف پی) اور فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن(ایف اے ڈبلیو) نے اس سے متعلق 23 مارچ منگل کو اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ڈبلیو ایف پی اور ایف اے ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عالمی سطح پر تین کروڑ چالیس لاکھ افراد پہلے ہی انتہائی غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھوک کی وجہ سے موت کے قریب ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی آنکھوں کے سامنے تباہی پھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ تنازعات کی وجہ سے پنپنے والے قحط، ماحولیاتی تبدیلی کے حیران کن جھٹکے اور کووڈ 19 کی عالمی وبا کی وجہ سے بھوک لاکھوں خاندانوں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق بھوک کے لحاظ سے سب سے زیادہ برا حال جنگ زدہ ملک یمن، جنوبی سوڈان اور شمالی نائیجیریا میں ہے۔ عالمی سطح پر سب سے زیادہ بحرانی کیفیت تو افریقی ممالک میں ہے تاہم اب افغانستان، شام، لبنان، اور ہیٹی جیسے ممالک میں بھی شدید بھوک میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ’ہنگر ہاٹ اسپاٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے انتہائی خطرے سے دو چار علاقوں میں اہداف بنا کر انسانی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان انتہائی کمزور برادریوں کو بچایا جا سکے۔ان اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں آبادی کے کچھ حصوں کو پہلے ہی سے شدید معاشی قلت، کم غذا اور انتہائی شدید کم غذائیت کا سامنا ہے۔ ایسی نازک صورت حال میں، کوئی ایک بھی دھچکا لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو بدحالی کے دہانے پر لا سکتا ہے یا پھر فاقہ کشی میں ڈال سکتا ہے۔ڈیوڈ بیسلی کا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد کو فاقے سے مرنے سے بچانے کے لیے ہمیں فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: لڑائی روکنی ہوگی، ہمیں ایسی انتہائی کمزور برادری تک رسائی دینی ضروری ہے تاکہ ہم انہیں زندگی بچانے کی ضروری امداد مہیا کرسکیں اور سب سے اہم، ہمیں چندہ دینے والوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم صرف اس برس کے لیے ہی ساڑھے پانچ ارب ڈالر جمع کر پائیں۔