1975کی ایمرجنسی غیرآئینی تھی یانہیں؟سپریم کورٹ سماعت کے لیے تیار،مرکزکو نوٹس

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے 1975 میں ایمرجنسی کے اعلان کوغیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی سماعت پراتفاق کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاہے۔ تاہم عدالت نے حکام سے 25 کروڑروپے معاوضے کے مطالبے پر سماعت سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ 45 سال پہلے کی گئی غلط کاروائیوں کے معاملات اب نہیں کھول سکتے ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے ہریش سالوے نے کہاہے کہ تاریخ کبھی بھی خودکودرست نہیں کرتی بلکہ خودکودہراتی ہے۔سپریم کورٹ نے درخواست گزار سے 18 دسمبر تک درخواست میں ترمیم کرنے کوکہاہے۔ سپریم کورٹ اس پر غور کرے گاکہ ایمرجنسی غیر آئینی قرار دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہاہے کہ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیایہ کام ہوسکتا ہے جیسا کہ اسے 45 سال ہوچکے ہیں۔ہریش سالوے نے کہاہے کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ سپریم کورٹ کوسماعت کرنی چاہیے۔ کے ایس پوٹاسوامی (ریٹائرڈ) بنام گورنمنٹ انڈیا2017 کے معاملے میں پانچ رکنی آئین بنچ کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے اے ڈی ایم جبل پور بنام شیوکانت شکلا (1976)کے معاملے میں دیئے گئے فیصلے پرانحصار کرتے ہوئے درخواست میں کہاگیا ہے کہ ہندوستانی ایمرجنسی کے دوران عہدیداروں کے ہاتھوں مظالم کا نشانہ بننے والے درخواست گزارکے ساتھ جوہوا جمہوریت کی تاریخ کا سب سے تاریک باب ہے۔ اب تک انہیں امدادنہیں مل سکی ہے۔درخواست میں کہاگیاہے کہ یہ عرضی درخواست گزار ، اس کے مقتول شوہر اور کنبہ پر مظالم کے معاملے میں انصاف اور شدید دردمیں گزاری گئی ان کی زندگی کا معاوضہ مانگنے کے لیے دائرکی گئی ہے۔درخواست میں بتایاگیاہے کہ اس وقت کے سرکاری عہدے داروں نے متاثرین کے کاروبار اور گھروں کو تباہ کرنے کی کوشش میں بلاجواز اور غیر مجازتحویل کے احکامات جاری کرکے درخواست گزار اور اس کے شوہر کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے نتیجے میں اسے ملک چھوڑنے پرمجبورکیاگیا۔اس کا کاروباربند کردیا گیا ، غیر منقولہ جائداد سمیت تمام جائیدادیں اور قیمتی سامان ضبط کرکے قبضہ کرلیا گیا۔