۱۸ سالہ ایکٹوسٹ گریٹا تھنبرگ کےخلاف ایف آئی آر:دہلی پولیس کی احمقانہ حرکت ـ سمیع اللہ خان

آج دہلی پولیس نے حماقت کی حد کرتے ہوئے ایک ایسا مقدمہ درج کیا ہے جوکہ ایک ۱۸ سالہ عالمی شہرت یافته بچی گریٹا تھنبرگ کے خلاف ہے، صرف اس وجہ سے کہ اس لڑکی نے مودی کے آمرانہ استعمار کےخلاف ہندوستانی کسانوں کی حمایت کردی تھی ـ
گریٹا سویڈن کی ماحولیاتی ایکٹوسٹ ہیں، وہ ابھی صرف ۱۸ سال کی ہیں، لیکن عالمی سطح پر ان کی شہرت ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی ہمت اور جہد مسلسل سے عالمی لیڈروں اور حکمرانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے سختی سے للکارا تھا، ۱۵ سال کی عمر سے اس بچی نے سویڈن پارلیمنٹ کے باہر اپنی پڑھائی کےساتھ ساتھ احتجاج بھی شروع کردیا تھا، جسے پھر پوری دنیا نے سنا اور تحفظ ماحولیات کے میدان میں کام کرتے ہوئے اس بچی نے کئی ایوارڈز حاصل کیے اور اقوام متحدہ بھی اس سے متاثر ہوا، کروڑوں انسان گریٹا کو فولو کرتے ہیں اور اس سے انسپائر ہوتےہیں ـ
کسان آندولن کو گریٹا کی حمایت ملنے کی وجہ سے مودی سرکار کو عالمی سطح پر سخت تنقیدوں کا سامنا ہےـ لیکن یہ ہندوستان ہے، یہ مودی کا بھارت ہے، یہ آر۔ایس۔ایس کے برہمنی منصوبوں کا بھارت ہے، یہ قدیم پجاری سامراج کی بالادست ذہنیت اور ان کے تسلط کا سامراج ہے، یہ نسل پرست برہمنوں اور منو وادیوں کا نیا بھارت ہے، بھارت کے اس غیرعلانیہ ہندو راشٹر کی راجدھانی پولیس نے سویڈن میں رہنے والی اس بچی کو پولیس۔ ایف آئی آر میں شامل کیا ہے، گریٹا پر مقدمہ کرکے دہلی پولیس نے پوری دنیا کو اپنا اصلی چہرہ دکھایا ہے، کہ بھارتی راجدھانی کی پولیس اپنے سیاسی آقاؤں کے ناجائز احکامات کی کیسے غلامی کرتی ہے، وہیں یہ ایف۔آئی۔آر بھارت کی موجودہ سرکار کی علم دشمن، غیرمعقول، اور ظالمانہ ذہنیت کی عکاسی ہے ـ
گریٹا جیسی بچی ہمت و حوصلوں کا نشان ہے، کسان آندولن کی حمایت کرنے کی وجہ سے اسے انٹرنیٹ پر جہاں مودی بھکتوں اور سنگھیوں کی طرف سے گالیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑاہے وہیں یہ ایف۔آئی۔آر بھی ہے، لیکن گریٹا نے ان سب کےباوجود اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنے کا اظہار کیا ہے اور دوبارہ کسانوں کی حمایت کردی ہے، میرا احساس ہیکہ یہ بچی اپنے اسکول سے واپس آنے کےبعد ایف۔آئی۔آر کاپی کی ناؤ اور جہاز بناکر اس سے کھیلے گی ـ
آج اس حرکت کےبعد دنیا بھر کے لوگ حیرت سے ہنستے اور تھو تھو کرتےہیں کہ ہندوستان کی نسل پرست برہمنی سرکار، اور سیاسی پولیس آخر کس گولے میں جی رہی ہے؟ اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے یہ حکمران کسقدر بزدل اور کم ظرف ہیں کہ دو۔چار ٹوئیٹ بھی اپنے خلاف برداشت نہیں کرپاتےـ
اچھا ہے کہ آپ خود اپنا جھوٹا نقاب نوچ رہے ہیں، اچھا ہے کہ آپ اپنے اصلی تاریخی خمیر کی طرف لوٹ رہےہیں، اچھا ہے کہ آپ منوسمرتی کی غیرانسانی سوچ، اور آر۔ایس۔ایس کے فسطائی نظریات کو عام کررہےہیں ـ یہ منو وادی برہمنوں کا بھارت ہے جہاں پولیس کا کام یہ ہیکہ کبھی ۲۳ سالہ مسلم نوجوان شرجیل عثمانی کے پیچھے لگے رہے تو کبھی ۱۸ سالہ گریٹا کے پیچھے
یہ بھارت بہت ڈرتا ہے، بچوں سے ڈرتا ہے، کاپی قلم اور ایک عدد متحرک دماغ رکھنے والے نوجوانوں سے ڈرتا ہے یہ سَنگھی استعمار
اور ہاں، گریٹا تھنبرگ کو آپ چھو بھی نہیں سکتےہیں، یہ بات آر۔ایس۔ایس کے بددماغ تھنکرز بھي جانتےہیں اور گھمنڈی سرکار بھی، ممکن ہے کہ اس احمقانہ ایف۔آئی۔آر پر ابھی صفائی اور وضاحت جاری کرنا پڑے، کیونکہ منو وادی پجاریوں کے مزاج عالمی بے عزتی کےبعد ہی ٹھکانے آتےہیں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*