18 فروری کو’ریل روکو‘مہم کی تیاری،کسان تنظیموں نے کہا،لوگوں کو تکلیف ہوگی ، لیکن ہم بھی مجبورہیں

نئی دہلی:زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کی تحریک کو 170 دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دریں اثنا کسانوں نے احتجاجی مظاہرے میں متعدد ریلیاں اور میٹنگیں منعقد کیں۔ اب اگلی تیاری ریل روکو تحریک کی ہے۔ کسان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ 18 تاریخ کو ملک بھر میں ہزاروں کسان ریلوے پٹریوں پر بیٹھ جائیں گے۔انھوں نے کہاہے کہ اس سے تکلیف توہوگی لیکن ہم بھی تکلیف میں ہیں۔آل انڈیا کسان سبھا کے جنرل سکریٹری حنان ملا نے کہاہے کہ کسان 18 تاریخ کو پرامن احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریل روکو تحریک ہندوستان کی تاریخ میں کوئی نئی تحریک نہیں ہے۔ یہ احتجاج کا ایک طریقہ بھی ہے۔ یہ سب کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ حکومت سے لے کر وطن عزیز تک۔ ہم اس تحریک کو پرامن انداز میں کریں گے۔ ہم نے کل بھی ملک بھر میں ایک جلوس نکالا تھا۔ انہوں نے کہاہے کہ 18 تاریخ کو ہزاروں کسان رات 12 بجے سے شام 4 بجے تک ریلوے پٹریوں پر بیٹھیں گے۔ انہوں نے الزام لگایاہے کہ کسانوں کی کوئی سن نہیں رہا ، جبکہ کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ ملا نے کہاہے کہ ہمارے 240 افراد اب تک مر چکے ہیں ، کوئی سن نہیں رہا ہے۔ ہر دو گھنٹے میں ، دو کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ ہم سب کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم بغیر کھائے مر رہے ہیں۔ کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 15 دن اعلان ہواہے۔ اچانک نہیں۔ لوگ پریشان ہوں گے لیکن ہمیں ان سے زیادہ پریشانیاں ہیں۔ ہم نے شروع سے ہی کہا تھا کہ اگر تحریک پرامن ہے تو ہم جیتیں گے۔ اگرہنگامہ ہوا تو مودی جیت جائیں گے۔کسان رہنما نے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد کو حکومتی سازش قراردیا۔ 26 جنوری کو کسان تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے دہلی میں ایک ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کیا تھا۔