1500 لاشوں کا وارث۔ ایم ودود ساجد

 

میں نے اپنی ہوش میں ایسا وقت کبھی نہیں دیکھا جب لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں سے بھاگ رہے ہوں، انہیں ہاتھ لگانا تو دور ان کا چہرہ بھی دیکھنے سے کترا رہے ہوں۔ لیکن ایک شخص ایسا ضرور دیکھا جو نہ صرف لاوارث لاشوں کا کفن دفن کرتا رہا ہے بلکہ پچھلے ایک سال کے وبائی دور میں اب تک 1500 سے زیادہ میتوں کی تدفین کرچکا ہے۔
محمد وسیم دہلی وقف بورڈ کی طرف سے دہلی گیٹ قبرستان میں مامور ہے۔اسے مہینہ میں محض 9 ہزار روپیہ ملتے ہیں۔ مارچ 2020 سے اب تک کورونا سے مرنے والے 1500 سے زیادہ افراد کی تدفین کرچکا ہے۔PPE کٹ بھی کچھ دنوں پہلے ملی ہے۔وہ لاوارث مسلم جنازوں کی بھی تدفین کرتا ہے۔یہی نہیں اس عرصہ میں کورونا سے مرنے والے ان لوگوں کی بھی تدفین کی ہے جن کے اہل خانہ تدفین نہیں کرپا رہے تھے۔
یہ کام بہت مشکل ہے۔ مشکل ہی نہیں انتہائی مشکل ترین ہے۔ ہم جیسے بے بضاعت لوگ سوشل میڈیا پر تقریریں خوب کرلیتے ہیں’ دوسروں کو نیچا دکھانے کیلئے فقرے کس دیتے ہیں۔ لیکن جب ضرورت عملی اقدام کی ہوتی ہے تو ہم کہیں نظر نہیں آتے۔ میں دوسروں کی کیا بات کروں’ میں خود بھی انہی گفتار کے غازیوں میں ہوں۔
اس صف میں ایک اہم نام مولانا عارف قاسمی کا ہے۔بلاشبہ انہوں نے سینکڑوں میتوں کی نہ صرف نماز جنازہ پڑھاکر ان کی تدفین کرائی ہے بلکہ دہلی کے مختلف ہسپتالوں میں خود جاکر ایسی لاشوں کو حاصل کرکے تمام قانونی کارروائی پوری کرائی ہے۔ وہ لاک ڈاؤن کے دوران ایسے وقت میں دہلی کی سڑکوں پر تنہا گھومتے رہے کہ جب ایک طرف کورونا کا بھوت رقص کر رہا تھا تو دوسری طرف پولیس لاٹھیاں برسارہی تھی۔
تبلیغی جماعت کے نام پر میڈیا اور سرکاروں نے جو شر پھیلایا تھا اس کا بھی کچھ کم اثر نہ تھا۔لیکن مولانا عارف قاسمی نے کسی بھی صورت حال کی پروا نہ کی۔انہوں نے 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران سینکڑوں غریب اور مفلوک الحال افراد کے گھروں میں کئی کئی ماہ کا راشن پہنچایا۔
محمد وسیم کے سلسلے میں مجھے دہلی وقف بورڈ کے چیرمین سے ایک عرض کرنی ہے:
اس غریب کی تنخواہ تو آپ بڑھا ہی سکتے ہیں ۔ اس کا کام دیکھئے اور پھر 9 ہزار روپیہ دیکھئے۔ کیا واقعی اسے صرف 9 ہزار روپے ملنے چاہیئں؟ آپ نے بہت سے متاثرین اور غریبوں کی بڑے پیمانے پر مدد کی ہے۔۔ مشرقی دہلی کے فساد زدگان کو ایک کروڑ کے آس پاس تقسیم کیا ہے۔۔ درجنوں ضرورت مندوں کو ملازمت دی ہے۔پھر اس غریب کا کیا قصور ہے؟ میرا خیال ہے کہ نہ صرف اس کی تنخواہ میں معقول اضافہ کیا جائے بلکہ اسے کورونا کے دوران خصوصی الاؤنس بھی دیاجائے ۔آپ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے امانت الله صاحب ۔ لیکن اس کی تنخواہ بڑھ جائے گی تو اس کی نہ جانے کتنی مشکلیں دور ہوجائیں گی۔