150؍سالہ تاریخی دستاویزات کوڈیجیٹائز کرنے کا دہلی حکومت کا تاریخی کارنامہ

13؍فروری2019ء سے کم و بیش 60؍لاکھ دستاویزات(جن میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کا فرمان،تقسیم ہند سے متعلق کاغذات اور 1870ء تک کے جائداد سے متعلق کاغذات شامل ہیں)عام لوگوں کے استفادے کے لیے دہلی حکومت کے ذریعے تشکیل دی گئی ویب سائٹ e-abhilekh پرآن لائن دستیاب ہوں گی۔ایشیا بھر میں اپنی نوعیت کے اس پہلے پروجیکٹ کا دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے ذریعے 31؍اگست2017ء کو اعلان کیا گیا تھا اور تب سے اب تک اس پر کام جاری ہے اور تیس ماہ کے عرصے میں چار کروڑ دستاویزات کو ڈیجیٹائز اور ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا ہے۔ان دستاویزات میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرکے خلاف1858ء میں 41؍ دن تک چلنے والے مقدمے کی تفصیلات بھی ہیں،جو500؍صفحات پر مشتمل ہیں۔اس پروجیکٹ کے لیے کل29.46کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔
اس پروجیکٹ کی تکمیل پر نائب وزیر اعلیٰ کا کہناہے کہ یہ ہم سب کا مشترکہ اور اجتماعی تاریخی کام ہے،دہلی حکومت ان دستاویزات کو عوام کے درمیان عام کرکے فخر محسوس کررہی ہے۔دہلی حکومت کے ڈپارٹمنٹ آف آرکائیوز کی آفس میں جرمنی سے حاصل کردہ26؍سکینرزہیں،جوA2سائز کی دستاویزات کو سکین اور ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ہیں،جبکہ دوہیڈسکینر زہیں،جن سےA0سائز کی دستاویزات سکین کی جاتی ہیں۔اس کام کے لیے ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل عملہ ہے،جو ہفتے میں پانچ دن روزانہ نوگھنٹے کام کرتا ہے۔
پروجیکٹ کے نگراں اور آرٹ،کلچر و السنہ کے شعبے میں نائب وزیر اعلیٰ کی مشیر کار ابھینندتا ماتھر کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی نوعیت تین قسم کی ہوں گی:ایک ہندوستانی سکالرز کے لیے،دوسری غیر ملکی سکالرز کے لیے او رتیسری عام لوگوں کے لیے۔ان کی فہرستیں بنائی جائیں گی،مختلف عناوین اور ذیلی عناوین کے تحت انھیں مرتب کیا جائے گا،ایک بارویب سائٹ پر رجسٹر ہونے اور لاگ اِن کرنے کے بعد آپ تمام دستاویزات دیکھ سکتے ہیں ،البتہ اگر کچھ ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں،تو فیس اداکرنا ہوگی،جو معمولی ہوگی۔انھوں نے کہا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں کیاگیا کہ ڈاؤن لوڈنگ کی فیس کتنی ہوگی۔
شعبۂ آرکائیوز سے تعلق رکھنے والے سنجے گرگ کاکہناہے کہ یہ طلباو سکالرز کے لیے تو نہایت اہم ہے ہی،مگر یہ بنیادی طورپر ایک عوامی آرکائیوہوگا،وہ1870ء تک کے اپنے پراپرٹی کے کاغذات کی تحقیق کرسکتے ہیں،انہیں حاصل کرسکتے ہیں اور قانونی معاملات و مسائل میں ان کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

گزشتہ سال اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم میں 30؍مزید افراد شامل کیے گئے تھے،جن کاکام ایسے کاغذات و دستاویزات کو محفوظ کرنا تھا،جو نہایت خستہ حالت میں ہیں اور انھیں ہاتھ بھی نہیں لگایاسکتا،ان کاغذات میں دہلی ریلوے نیٹ ورک کا ایک بہت پرانا نقشہ اور اودھی و برج بھاشا میں ایک نجی مخطوطہ شامل ہیں۔کم و بیش تین لاکھ ایسے صفحات کو محفوظ کیاگیا ہے۔گرگ کہتے ہیں:یہ دستاویزات سوسال سے بھی زائد پرانے ہیں اور ایسی بری حالت میں ہیں کہ اگر ہم انھیں ہاتھ لگائیں،تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں؛اس لیے ہم نے گزشتہ سال انھیں جوں کا توں محفوظ کرنے کا منصوبہ بنایا،اس کے لیے ہم نے جرمن ٹیشو پیپر اور باریک polyester film استعمال کی ،جس سے اضافی مددملی اور اب ان کاغذات و دستاویزات کی زندگی سو سال سے بھی زائدتک وسیع ہوگئی ہے۔
قطب انسٹی ٹیوشنل ایریا میں واقع آفس میں پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم چہرے پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانے لگائے جائداد کے کاغذات،مخطوطات،جیل ریکارڈس،کورٹ کے فیصلوں اور مغلیہ عہد کی دستاویزات کو سکین اور ڈیجیٹائز کرنے میں مشغول ہے۔سنجے گرگ نے کہاکہ ایک تو یہ دستاویزات نہایت خستہ حالت میں ہیں،دوسرے یہ کہ نقشوں اور عمارتوں کی بلیو پرنٹس چوں کہA0سائز سے بڑی ہیں اور ہمارے پاس ان کے لیے کوئی مخصوص سکینر نہیں ہے ؛اس لیے ہمیں ایسے کاغذات کو کئی حصوں میں سکین کرنا پڑتا ہے اوراس میں بڑا وقت صرف ہوتا ہے۔
بہر کیف دہلی حکومت نے عام سرکاری و سیاسی مزاج کے برعکس علمی وتاریخی وراثت کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے یقیناًایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے اور یہ واقعی ہندوستان ہی نہیں،ایشیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا کارنامہ ہوگا۔اس سے قومی و بین الاقوامی ریسر چ سکالرز اور علمی و تحقیقی ذوق کے حامل افراد کے ساتھ دیگر ضرورت مندوں کو بھی فائدہ ہوگا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سو سال کی ہندوستانی؍دہلی کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ اس طرح محفوظ ہوجائے گا۔
(یہ سٹوری انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس ،ط:12؍فروری2019ء سے ترجمہ شدہ ہے،ترجمہ و اضافہ:نایاب حسن قاسمی)

  • محمد عمران فراھی ندوی ازھری
    12 فروری, 2019 at 13:34

    بہت زبردست کام ہے اسکو دوسرے اسٹیٹ کی حکومتیں بھی دیجیتالائز کردیں بھٹ سے عوامی مسائل حل ہوسکتے ہین۔
    دہلی کی حکومت عام آدمی پارٹی دلی مبارکباد اور آئندہ آوٹ دینے میں عام آدمی پارٹی ہی کو دہلی پبلک پر قرض ہے جسکو اوٹ دیکر اس کا قرض ادا کرنے کا حق بنتا ہے ۔

  • تصورسمیع
    12 فروری, 2019 at 15:01

    واہ بہت عمدہ کام
    تاریخ کے طلبا اور شائقین کےلیے نہایت اہم کاوش ہے

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*