غزل


احمدعطاء اللہ
خرابی دور کروں گا نئی خرابی سے
کواڑ کھول ہی لوں گا میں الٹی چابی سے
کواڑ توڑتے رہنے میں کوئی لذت ہے
غرض نہیں ہے مجھے اذنِ باریابی سے
ابھی ابھی جو اچانک بچھڑنے والا ہے
مجھے ملا تھا اسی موڑ میں شتابی سے
سیاہ پوشوں کے دل بھی کہیں سیاہ نہ ہوں
میں اپنے گرد رکھوں گا فقط گلابی سے
پرانے تجربے آخر ہمارے کام آئے
کہ ترکِ عشق کیا ہم نے کامیابی سے
یہ نیک لوگوں نے دنگا کرادیا ہوگا
شرابی شخص لڑیں گے کہاں شرابی سے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*