گیارہ روزہ خونی جنگ: اسرائیل نے امریکہ کا ساتھ پاکر بھی گٹھنے ٹیکے! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردونیوز)
جوبائیڈن اور ٹرمپ ایک ہی سکّے کے دورخ ہیں۔ صدر امریکہ جوبائیڈن بھلے ٹرمپ جیسے نہ ہوں پر ہیں ٹرمپ ہی کی طرح اسرائیل نواز!
جب تک ٹرمپ امریکہ کے صدر ہے اسرائیل مسلم ممالک کے سرپر چڑھ کر ناچتا رہا اور اہلِ فلسطین کے خون سے با ربار اپنے ہاتھ رنگتا رہا ، اور اب جوبائیڈن صدر بنے ہیں مگر نہ اسرائیل کا رویّہ بدلا ہے اور نہ ہی مسئلہ فلسطین کے تئیں امریکی پالیسی ہی میں کوئی تبدیلی آئی ہے ۔ اسرائیل ۔ فلسطین ’ جنگ بندی‘ کے اعلان کے بعد جوبائیڈن نے صاف صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اسرائیل کی حفاظت کی ذمے داری سے امریکہ نے منھ نہیں موڑا ہے! صدر امریکہ نے حالانکہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا حل ہے ، لیکن ان کی یہ بات اس وقت تک بامعنیٰ نہیں کہی جائے گی جب تک کہ اسرائیل پر لگام نہیں کسی جائے گی اور وہ فلسطینی علاقوں میں جبراً یہودی بستیاں بسانے کے اپنے ناپاک عمل سے باز نہیں آئے گا ۔ اور جب تک شیخ جراح کا اس کا محاصرہ ختم نہ ہوگا ، اور مسجد اقصیٰ پر قابض ہونے کے اپنے انتہائی مذموم منصوبے کو وہ ترک نہیں کرے گا ۔ اور نہ جوبائیڈن میں اتنی ہمت ہے کہ وہ اسرائیل کو مذکورہ منصوبوں سے روک سکیں اور نہ ہی امریکی حکومت میں ۔ جب یہ گیارہ روزہ خونی جنگ شروع ہوئی تھی اوراسرائیلی فوج نے غزہ سمیت ساری فلسطینی بستیوں کو نشانہ بنالیا تھا بلکہ مسجد اقصیٰ میں بھی تشدد کا بازار گرم کیا تھا ، تب صدر امریکہ جوبائیڈن کا بیان آیا تھا ، ایک انتہائی بیہودہ اور گھٹیا بیان : ’’ اسرائیل کو اپنے دفا ع کا حق حاصل ہے ، غزہ پر حملے کو اضافی ردّعمل نہیں قرار دیا جاسکتا ۔‘‘ کیا کسی ملک کے سربراہ بالخصوص امریکہ جیسے سپرپاور ملک کے سربراہ سے ایک ایسے بیان کا جواپنی نوعیت میں مضحکہ خیز ہو، کوئی تصور کیا جاسکتا ہے ! کیا اسرائیل جو ایک ایٹمی طاقت ہے ، ایک ایسا ملک جو عرب سرزمین پر اس وقت سے قابض ہے جب فلسطینی اپنے ملک میں زمین کے بہت بڑے حصے پر بسے ہوئے تھے ، اور جس نے ان فلسطینیوں کو تشدد کا بازار گرم کرکے اور ان پر دہشت گردانہ حملے کرکے انہیں اپنی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور کردیا اور ان کی زمینوں پر ساری دنیا سے یہودیوں کو لالاکر بسا دیا ، اب اس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ شیخ جراح، غزہ اور مغربی کنارے پر بسنے والے فلسطینیوں سے اسے ایسا خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے لیے  اپنے ’دفاع‘ میں اُن پر بمباری کرنے اور ان کی جانیں لینے اور ان کے مکانوں کو تباہ کرنے کو امریکہ اور جوبائیڈ ن اسرائیل کا حق قرار دینے کے لئے چیخ پکار مچائے ہوئے ہیں ؟ اسرائیل نہ کل کمزور تھا اور نہ آج کمزور ہے ۔ فلسطینی بستیوں سے اس کا مقابلہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی چیونٹی کا ہاتھی سے ۔ گیارہ روزہ خونی جنگ میں اسرائیل نے کیا کھویا ہے ؟ صرف 13 اسرائیلی اس جنگ میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی شہداء کی تعداد 256 بتائی جاتی ہے ، اس میں ایک بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں ۔ اسرائیلی فوج اور بمباروں نے کسی کو نہیں بخشا، جوسامنے نظر آیا اسے موت کے گھاٹ اتاردیا ۔ اس طرح سے اسے مارا پیٹا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معذور ہوگیا ۔ نہ اسپتالوں کو چھوڑا گیا اور نہ ہی اسکولوں اور عبادت گاہوں کو ۔۔۔ بڑی بڑی عمارتیں ڈھادی گئیں ، سارے شہری ڈھانچے کو تباہ وبرباد کردیا گیا ۔۔۔ فلسطینی وزارت صحت نے گیارہ روزہ جنگ کے بعد جو اعدادوشمار دیے ہیں وہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی وبربادی کی پوری داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ، شہداء کی تعداد 256 ہے ، 66 بچے اور 39خواتین شہداء میں شامل ہیں ، 17 عمر رسیدہ شہری ہیں ۔ اسرائیل نے جو بمباری کی ہے اس میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1910 ہے ۔ شہید ہونے والے بچوں میں تین سال کی مریم التلبانی بھی شامل ہے ، یہ بمباری میں شہید ہوئی تھی اور اس کی لاش کئی روز کی تلاش کے بعد ملی ہے ۔ کوتل الھوی کے مقام پر اسرائیلی بمباری میں یہ بچی اپنے پورے خاندان کے ساتھ شہید ہوگئی تھی۔
اسرائیل نے جو کیا اسے بدترین انسانی اور جنگی جرم کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔۔۔ یہ قتل عام تھا اور اگر یہ کہا جائے کہ’’اسرائیل کو دفاع کا حق ہے ‘‘ کہنے والے صدر جوبائیڈن اس قتل عام میں سرائیل کے شریک کار رہے ہیں ، تو غلط قطعی نہیں ہوگا ۔ افسوس ناک عمل یہ ہیکہ امریکہ اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ۔ حالانکہ اسرائیل کی حمایت کرنے والوں میں فرانس ، جرمنی اور آسٹریا بھی پیچھے نہیں رہے ، برطانیہ بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ، لیکن امریکہ کا کردار سب سے ’بدترین‘ تھا۔
یہ ممالک جنہیں ’ اقوام سفید‘ کہا جاتا ہے اسرائیل پر فلسطینی راکٹوں کے حملوں کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دے رہے تھے ، حالانکہ یہ حملے واقعتاً ’دفاعی حملے ‘ تھے ۔ فرانس نے حماس کے دفاع اور احتجاج کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا ۔ جرمنی میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندی لگادی گئی ۔ آسٹریا کے چانسلر سباستیان کرزنے تو اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لئے ویانا میں چانسلری پر اسرائیلی پرچم لہرادیا اور بڑے ہی دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ ’’اسرائیلی عوام پر راکٹ بازی سے ہمارے دل افسردہ ہیں‘‘۔ گویا یہ کہ امریکہ اور اس کے حلیف اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہے ، اور جس طرح امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے صہیونی وزیراعظم نتین یاہو کو نظریاتی طور پر حمایت دے رکھی تھی اسی طرح امریکہ آج بھی نتین یاہو کو نظریاتی حمایت کے ساتھ ہر طرح کی حمایت دیئے ہوئے ہے ۔ جیسا کہ لوگ جانتے ہی ہیں یہ تازہ تشدد شیخ جراح محلے کو لے کر شروع ہوا تھا ۔شیخ جراح فلسطینی عربوں کی بستی ہے ، صہیونی اسے خالی کراکر وہاں یہودی بستیاں بسانا چاہتے ہیں ، اس کا ایک مقصد پورے مسجد اقصیٰ کو ہڑپنا اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے اپنے خواب کی تکمیل کی سمت قدم بڑھانا ہے ۔ لیکن اس کا ایک مقصد ’ ہیکل سلیمانی‘ کی تلاش بھی ہے ۔ صہیونیوں کا یہ ماننا ہے کہ یا تو مسجد اقصیٰ کے نیچے یا اس کے گردونواح ہی میں ’ ہیکل سلیمانی‘ ہے ۔کئی مواقع ایسے آئے جب مسجد اقصیٰ کے نیچے اور اس کے اطراف میں کھدائی کی گئی، اسرائیلی ماہرین ِ آثار قدیمہ کادعویٰ ہیکہ کھدائی کے دوران انہیں ’ ہیکل سلیمانی‘ کے آثار نظر بھی آئے ۔ لیکن ہر دفعہ کھدائی کا عمل نامکمل رہا کیونکہ شیخ جراح کے فلسطینیوں نے ہر بار صہیونیوں کو کھدائی سے روکا ، اس کے لیے گولیاں بھی کھائیں اور قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ، مگر مسجد اقصیٰ پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ اب اسرائیل یہ چاہتا ہیکہ چاہے جس طرح بھی ممکن ہو شیخ جراح کو فلسطینیوں سے خالی کرالیا جائے اور وہاں یہودیوں کو بسادیا جائے تاکہ مسجد اقصیٰ کے نیچے اور اطراف میں ’ ہیکل سلیمانی‘ کی تلاش کے لیے کھدائی ممکن ہوسکے ۔ بھلے ہی مسجد اقصیٰ شہید ہوجائے ۔ اب شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی کا کام ’ قانوناً‘ یا باالفاظ دیگر قانون کی چھترچھایا میں کیا جارہا ہے ۔۔۔ عدالت سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے نوٹس جاری کرائے جارہے ہیں ، اوراس کے خلاف عربوں میں شدید غم وغصے کی لہر ہے ۔ نتین یاہو عرصے سے اپنے سیاسی اثر کو پختہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے ۔ سب ہی جانتے ہیں کہ کچھ دنوں پہلے تک یہ سمجھا جارہا تھا کہ وزیراعظم نتین یاہو کی کرسی کسی بھی وقت چھن سکتی ہے۔ وہ حکومت سازی میں ناکام ہوگئے تھے اور اسرائیل کے صدر ریوین ریولین نے اپوزیشن یارلیپڈ کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی اور دائیں بازو کی یمینیہ پارٹی کے سربراہ نیفتالی بینیٹ نے وزارت عظمیٰ کے عوض یارلیپڈ سے اتحاد کا اعلان کیا تھا لیکن مسجد اقصیٰ میں تشدد شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے سیاسی حالات میں بڑی تبدیلی آئی اور نیفتالی بینیٹ نے یہ کہہ کر کہ اسرائیل کو بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے لہٰذا فی الوقت حکومت کی تبدیلی مناسب نہیں ہے، نتین یاہو کو ایک نئی سیاسی زندگی دے دی ۔ سچ یہ ہیکہ یہ تشدد ،غزہ پر حملے سب نتین یاہو کی کرسی سے چپکے رہنے کی شیطانی منصوبہ بندی کا ہی حصہ ہیں ۔۔۔ اور امریکہ اس میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے ۔ ’ جنگ بندی‘ ہوچکی ہے مگر اسرائیلی فوج اور پولس کی خون کی پیاس نہیں بجھی ہے ، ان سے فلسطینیوں کی خوشی بھی نہیں دیکھی گئی ۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل کا ’جنگ بندی‘ پر مجبور ہونا ،فلسطینیوں کے لیے خوشی ہی کی بات ہے مگر فلسطینیوں کو اس کے لیے بھی تشدد کا نشانہ بننا پڑا ہے ۔ اسرائیل جیسی بڑی طاقت ، امریکہ کی حمایت کے باوجود ، فلسطینیوں کے عزائم ، جرات اور راکٹ حملوں سے نفسیاتی دباؤ میں تھی۔ اور آج بھی ہے ۔ یہ حماس کی جیت ہے ، یہ اسرائیل کی ہار ہے اور امریکہ کی بھی۔ اس گیارہ روزہ جنگ کے بعد یہ واضح ہیکہ فلسطینی شہید تو ہوجائیں گے گٹھنے نہیں ٹیکیں گے۔ اور مرتے مرتے اسرائیل کو بھی ہرا جائیں گے ۔ لہٰذا دنیا مسئلہ فلسطین کا حل سنجیدگی سے نکالے ۔ اس کا ایک ہی حل ہے ، اسرائیل 1967 سے پہلے کی حد بندی پرچلا جائے اور سارے بیت المقدس کو ساری دنیا کا مشترکہ اثاثہ تسلیم کرلے ۔